کراچی میں روز بروز بڑھتے اسٹریٹ کرائم ،،قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے چیلنج۔

عرفان علی عرفان علی

کراچی میں روز بروز بڑھتے اسٹریٹ کرائم ،،قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے چیلنج۔

کراچی میں روز بروز بڑھتے اسٹریٹ کرائم ،،قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے چیلنج۔۔۔رواں سال شہر میں   اسٹریٹ کرائم کی وارداتیں72ہزار سے تجاوز کرگئیں ۔ سی پی ایل سی کے اعداد وشمار نے سنگین صورتحال  سے پردہ اٹھا دیا۔

کراچی میں اسٹریٹ کرمنلز کو قابو کرنا جوئے شیر لانے کے مترادف۔۔۔سڑکوں پر دندناتے لٹیروں نے لوٹ مار کے ریکارڈ توڑ دئیے۔۔۔سال 2021 کے 11 ماہ میں اسٹریٹ کرائم کی وارداتیں 72ہزار 189 تک جا پہنچی ہیں۔۔۔سی پی ایل سی کے اعدادو شمار بتارہے ہیں کہ رواں برس کراچی والوں کو 47ہزار 148 موٹرسائیکلوں اور 23ہزار 124سے موبائل فونز سے محروم کیا جاچکا ہے۔۔

جنوری تا نومبرسال 2021 میں  شہریوں کی19سو سے زائد گاڑیاں بھی چوری اور چھینی  جاچکی ہیں ۔۔سی پی ایل سی اعدادو شمار کے مطابق گذشتہ برس کے 11 ماہ میں اسٹریٹ کرائم کی 55ہزار 587واراتیں رپورٹ ہوئی تھیں ۔ سال 2020 میں  موٹر سائیکل چوری کی31999جبکہ چھیننے کی 2228 وارداتیں ہوئی تھیں۔ گذشتہ برس کراچی والوں  کو 19ہزار 780موبائل فونز اور 1580گاڑیوں سے محروم کیا گیا تھا۔۔

گذشتہ سال کے مقابلے میں رواں برس موٹر سائیکل چھیننے کی وارداتوں میں 86فیصد  جبکہ   چوری میں 34فیصد اضافہ ہوا۔گاڑی چوری کے واقعات بھی 21 فیصدجبکہ چھیننے کے 19فیصد بڑھ گئے۔ اسلحے کے زور پر موبائل فون چھیننے کی وارداتیں بھی 17فیصد واداتیں زیادہ ہوئیں۔