اسلام آباد میں بانی پی ٹی آئی کی آنکھ کے علاج کے حوالے سے مختلف بیانات سامنے آئے ہیں۔
وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کا علاج خصوصی طبی ادارے میں ماہرین امراض چشم کریں گے اور اس حوالے سے تفصیلی رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کرائی جائے گی۔ انہوں نے زور دیا کہ اس معاملے پر قیاس آرائیوں، بے بنیاد خبروں اور سیاسی رنگ دینے کی کوششوں سے گریز کیا جائے۔
قمر زمان کائرہ نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کو تکلیف ہوئی ہے، سوال اٹھانا ان کی جماعت کا حق ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بروقت علاج کیوں نہیں کرایا گیا اس بات کی تحقیق ہونی چاہیے۔ کائرہ کے مطابق بانی پی ٹی آئی کو پہلے جیل کے ڈاکٹر نے دیکھا اور پھر اسپتال لے جایا گیا۔ انہوں نے وضاحت کی کہ اگر اسپتال لے جانے کا خاندان یا پارٹی کو بتایا جاتا تو سیکیورٹی مسائل پیدا ہوتے۔ کائرہ نے دعا کی کہ بانی پی ٹی آئی کو اللہ صحت دے اور ان کی بینائی 100 فیصد درست ہو۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ سیاسی جماعتوں کو موجودہ نظام پر تحفظات ہیں تو اس پر ڈائیلاگ ہونا چاہیے۔اسلام آباد بار کونسل نے بھی بانی پی ٹی آئی کی طبیعت پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ اعلامیے میں مطالبہ کیا گیا کہ اسپیشلسٹ ڈاکٹرز سے بانی پی ٹی آئی کا طبی معائنہ کروایا جائے، فیملی اور وکلا کو ان تک رسائی دی جائے اور ان کی رپورٹس وکلا و فیملی کے ساتھ شیئر کی جائیں۔ بار کونسل نے کہا کہ صحت اور انسانی وقار سے متعلق آئینی حقوق کے تحفظ اور جیل ضوابط پر مکمل عمل ہونا چاہیے۔ اعلامیے میں مزید کہا گیا کہ سیاسی وابستگی سے بالاتر ہوکر ہر قیدی کے حقوق ہوتے ہیں۔