ایک بڑی جیت کےلیے چھوٹی چھوٹی باتیں برداشت کرنی پڑتی ہیں، سندھو نواز گھانگھرو

عرفان علی عرفان علی

   ایک بڑی جیت کےلیے چھوٹی چھوٹی باتیں  برداشت کرنی پڑتی ہیں، سندھو نواز گھانگھرو


فروری میں ہونے والے عام انتخابات میں اس بار سندھ بھر سے متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والی چند ایسی بہادر خواتین بھی سیاسی میدان میں روایتی مرد سیاست دانوں، وڈیروں اور جاگیرداروں کا مقابلہ کرتی دکھائی دیں گی جو سندھ کے شعور میں اپنے سماجوں کاموں کی وجہ سے پہلے ہی مشہور ہیں لیکن چوں کہ وہ بہادر خواتین ہیں،

اس لیے انتخابی دنگل سجنے سے قبل ہی ان کے خلاف سوشل میڈیا سمیت سیاسی جلسوں میں نامناسب زبان استعمال کرکے ان کی کردار کشی کیے جانے کا امکان ہے۔


روایتی اس معاشرے میں جب کوئی خاتون امیدوار انتخابات میں مرد کے مد مقابل کھڑی ہوتی ہے تو پھر سب سے پہلے اس کی کردار کشی کی جاتی ہے

نازیبا الفاظ کا استعمال کیا جاتا اورتضحیک آمیز رویہ اختیار کیا جاتا ہے


سندھو نواز گھانگھرو نے چہرہ ڈیجیٹل کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ کسی ایک کو تبدیلی بہتری کے لیے آگے آنا ہوگا اگر حقیقی تبدیلی لانی ہے تو۔

سندھو نواز گھانگھرو کاتعلق نوشہروفیروز،کنڈیارو سے ہے۔

سندھو نے لاہور نیشنل آف آرٹس سے فلم ڈائریکشن میں گریجویشن کیاہے۔

نوشہرو فیروز کنڈیارو پی ایس 32سے آزاد امیدوار کے طور پر انتخابات لڑ رہی ہیں ۔

کہتی ہیں ہم ایک روایتی سماج میں رہتے ہیں اس کا حصہ ہے۔

ایک عورت کا سیاست کرنا بہت ہی اس کے لیے مشکل کام ہوتا ہے۔

جب ایک خاتون غریب گھرانے یا مڈل کلاس سے تعلق رکھتی ہے تو انہیں اس نظر سے دیکھا جاتا ہے کہ وہ شادی کریں بچے پیدا کریں گھر سبھالے شوہر کا خیال رکھیں گھر کا کام کریں ۔

خواتین کا گھر سے باہر نکلنا مردوں کو اچھا نہیں لگتا۔عورت کا اس سماج میں سیاست کرنامشکل عمل ہے وہ تبدیلی کے خواب دیکھتی ہے انہیں کٹھن راہ سے گزرنا پڑتاہے۔

مڈل کلاس خاتون ہوکر سیاست کرنا سب سے مشکل کام ہوتاہے۔

وہ مردوں کی سوچ کو چیلنج کرتی ہیں۔انکےلیے ذیادہ مشکل ہوتاہے۔ہم اس معاشرے کا حصہ ہے جہاں الیکشن میں صرف ایلیٹ ہی حصہ لے سکتاہے۔

وہ کسی نواب سردار وڈیرے کا بیٹا بیٹی ہو تو ہی کامیاب ہوسکتا ہے۔

اگر آپ مڈل کلاس طبقے سے ہے تو آپ کےلیے آپ کے خاندان کے لیے مزید مشکلات بڑھ جاتی ہے۔

ناممکن تو کچھ بھی نہیں تبدیلی تو لازمی لانی ہے ۔

ایک چیلنج اسٹیٹس کوہ کو چیلنج کرنا بہت ضروری ہے۔کیونکہ ہم ایک غلام معاشرے کی ذہنیت سے تعلق رکھتے ہیں جو چلا آرہا ہے ٹھیک ہے۔ہم میں سے تبدیلی کےلیے کسی نہ کسی کو یہ چیلنج قبول کرنا تھا تو میں آگے بڑھ کر آئی ہو مشکلات ہے پریشانیاں ہے لیکن لڑنا تو ہے ان سب سے اور آگے بڑھنا ہوگا۔

میں ایک عرصے سے سیاست کرتی آرہی ہو عورت ہوکر باہر نکلنا بہت مشکل ہے ہمارا تعلق سرمایہ دار طبقے سے نہیں ۔

