“دیواروں کے اُس پار”
رات کے پچھلے پہر
سینٹرل جیل کی بیرک نمبر سات میں
نیند کبھی پوری نہیں اترتی۔
وہ صرف تھکن کی طرح انسان پر گر جاتی ہے۔
لوہے کی سلاخوں کے اُس پار
کراچی ابھی بھی جاگ رہا تھا۔
کہیں ڈمپر کسی موٹر سائیکل کو روند رہا تھا۔
کہیں پوش علاقے میں موسیقی چل رہی تھی۔
کہیں ایک بچہ بھوک سے رو رہا تھا۔
اور کہیں
کوئی باپ اپنے بیٹے کی جیب سے پڑیا نکال کر خاموش بیٹھا تھا۔
شہر زندہ تھا۔
اور زندہ شہروں کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہوتا ہے
کہ وہ مرنے والوں کو یاد نہیں رکھتے۔
پنکی فرش پر بیٹھی تھی۔
دیوار کے ساتھ کمر لگائے۔
آنکھیں کھلی ہوئی۔
ساتھ والی قیدی عورت نے پوچھا:
“سوتی نہیں؟”
پنکی نے دھیرے سے کہا:
“جن لوگوں کی زندگی خبر بن جائے…
اُنہیں نیند کم آتی ہے۔”
خاتون ہنس دی۔
“خبر؟ یہاں تو سب بدنام ہیں۔”
پنکی نے پہلی بار اُس کی طرف غور سے دیکھا۔
وہ پچپن سال کی عورت تھی۔
بال آدھے سفید۔
ہاتھوں پر جلنے کے نشان۔
“تم کس کیس میں ہو؟” پنکی نے پوچھا۔
“شوہر کو مارنے کے۔”
“مارا تھا؟”
“ہاں۔”
خاموشی۔
پھر اُس عورت نے بالکل سادہ لہجے میں کہا:
“پچیس سال مارتا رہا۔
ایک دن میں نے بھی مار دیا۔”
پنکی نے کوئی حیرت ظاہر نہیں کی۔
کیونکہ کراچی میں
عورتیں اکثر قتل ایک دن میں نہیں کرتیں۔
وہ برسوں میں قتل تک پہنچتی ہیں۔
باہر حوالدار آواز لگا رہا تھا:
“سب اندر رہو!”
لوہے پر ڈنڈا مارنے کی آواز گونجی۔
اور پنکی کو اچانک یاد آیا—
بچپن میں اُس کی ماں بھی برتن اسی طرح پٹخا کرتی تھی۔
غریب گھروں میں
غصہ اکثر چیزوں پر نکالا جاتا ہے۔
لوگوں پر نہیں۔
صبح عدالت لے جانے والی گاڑی آئی۔
وہی بکتر بند موبائل۔
وہی دھاتی دروازہ۔
وہی اندر بسی ہوئی پسینے، خوف اور سگریٹ کی ملی جلی بو۔
ایک نوجوان کانسٹیبل نے ہتھکڑی لگاتے ہوئے آہستہ کہا:
“باجی… ایک بات پوچھوں؟”
پنکی نے ہاتھ آگے کرتے ہوئے کہا:
“پوچھ لو۔”
“آپ واقعی اتنی خطرناک ہیں جتنا ٹی وی والے بولتے ہیں؟”
پنکی چند لمحے اُسے دیکھتی رہی۔
پھر بولی:
“تم واقعی اتنے ایماندار ہو جتنا وردی کہتی ہے؟”
کانسٹیبل خاموش ہوگیا۔
ساتھ بیٹھا سپاہی زور سے ہنس پڑا۔
“اوئے جواب مل گیا؟”
لیکن وہ نوجوان نہیں ہنسا۔
کیونکہ اُس نے پہلی بار محسوس کیا تھا
کہ سوال ہمیشہ دوسروں کے بارے میں نہیں ہوتے۔
عدالت کے باہر آج پہلے سے زیادہ رش تھا۔
کچھ لوگ صرف ویڈیو بنانے آئے تھے۔
کچھ عورتیں اُسے دیکھ کر بددعائیں دے رہی تھیں۔
کچھ مرد موبائل اوپر کیے مسکرا رہے تھے۔
“یہی ہے پنکی!”
“ارے تصویر بنا!”
“اتنی سیدھی لگتی ہے!”
