“وہ سات جو عید تک نہ پہنچ سکے”

عمران عمران

“وہ سات جو عید تک نہ پہنچ سکے”




کوئٹہ کی سرد راتوں میں ہوا کبھی سیدھی نہیں چلتی۔
وہ ہمیشہ کسی ماں کی آہ، کسی بیوہ کی خاموشی، کسی بچے کی ادھوری ضد کو اپنے ساتھ اُڑا کر لے جاتی ہے۔
چمن پھاٹک کے آس پاس بھی اُس رات ہوا کچھ بوجھل تھی… جیسے آسمان پہلے ہی جانتا ہو کہ چند گھنٹوں بعد زمین اپنے سینے میں سات خواب دفن کرنے والی ہے۔

ٹرین پلیٹ فارم پر کھڑی تھی۔
لوگوں کی آوازیں، چائے والوں کی صدائیں، بچوں کی ہنسی، بوڑھوں کی کھانسی… سب زندگی کے چھوٹے چھوٹے ثبوت تھے۔

اور انہی آوازوں کے بیچ سات سپاہی بیٹھے تھے۔

کوئی ہیرو نہیں تھا۔
کوئی ولن نہیں تھا۔
صرف انسان تھے… اپنے اپنے یقین، اپنے اپنے دکھ، اپنی اپنی ماؤں کے ساتھ۔


رشید لغاری نے جیب سے پرانا موبائل نکالا۔
ویڈیو کال پر اُس کی ماں نظر آئی۔ ماتھے پر پسینہ، پیچھے کچی دیواروں والا صحن۔

“اماں، عید پر اس بار بڑی والی سویاں بنانا۔”

ماں ہنس دی۔
“پہلے آ تو جا میرے بچے۔ پچھلی عید بھی ڈیوٹی کھا گئی تھی تجھے۔”

رشید نے نظریں چرا لیں۔
“اس بار آ جاؤں گا۔ اور سن… اس دفعہ کپاس اچھی ہوئی ہے نا؟”

ماں نے آہستہ کہا،
“ہاں… اللہ نے کرم کیا ہے۔ سوچ رہی ہوں فلاح کی شادی کی بات آگے بڑھا دوں۔”

سکینہ… رشید کی چھوٹی بہن۔
جس کے جہیز کے لیے ماں نے اپنی جوانی کے آخری کنگن بھی بیچ دیے تھے۔

“اور اُس کی پڑھائی؟” رشید نے پوچھا۔

“بیٹا، غریب گھر میں لڑکیوں کے نصیب میں کتابیں کم، رخصتی زیادہ لکھی جاتی ہے…”

رشید خاموش ہوگیا۔

کبھی کبھی غربت اتنی مہذب ہوتی ہے کہ چیختی نہیں…
بس خاموشی سے خواب ذبح کرتی رہتی ہے۔



قربان جتوئی کھڑکی سے باہر دیکھ رہا تھا۔
بلوچستان کے پہاڑ اندھیرے میں ایسے لگ رہے تھے جیسے کسی فقیر نے کالی چادر اوڑھ رکھی ہو۔

اُس کے ساتھ والی نشست پر بیٹھا نذیر سومرو بار بار تھیلے کو ٹٹول رہا تھا۔

“کیا دیکھ رہا ہے؟” قربان نے پوچھا۔

نذیر ہنس پڑا۔
“بیٹی کے لیے چوڑیاں لی ہیں۔ ڈر لگتا ہے ٹوٹ نہ جائیں۔”

“نام کیا ہے اُس کا؟”

“حنا۔ پانچ سال کی ہے۔ کہتی ہے ابا عید پر مجھے لال جوتے چاہئیں۔”

نذیر کی آنکھیں چمک اٹھیں۔

“اور لے آیا؟”

“نہیں…”
وہ ہنسنے کی کوشش کرتے ہوئے بولا،
“پہلے سوچا جوتے لے لوں، پھر حساب لگایا تو ابو کی دوائی رہ جاتی۔”

وہ خاموش ہوگیا۔

لوئر مڈل کلاس آدمی ہمیشہ حساب میں زندہ رہتا ہے۔
کبھی خواہش منہا کرتا ہے، کبھی علاج۔



دوسرے ڈبے میں جمیل چانڈیو اپنے بوڑھے باپ کی تصویر دیکھ رہا تھا۔

اُس کے والد پچھلے تین سال سے فالج زدہ تھے۔
ہر فون پر ایک ہی بات کہتے:

“جلدی آ جا بیٹا… تیرا چہرہ دیکھنا ہے۔”

جمیل ہر بار ہنس کر کہتا،
“ابا، ابھی تو پوری زندگی پڑی ہے باتوں کے لیے۔”

لیکن زندگی کبھی کبھی کنجوس سوداگر ہوتی ہے۔
وہ برسوں کا وعدہ دیتی ہے… اور اگلے لمحے سانس واپس لے لیتی ہے۔



ٹرین آہستہ آہستہ چمن پھاٹک کی طرف بڑھ رہی تھی۔

کہیں ایک بچہ سو گیا تھا۔
کہیں ایک عورت اپنے شوہر کے کندھے پر سر رکھے بیٹھی تھی۔
کہیں کوئی سپاہی اپنی وردی تہہ کر رہا تھا کہ گھر جا کر بچے ڈر نہ جائیں۔

ان سب کے بیچ آصف مہر نے جیب سے ایک خط نکالا۔

وہ خط زینب کا تھا۔

“واپس آؤ گے تو ابو سے بات کرلوں گی…”

