ٹک ٹاکر سارا بلوچ اور اُن کے شوہر عبدالجبار جکراڻي پر دوبارہ حملہ کیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق ایئرپورٹ تھانے کی حدود میں اسپیشل فورس روڈ پر فاروق جکراڻي نے اپنے چاچا عبدالجبار جکراڻي پر تشدد کیا، جس سے وہ زخمی ہوگئے۔ پولیس نے فاروق جکراڻي کو گرفتار کر کے تھانے منتقل کیا۔
عبدالجبار جکراڻي نے بیان دیا کہ یہ سب ٹک ٹاک ویڈیوز بنانے پر ہوا ہے، اور چونکہ حملہ آور اُن کا رشتہ دار ہے، اس لیے وہ قانونی کارروائی نہیں کریں گے۔ دوسری جانب سارا بلوچ نے الزام لگایا کہ اُنہیں ٹک ٹاک بنانے سے روکا جا رہا ہے، حتیٰ کہ اُن پر اجتماعی زیادتی اور ویڈیو بنانے کا واقعہ بھی اسی وجہ سے پیش آیا۔ اُن کا کہنا تھا کہ بڑے افسران اور سیاستدانوں کے بچے بھی ٹک ٹاک بناتے ہیں، لیکن اُنہیں کوئی نہیں روکتا، تو پھر اُنہیں کیوں روکا جا رہا ہے؟
سارا بلوچ نے مزید الزام لگایا کہ پیپلزپارٹی ہاری کمیٹی لاڑکانہ ڈویژن کے صدر دیدار جکراڻي اُن کی کردار کشی کر رہے ہیں اور سوشل میڈیا پر اُن کے خلاف پروپیگنڈا کر رہے ہیں۔ عبدالجبار جکراڻي نے کہا کہ اُن کی اہلیہ کو ٹک ٹاک بنانے سے روکنے کے لیے اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا، جس میں دیدار جکراڻي کا بھائی خادم جکراڻي مرکزی ملزم ہے۔ اب دیدار جکراڻي بھی دھمکیاں دے رہا ہے کہ وہ ٹک ٹاک ویڈیوز نہ بنائیں۔
زوجین نے مطالبہ کیا کہ پیپلزپارٹی شہیدوں کی جماعت ہے، اس لیے بلاول بھٹو زرداری اور آصفہ بھٹو زرداری اس معاملے کا نوٹس لیں اور انصاف فراہم کریں۔