“سیدھے لوگ ہی خطرناک نکلتے ہیں!”
معاشرہ عجیب ہوتا ہے۔
وہ عورت کو دو ہی کردار دیتا ہے:
فرشتہ۔
یا فاحشہ۔
درمیان میں انسان کے لیے جگہ بہت کم بچتی ہے۔
ایک رپورٹر میک اپ درست کرتے ہوئے لائیو گیا:
“ناظرین! آج ہم موجود ہیں اُس عورت کے مقدمے میں جس نے کراچی کے نوجوانوں کو تباہ کردیا—”
پنکی چلتے چلتے رک گئی۔
رپورٹر گھبرا گیا۔
وہ اُس کے قریب آئی۔
اتنی قریب کہ کیمرہ اُس کی آنکھوں تک بھر گیا۔
“بھائی…”
اُس نے نرمی سے پوچھا،
“تمہارے چینل پر رات دو بجے جو نشے کی گولیاں اشتہار بن کر چلتی ہیں…
اُن سے نوجوان آباد ہوتے ہیں؟”
رپورٹر کا رنگ اڑ گیا۔
کیمرہ فوراً دوسری طرف ہوگیا۔
کیونکہ میڈیا سچ دکھانا چاہتا ہے
بس شرط یہ ہے
کہ سچ اسپانسر کے خلاف نہ ہو۔
عدالت کے اندر آج گرمی زیادہ تھی۔
پنکھے چل رہے تھے مگر ہوا نہیں تھی۔
جج فائلیں دیکھ رہا تھا۔
سرکاری وکیل تیاری میں مصروف تھا۔
پولیس والے موبائل پر ویڈیوز دیکھ رہے تھے۔
اور کمرے کے کونے میں
ایک بوڑھی عورت تسبیح پڑھ رہی تھی۔
وہ پنکی کی ماں تھی۔
آج پہلی بار آئی تھی۔
پنکی نے اُسے دیکھا۔
بس دیکھا۔
کچھ رشتے اتنے زخمی ہوجاتے ہیں
کہ اُن میں لفظ داخل نہیں ہوسکتے۔
جج نے کارروائی شروع کی۔
“استغاثہ اپنا مؤقف پیش کرے۔”
سرکاری وکیل کھڑا ہوا۔
“ملزمہ معاشرے کے لیے خطرہ ہے۔
اس کے نیٹ ورک نے سینکڑوں نوجوان تباہ کیے”
اچانک پیچھے سے آواز آئی:
“میرے بیٹے کو بھی!”
سب مڑے۔
ایک آدمی کھڑا تھا۔
آنکھیں سرخ۔
بال بکھرے ہوئے۔
“میرا بیٹا مر گیا!”
وہ چیخا۔
“نشہ کرتا تھا!”
عدالت میں خاموشی چھا گئی۔
وہ آدمی پنکی کو گھور رہا تھا۔
“تو نے مارا اُس کو!”
پنکی نے پہلی بار نظریں جھکا لیں۔
کمرہ اُس لمحے فیصلہ چاہتا تھا۔
ایک ولن۔
ایک مجرم۔
ایک آسان نفرت۔
لیکن زندگی آسان نہیں ہوتی۔
پنکی نے آہستہ پوچھا:
“پہلی سگریٹ بھی میں نے دی تھی؟”
آدمی خاموش۔
“پہلی مار کس نے ماری تھی اُس کو؟”
خاموشی۔
“پہلی بار گھر سے بھاگا کیوں تھا؟”
آدمی کے ہونٹ کانپنے لگے۔
پنکی کی آواز اب دھیمی تھی۔
“میں قصوروار ہوں۔
شاید بہت ہوں۔
لیکن ہر لاش کا قاتل وہ نہیں ہوتا
جو آخری زہر دیتا ہے۔”
بوڑھا آدمی بیٹھ گیا۔
چہرہ دونوں ہاتھوں میں چھپا لیا۔
اور عدالت میں پہلی بار
لوگوں نے غصے سے زیادہ تھکن دیکھی۔
پھر جج نے پنکی سے پوچھا:
“تم نے یہ راستہ کیوں چنا؟”
وہ ہنس دی۔
بہت آہستہ۔
بہت خالی ہنسی۔
“جناب…
غریب لوگ راستے نہیں چنتے۔
راستے انہیں چن لیتے ہیں۔”