بس ایک جملہ۔

مگر اُس جملے میں پوری زندگی بسی تھی۔

آصف نے خط چوم کر جیب میں رکھا۔

اُسے کیا خبر تھی کہ کچھ محبتیں نکاح تک نہیں پہنچتیں…
وہ سیدھا قبرستان چلی جاتی ہیں۔



رات کے آخری پہر آسمان بہت خاموش ہوگیا۔

اتنا خاموش… جیسے فرشتے بھی سانس روک کر کھڑے ہوں۔

پھر

ایک دھماکہ۔

ایسا جیسے زمین کا سینہ پھٹ گیا ہو۔

آگ کا ایک دہکتا ہوا پھول ٹرین کے بیچوں بیچ کھلا۔
لوہا چیخا۔
شیشے بارش بن کر گرے۔
انسانی جسم ہوا میں ایسے اچھلے جیسے کسی نے مٹی کے کھلونے دیوار پر دے مارے ہوں۔

اور پھر…

چیخیں۔

ایسی چیخیں جنہیں سن کر شاید آسمان نے بھی اپنا منہ دوسری طرف موڑ لیا ہوگا۔



رشید کا موبائل جلتے فرش پر پڑا تھا۔

اسکرین پر اب بھی “اماں کالنگ” لکھا آرہا تھا۔

دوسری طرف ماں بار بار کہہ رہی تھی:

“ہیلو؟
رشید؟
آواز کیوں نہیں آرہی بیٹا؟”

مگر اِس بار بیٹے کے حصے میں خاموشی لکھی جا چکی تھی۔



نذیر کے ہاتھ میں چوڑیوں کا ڈبہ تھا۔

شیشے کی سب چوڑیاں ٹوٹ چکی تھیں۔

بالکل اُس کی پانچ سالہ بیٹی کے عید کے خوابوں کی طرح۔



جمیل کا جسم شناخت سے باہر تھا۔
صرف جیب سے نکلی ایک پرانی تصویر نے بتایا کہ وہ کون تھا۔

اُس کے بوڑھے باپ نے لاش دیکھ کر پہلے کچھ نہیں کہا۔

بس کافی دیر تک دیکھتے رہے۔

پھر کپکپاتی آواز میں بولے:

“میں نے تو اِس سے ابھی بہت سی باتیں کرنی تھیں…”

یہ جملہ کہہ کر وہ ایسے روئے جیسے کسی نے صدیوں پرانا درخت جڑ سے اکھاڑ دیا ہو۔



کوئٹہ کے اسپتال اُس رات قیامت کے میدان لگ رہے تھے۔

فرش پر خون تھا۔
دیواروں پر دھواں تھا۔
ماؤں کے بال بکھرے تھے۔
بچوں کی ہچکیاں تھیں۔

ایک عورت بار بار ہر اسٹریچر کے پاس جا کر چہرہ دیکھتی اور کہتی:

“یہ میرا نہیں…
یہ بھی میرا نہیں…”

پھر جب اپنا مل گیا تو وہ چیخی بھی نہیں۔

بس زمین پر بیٹھ گئی۔

کبھی کبھی دکھ انسان سے آواز بھی چھین لیتا ہے۔


سارنگ نے بھائی کا خون آلود بیگ سینے سے لگا لیا۔

جہیز کی لسٹ اُس کے ہاتھ سے گر گئی۔

اُسے پہلی بار سمجھ آیا کہ غریب گھروں میں مرنے والا صرف ایک آدمی نہیں ہوتا…
اُس کے ساتھ پورا مستقبل دفن ہوجاتا ہے۔


زینب نے آصف کا آخری خط قبر پر رکھ دیا۔

بارش ہورہی تھی۔

سیاہی پھیل رہی تھی۔

بالکل اُس کی زندگی کی طرح۔

وہ دیر تک قبر کے پاس بیٹھی رہی۔

پھر آہستہ سے بولی:

“تم واپس تو آئے ہو… مگر ایسے نہیں جیسے میں نے دعا کی تھی…”



عید آگئی۔

گاؤں میں بچے نئے کپڑے پہن کر نکلے۔
مسجدوں میں تکبیریں ہوئیں۔
لوگ گلے ملے۔

مگر سندھ کے اُن سات گھروں میں عید داخل نہ ہوسکی۔

وہ دروازے پر کھڑی بہت دیر روتی رہی…
پھر واپس چلی گئی۔

ایک گھر میں سویاں ٹھنڈی ہوگئیں۔
ایک گھر میں چوڑیاں بغیر پہنے پڑی رہیں۔
ایک بوڑھا باپ دروازے کی طرف دیکھتا رہا… جیسے ابھی اُس کا بیٹا اندر آئے گا اور کہے گا:

“ابا، آج دل بھر کے باتیں کرتے ہیں…”

مگر قبرستانوں سے واپس آنے والوں کے پاس وقت نہیں ہوتا۔



بلوچستان کے پہاڑ آج بھی وہیں کھڑے ہیں۔

ہوا آج بھی چلتی ہے۔

ٹرینیں آج بھی گزرتی ہیں۔

مگر چمن پھاٹک کے آس پاس رات کبھی پہلے جیسی نہیں ہوئی۔

کہتے ہیں بعض دھماکے صرف جسم نہیں اڑاتے…
وہ نسلوں کی نیندیں بھی تباہ کر دیتے ہیں۔

اور کچھ زخم ایسے ہوتے ہیں
جنہیں وقت نہیں بھرتا…
صرف انسان اُن کے ساتھ جینا سیکھ لیتا ہے۔