وزیر تعلیم سندھ سید سردار علی شاہ کی زیر صدارت محکمہ تعلیم کی اسٹیرنگ کمیٹی کا اجلاس
نیا تعلیمی سال یکم اپریل 2026 سے شروع کرنے اور سال کو “Teach for Trees” کے طور پر منانے کا فیصلہ
کراچی وزیر تعلیم سندھ سید سردار علی شاہ کی زیر صدارت محکمہ تعلیم کی اسٹیرنگ کمیٹی کا اجلاس سندھ اسمبلی اولڈ بلڈنگ کے کمیٹی روم ون میں منعقد ہوا، جس میں نئے تعلیمی سال کے آغاز، اکیڈمک کیلنڈر، امتحانات، تعطیلات، اسکولوں کے اوقات کار اور تعلیم سے متعلق دیگر اہم امور پر فیصلے کیے گئے۔ اجلاس میں وزیر یونیورسٹیز اینڈ بورڈز اسماعیل راہو نے خصوصی شرکت کی۔
اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ سندھ میں نیا تعلیمی سال یکم اپریل 2026 سے شروع ہوگا جبکہ سال 2026 کو “Teach for Trees” کے طور پر منایا جائے گا، جس کا مقصد طلبہ میں شجرکاری اور ماحولیاتی تحفظ کا شعور اجاگر کرنا ہے۔ صوبائی وزیر تعلیم سندھ نے ہدایت دی کہ بچوں کو اسکول یا مخصوص ایریاز میں درخت لگانے اور ان کی نگہداشت کی ترغیب دی جائے تاکہ اسکولوں کو چائلڈ فرینڈلی اور ماحول دوست بنایا جا سکے۔
اجلاس میں گزشتہ تعلیمی سال کے فیصلوں اور ان پر عمل درآمد پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے وزیر تعلیم نے کہا کہ اکیڈمک کیلنڈر پر مؤثر عمل درآمد کو مزید بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے بتایا کہ سال 2025 کو سندھ میں STEAM ایجوکیشن کے طور پر منایا گیا جس کے مثبت نتائج سامنے آئے ہیں، اور اگر سندھ کے تقریباً ایک کروڑ طلبہ ہر سال ایک درخت لگائیں تو ایک کروڑ نئے درخت لگائے جا سکتے ہیں۔
اسٹیرنگ کمیٹی نے فیصلہ کیا کہ رواں سال آٹھویں جماعت تک کے امتحانات معمول کے مطابق مارچ (رمضان المبارک) میں ہوں گے، نویں اور دسویں جماعت کے امتحانات 31 مارچ سے 15 اپریل 2026 تک جبکہ گیارہویں اور بارہویں جماعت کے امتحانات 15 اپریل سے 30 اپریل 2026 تک منعقد کیے جائیں گے۔ انٹرمیڈیٹ کے نتائج یکم جون سے جاری کرنے کی بھی منظوری دی گئی۔
اجلاس میں یہ بھی طے پایا کہ نئے تعلیمی سال میں موسم گرما کی تعطیلات جون اور جولائی میں جبکہ موسم سرما کی تعطیلات دسمبر کے آخری عشرے میں ہوں گی۔ موسمیاتی تبدیلیوں کے پیش نظر تعطیلات میں ممکنہ ردوبدل کے لیے اسٹیرنگ کمیٹی کی سب کمیٹی تشکیل دی جائے گی جو تمام اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کے بعد تجاویز پیش کرے گی، جن کی روشنی میں 2027 کے تعلیمی سال سے متعلق فیصلہ کیا جائے گا۔
اجلاس میں بورڈ امتحانات کے بروقت انعقاد اور نتائج کے اجراء میں تاخیر سے بچنے کے لیے مؤثر اقدامات کی ہدایت کی گئی۔ اس موقع پر تمام تعلیمی بورڈز کو Optical Mark Recognition (OMR) سسٹم کے نفاذ کی ہدایت بھی دی گئی تاکہ امتحانی نظام میں شفافیت اور نتائج کی بہتری ممکن بنائی جا سکے، صوبائی وزیر یونیورسٹیز اینڈ بورڈ اسمائیل راہو نے بورڈ چیئرمین کا ہدایت دی کہ وہ امتحانات کے طریقہ کار میں ٹیکنالوجی استعمال ہو بڑھائیں تا کہ انسانی وسائل کا کم سے کم استعمال ہو سکے اور امتحانات کے نتائج بھی بہتر ہو سکیں۔
صوبائی وزیر تعلیم سید سردار علی شاہ نے کہا کہ اسسمنٹ کا مقصد صرف طلبہ کے نمبر نہیں بلکہ اساتذہ کی تدریسی کارکردگی کا جائزہ لینا بھی ہونا چاہیے۔ اجلاس میں اسکولوں میں کھیلوں اور دیگر ہم نصابی سرگرمیوں کو سالانہ کیلنڈر کا حصہ بنانے کا فیصلہ کیا گیا تاکہ طلبہ کی تخلیقی صلاحیتوں کو فروغ دیا جا سکے۔
اجلاس میں سیکریٹری اسکول ایجوکیشن زاہد علی عباسی، سیکریٹری کالج ایجوکیشن ندیم الرحمان میمن، سیکریٹری یونیورسٹیز اینڈ بورڈز عباس بلوچ، ایم ڈی سندھ ایجوکیشن فاؤنڈیشن گہنور لغاری، سندھ بھر کے تعلیمی بورڈز کے چیئرمینز، ڈویژنل ڈائریکٹرز ایجوکیشن، نجی اسکول ایسوسی ایشنز کے نمائندے اور دیگر متعلقہ افسران نے شرکت کی۔