میرا خیال ہے میں سمجھتی ہوں عورت کو جو سب سے ذیادہ کمزور کیا جاتا ہے وہ انکی کردار کشی کرکے انہیں کمزور کیا جاتا ہے جو انہیں سب ذیادہ ٹارگٹ کیا جاتا ہےانکے بارے میں غلط پروپیگنڈہ کرکے غلط باتیں کرکے یہ بہت مشکل ہو جاتا ہے سب کو برداشت کریں جب میں سیاست کی ۔

سب سے پہلے ہمارے کپڑوں پر بات کی جاتی تھی ۔پھر زندگی گزارنے کے طریقہ کار پر بات کی جاتی تھی۔

باقی جو بھی غلط الزامات لگائے جاتے تھے۔تو یقینا اس سارے عمل میں تکلیف ہی ہوتی ہے۔اس سے عورت کو اپنے سے ذیادہ اپنے گھر والوں کی فکر ہوتی ہے وہ جب یہ باتیں سنے گے تو انکے اوپر کیا گزرے گی ۔اگرہم نے معاشرے کو تبدیل کرنا ہے تو ہمیں ان سب چیزوں سے گزرنا پڑے گا۔

تاکہ آنے والی لڑکیوں کےلیے کوئی راہ ہموار ہو راستہ کھلے۔میں عوامی سیاست کرتی آئی ہوں لوگوں کےلیے آواز اٹھاناانکےلیے لڑناہم نےسیاست میں اب عملی حصہ لیاہےتو ہرسو پریشانی تکلیفیں ہیں ہم کنڈیارو میں کام کرتے ہیں وہاں ایک بات  سننے کو باربار ملتی ہےکہ  آپ عورت ہے آپ کا کام تو نہیں سیاست کرنا احتجاج کرنا کسی کرپٹ افسر کے خلاف بات کرنا مظاہرہ

کرنا ۔ہمیں کہا جاتا ہے آپ کا کام نہیں اسکول کی بہتری ی کی  باتیں کریں بنیادی صحت کے لیے آواز بلند کریں آپ عورت ہے گھر پر رہے ۔


یہ بھول جاتے پاکستان پیپلز پارٹی سے جن کا تعلق ہے بے نظیر بھٹو شہید بھی ایک عورت تھی مسلم لیگ ن کی رہنما مریم نواز بھی ایک عورت ہے۔

اگرعورت فریال تالپور زرداری کی بہن کے روپ میں ہو یا بیٹی یا پھر کسی بھی نواب سردار گھرانے کی یو تو ہی سیاست کرسکتی ہیں ۔

اگر آپ بڑی گاڑی میں آئیں آگے پچھے گارڈز ہو تمام ایم این اے اور ایم پی اے آپ کے آگے پچھے ہوں تو ہی آپ کامیاب ہونگے۔

ہماری طرح مڈل کلاس کی عورت سیاست نہیں کرسکتی ۔تبدیلی کے عمل میں بارش کا پہلا قطرہ کسی کو تو بننا ہے پھر میں نے اپنا انتخاب کیا میدان میں آئی ہوں مشکلات ہے راہ کھار ہے

ننگے پاؤں انگاروں، کانٹوں، دہکتے کوئلوں کی آگ سے گزرنا تو ہوگا آگے بڑھنا تو ہوگا۔


میں خواتین سے کہتی ہوں اپنے آپ کو پہنچانے آپ کو رب نے صلاحیت دی تبدیلی بہتری کی سب اچھا کرنے کی آگے بڑھے ۔

اپنے لیے خودراستہ چنے اس منزل کو پانے کےلئے کردار کشی بھی ہوگی باتیں بھی ہونگی ۔ شروع میں مشکلیں ہے جب آپ منزل تک پہنچ جاتے ہےوہ ساری چیزیں وہ سارا مشکل وقت آپ بھول جاتے ہیں آپ کو پھر وہ منزل ہی نظر آتی ہے۔

باقی لوگ بھی پھر آپ کو سراہتے ہیں ان سارے پروسیس کو ان ساری چیزوں کو برداشت کرنا پڑے گا

کیونکہ ایک بڑی جیت حاصل کرنےکےلیےتو یہ چھوٹی چھوٹی باتیں انسان کو برداشت کرنی پڑتی ہیں ۔

لیکن ہارنا نہیں منزل کو حاصل کرنا ہے۔