کراچی، 30 جون 2026
پنجاب صوبے سے تعلق رکھنے والے 29ویں پبلک پالیسی اینڈ گورننس کورس کے 34 افسران پر مشتمل وفد نے اپنے اسٹڈی وزٹ کے دوران چیف سیکریٹری سندھ سید آصف حیدر شاہ سے ملاقات کی۔ یہ کورس بی ایس-18 سے بی ایس-19 میں ترقی کے لیے منعقد کیا جا رہا ہے۔ اس موقع پر چیف سیکریٹری سندھ آصف حیدر شاہ نے وفد کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ سندھ حکومت نے توانائی، رہائش، پبلک سیفٹی، انفراسٹرکچر، پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ، ڈیزاسٹر مینجمنٹ اور سماجی ترقی کے شعبوں میں کئی اہم اور تاریخی منصوبے مکمل کیے ہیں، جنہیں نہ صرف صوبائی بلکہ وفاقی سطح پر بھی مؤثر انداز میں اجاگر کرنے کی ضرورت ہے۔ چیف سیکریٹری سندھ نے کہا کہ تھر کول اور سندھ پیپلز ہاؤسنگ فار فلڈ افیکٹیز جیسے منصوبے سندھ حکومت کے طویل المدتی وژن، ادارہ جاتی ہم آہنگی اور ترقیاتی گورننس کی نمایاں مثالیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سندھ میں پی ڈی ایم اے اور ریسکیو 1122 کے ذریعے ایک منظم ڈیزاسٹر مینجمنٹ اور ایمرجنسی رسپانس نظام قائم کیا گیا ہے، جبکہ فائر اینڈ ریسکیو سروسز کو بھی اپ گریڈ کرنے کے عمل پر کام جاری ہے۔
وفد کو بتایا گیا کہ سندھ پولیس پاکستان کی دوسری بڑی پولیس آرگنائزیشن ہے، جس کی منظور شدہ نفری 170,696، موجودہ ورکنگ اسٹرینتھ 134,234، 31 اضلاع، 618 پولیس اسٹیشنز اور مجموعی بجٹ 193.1 ارب روپے ہے۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ صوبے میں جرائم کے کئی بڑے اشاریوں میں بہتری آئی ہے، دہشت گردی کے بڑے واقعات 2025 اور 2026 میں صفر رہے، جبکہ ڈکیتی، گاڑیوں کی چھینا جھپٹی اور موٹر سائیکل اسنیچنگ میں بھی کمی کا رجحان سامنے آیا ہے۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ کراچی میں یکم جنوری سے 22 جون 2026 تک اسٹریٹ کرائم میں گزشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں 9.59 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔ اسی طرح ڈکیتی کے دوران قتل اور زخمی ہونے کے واقعات میں مجموعی طور پر 38.83 فیصد کمی ہوئی۔
منظم جرائم کے خلاف کارروائیوں سے متعلق وفد کو بتایا گیا کہ 2026 میں 15 جون تک سندھ پولیس نے منشیات کے خلاف 6,603 چھاپے مارے، 7,004 مقدمات درج کیے اور 8,480 ملزمان کو گرفتار کیا۔ گٹکا اور ماوا کے خلاف کارروائیوں میں 7,476 مقدمات درج کیے گئے جبکہ 9,443 ملزمان کو گرفتار کیا گیا۔
وفد کو بتایا گیا کہ سندھ کی آبادی تقریباً 55.7 ملین ہے، یہ پاکستان کا سب سے زیادہ شہری آبادی رکھنے والا صوبہ ہے، جہاں تقریباً 54 فیصد آبادی شہری علاقوں میں رہتی ہے، جبکہ سندھ ملک کی دوسری بڑی صوبائی معیشت بھی ہے۔ پلاننگ اینڈ ڈیولپمنٹ ڈپارٹمنٹ صوبے کی مرکزی منصوبہ بندی اتھارٹی ہے، جو صوبائی وسائل سے چلنے والے 10 ارب روپے تک کے ترقیاتی منصوبوں کی منظوری دیتی ہے۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ سندھ حکومت نے ترقیاتی پورٹ فولیو کو سندھ ڈیولپمنٹ پورٹ فولیو مینجمنٹ سسٹم اور بجٹ بک مینجمنٹ سسٹم کے ذریعے ڈیجیٹلائز کیا ہے۔ مالی سال 2026-27 کے سالانہ ترقیاتی پروگرام کی تشکیل پہلی مرتبہ مکمل طور پر ڈیجیٹل طریقے سے کی گئی، جس سے شفافیت، ٹریس ایبلٹی اور شواہد پر مبنی منصوبہ بندی کو فروغ ملا ہے۔ پلاننگ اینڈ ڈیولپمنٹ ڈپارٹمنٹ نے بتایا کہ سندھ میں 27 غیر ملکی فنڈڈ منصوبے زیر عمل ہیں، جن کی مجموعی مالیت 1,942.76 ارب روپے ہے۔ ان منصوبوں میں تقریباً 88 فیصد فنانسنگ فارن پروجیکٹ اسسٹنس کے ذریعے جبکہ باقی حصہ حکومت سندھ کی جانب سے فراہم کیا جا رہا ہے۔ صوبہ ورلڈ بینک، ایشیائی ترقیاتی بینک، اسلامی ترقیاتی بینک، اے آئی آئی بی، اے ایف ڈی، یورپی یونین، یو ایس ایڈ، جائیکا، اقوام متحدہ کے اداروں اور گرین کلائمیٹ فنڈ سمیت اہم ترقیاتی شراکت داروں کے ساتھ کام کر رہا ہے۔
سندھ پیپلز ہاؤسنگ فاؤنڈیشن نے وفد کو سندھ پیپلز ہاؤسنگ فار فلڈ افیکٹیز منصوبے پر بریفنگ دی، جسے دنیا کا سب سے بڑا ہاؤسنگ انیشی ایٹو قرار دیا گیا۔ وفد کو بتایا گیا کہ اس منصوبے کا فنڈنگ پورٹ فولیو تقریباً 2.2 ارب امریکی ڈالر ہے اور یہ بین الاقوامی شراکت داروں کے تعاون سے نافذ کیا جا رہا ہے۔ وفد کو بتایا گیا کہ اس منصوبے کے تحت 1.65 ملین بینک اکاؤنٹس کھولے گئے، 1.6 ملین گھر زیر تعمیر ہیں اور 1 ملین گھر مکمل کیے جا چکے ہیں۔ یہ منصوبہ نہ صرف سیلاب متاثرہ خاندانوں کو محفوظ اور پائیدار گھر فراہم کر رہا ہے بلکہ مالی شمولیت، خواتین کو بااختیار بنانے اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے میں بھی اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ سندھ پیپلز ہاؤسنگ منصوبہ پاکستان کی تاریخ میں سب سے بڑی اثاثہ منتقلی کی مہمات میں سے ایک ہے، جس کے ذریعے خاص طور پر خواتین مستفید ہو رہی ہیں۔ منصوبے کے تحت تقریباً 1 ملین روزگار کے مواقع پیدا ہوئے، 39,345 ولیج ری کنسٹرکشن کمیٹیز تشکیل دی گئیں، جبکہ لاکھوں خاندانوں کو بینکنگ نظام سے منسلک کیا گیا ہے۔
سوال و جواب کے سیشن کے دوران وفد کے شرکاء نے کہا کہ انہوں نے اپنے دورے کے دوران سندھ میں ہاؤسنگ، تھر کول اور پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ منصوبوں میں نمایاں اور قابلِ ستائش کام دیکھا ہے، تاہم ان اہم کامیابیوں کو اس انداز میں اجاگر نہیں کیا گیا جس کی وہ مستحق ہیں۔ اس پر چیف سیکریٹری سندھ سید آصف حیدر شاہ نے کہا کہ تھر کول اور سندھ پیپلز ہاؤسنگ جیسے منصوبے حکومت سندھ کے بڑے اور تاریخی اقدامات ہیں، جنہیں نہ صرف صوبائی بلکہ وفاقی سطح پر بھی مؤثر انداز میں projected اور promote کرنے کی ضرورت ہے تاکہ ملک بھر میں سندھ کے ترقیاتی ماڈل کو بہتر طور پر اجاگر کیا جا سکے۔
وفد نے جامع بریفنگ پر چیف سیکریٹری سندھ اور متعلقہ محکموں کا شکریہ ادا کیا اور سندھ حکومت کے پبلک پالیسی، گورننس، ترقیاتی منصوبہ بندی، پولیسنگ، ہاؤسنگ اور ادارہ جاتی اصلاحات کے اقدامات کو سراہا۔