نیب کراچی کی بحریہ ٹاون کے خلاف کارروائی۔ بحریہ ٹاون ٹو کی تمام زمین اور بحریہ ٹاون کراچی میں ملک ریاض حسین کی حویلی منجمد۔ تیرہ سو سے زائد ایکٹر قبضہ شدہ زمین بھی منجمد کردی۔
نیب کراچی کا بحریہ ٹاون کے خلاف ایکشن۔ قومی احتساب بیورو نےبحریہ ٹاؤن ٹو کی مکمل تین ہزار ایک سو پچاس ایکڑ زمین منجمد کر دی۔اراضی کو مبینہ طور پر دھوکہ دہی کے ذریعے خریدا گیا تھا ۔بحریہ ٹاؤن ٹو محکمہ جنگلات کی زمین پر تعمیر کیا گیا ہے۔ بحریہ ٹاون کراچی میں بحریہ ٹاون کے بانی و چیئرمین ملک ریاض حسین کی ذاتی رہائش کےلیے تعمیرحویلی کو بھی منجمد کردیا گیا۔ سڑسٹھ ایکڑ پر پھیلی حویلی علی ولا،،، ان کےبیٹےکےنام پر بحریہ ہلز،بحریہ ٹاؤن کراچی میں واقع ہے۔اس میں جدید ترین سہولیات ہیلی پیڈ، منی چڑیا گھر، سوئمنگ پولز وغیرہ شامل ہیں۔
نیب کراچی کےمطابق دو نئی انکوائریوں میں نیب نے تیرہ سو اڑتیس ایکڑ اراضی بھی منجمد کر دی۔ الزام ہے بحریہ ٹاؤن کراچی نے زمین پر ناجائز قبضہ کیا ہوا ہے۔اس زمین پر بحریہ گرینز اور مختلف رہائشی پروجیکٹ تعمیر کیےجانے تھے۔یہ اراضی حکومتِ سندھ کی ملکیت ہے ۔ نیب کراچی نے بحریہ ٹاؤن کراچی کے حقوق کسی تیسرے فریق کو منتقل کرنے سے روکنے کے احکامات بھی جاری کردیئے۔ نیب پہلے ہی احتساب عدالت کراچی میں ریفرنس دائر کر چکا ہے۔ ریفرنس میں ضلع ملیر کی سترہ ہزار چھ سو بہتر ایکڑ سرکاری زمین کی غیرقانونی اورناجائز تبدیلی وخردبرد کےالزامات شامل ہیں۔ زمین کی مالیت سات سو آٹھ ارب روپے بتائی گئی ہے۔