وفاقی وزیر داخلہ رانا ثناءاللہ نے لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہاہےکہ گورنر کو اختیار حاصل ہے کہ وہ کبھی بھی وزیراعلی کو اعتماد کے ووٹ کا کہہ سکتے ہیں۔
انکا کہناتھاکہ نئے وزیر اعلی کے لئے مسلم لیگ ن نے مشاورت مکمل نہیں کی
جو بھی لیڈر شپ فیصلہ کرے گی وہی وزیر اعلی ہو گا
صدر ماتھے پہ بیٹھی مکھی نہیں اڑا سکتا جب تک وزیر اعظم کی ایڈوائس نہ ہو، گورنر کو ہٹانا دور کی بات
اجلاس جب بھی ہوگا وزیر اعلی کے انتخاب کا ہوگا انکا کہناتھاکہ
اعتماد کے ووٹ لینے میں ناکامی کے بعد وزیر اعلی اسمبلی توڑنے کی ایڈوائس دے ہی نہیں سکتا
اگر اعتماد کا ووٹ نہیں لیتے تو آئینی تقاضا پورا کیا جائے گارانا ثناء اللہ نےکہاکہ
میری یہ پوزیشن نہیں کہ گورنر کو ڈائریکشن دوں ڈی نوٹیفائی کرنے کی
ہم نے الیکشن کی تیاری شروع کر رکھی ہے، نواز شریف کی واپسی کی تیاری بھی شروع کر رکھی یے
یہ ساری آڈیو ویڈیو اصلی ہیں، پی ٹی آئی بھی آپس میں بیٹھ کر ہنسی مذاق میں اصلی ہونے کو تسلیم کرتے ہیں
نواز شریف نے جب بھی آنا ہوا تو تاریخ وہ خود دیں گے
میری رائے میں آج وزیراعلی کو ڈی نوٹی فائی ہونا چاہئے لیکن میں گورنر کو ڈائریکشن نہیں دے سکتا