جج خاموش رہا۔
کیونکہ وہ خود بھی غریب گھر سے نکلا تھا۔
فرق صرف اتنا تھا
کہ اُسے کتاب مل گئی تھی۔
پنکی کو بھوک۔
باہر بارش شروع ہوگئی۔
کراچی کی بارش ہمیشہ شہر کو صاف نہیں کرتی۔
صرف کیچڑ اوپر لے آتی ہے۔
عدالت برخاست ہوئی۔
واپسی پر تھانے میں ایک نیا افسر بیٹھا تھا۔
تازہ وردی۔
تیز لہجہ۔
آنکھوں میں اختیار کا نشہ۔
“بڑی فلسفی بنتی ہے؟”
اُس نے فائل بند کرتے ہوئے کہا۔
پنکی خاموش رہی۔
افسر قریب آیا۔
“تم لوگوں کی وجہ سے معاشرہ خراب ہے۔”
پنکی نے اُس کے کاندھے پر لگا بیج دیکھا۔
پھر میز پر رکھا مہنگا فون۔
پھر دراز میں چھپی پڑیا۔
جو پوری طرح چھپی نہیں تھی۔
“معاشرہ…”
وہ آہستہ بولی،
“صاحب معاشرہ کوئی الگ چیز نہیں ہوتا۔
ہم سب مل کر بنتے ہیں۔”
افسر کا چہرہ سخت ہوگیا۔
“بکواس بند کرو!”
“کیوں؟”
پنکی نے پوچھا۔
“سچ سن کر غصہ آتا ہے؟”
افسر نے تھپڑ مار دیا۔
کمرے میں آواز گونجی۔
ایک لمحے کو سب خاموش ہوگئے۔
پھر معمول واپس آگیا۔
کیونکہ ہمارے معاشرے میں
عورت پر ہاتھ اٹھانا
اب حادثہ نہیں رہا۔
عادت بن چکا ہے۔
ساتھ کھڑی لیڈی کانسٹیبل نے نظریں جھکا لیں۔
وہ جانتی تھی
اگر بولی
تو اگلی باری اُس کی ہوسکتی ہے۔
رات کو بیرک میں واپس آکر
پنکی کافی دیر خاموش بیٹھی رہی۔
پھر اُس نے اچانک پوچھا:
“یہاں سب عورتیں مجرم ہیں؟”
کسی نے جواب دیا:
“نہیں۔
کچھ صرف عورتیں ہیں۔”
بیرک میں ہلکی ہنسی پھیلی۔
پھر خاموشی۔
ایک نوجوان لڑکی سسک رہی تھی۔
“کیس کیا ہے تمہارا؟” پنکی نے پوچھا۔
“گھر سے بھاگ گئی تھی۔”
“بس؟”
“ابا نے اغوا کا پرچہ کٹوا دیا۔”
پنکی نے سر دیوار سے ٹکا دیا۔
اور کافی دیر آنکھیں بند رکھیں۔
پھر آہستہ بولی:
“اس ملک میں
عورت اگر مار دی جائے تو مسئلہ عزت کا بنتا ہے۔
اور اگر زندہ اپنی مرضی سے جی لے…
تو مسئلہ قانون کا بن جاتا ہے۔”
دور کہیں اذان ہورہی تھی۔
جیل کی راہداری میں ایک بلب ٹمٹما رہا تھا۔
اور اُس زرد روشنی میں
پنکی نہ ہیروئن لگ رہی تھی
نہ ولن۔
صرف ایک انسان۔
ایسا انسان
جو معاشرے کے سارے گناہوں کا مرکز تو بن گیا تھا
مگر آغاز کبھی اکیلا نہیں تھا۔
رات گہری ہوگئی۔
کراچی اب بھی جاگ رہا تھا۔
ٹی وی پر ٹاک شو چل رہے تھے۔
“سخت سزا ہونی چاہیے!”
“معاشرتی ناسور!”
“اخلاقی تباہی!”
اور انہی پروگرامز کے وقفے میں
فئیرنیس کریم،
آن لائن بیٹنگ ایپس،
نیند کی گولیاں
اور قرض دینے والے اشتہار چل رہے تھے۔
یہ شہر واقعی عجیب تھا۔
یہ ہر زہر بیچتا تھا
بس نام الگ الگ رکھ دیتا تھا۔