سندھ کابینہ کا صوبے میں وفاقی پی اے ایس افسروں کی ایک سو پچیس آسامیاں خالی ہونے پر تشویش کا اظہار۔


سندھ کابینہ کا  صوبے میں وفاقی   پی اے ایس افسروں  کی ایک سو پچیس آسامیاں خالی ہونے پر تشویش کا اظہار۔

 

کراچی، عرفان علی

سندھ کابینہ کا  صوبے میں وفاقی   پی اے ایس افسروں  کی ایک سو پچیس آسامیاں خالی ہونے پر تشویش کا اظہار۔  اکیس  سے انیس گریڈ  تک کی آسامیوں پر  نچلے گریڈ کے افسروں کی تعیناتی کی منظوری دے دی۔سندھ میرج ریسٹرینٹ ایکٹ اور اس کے رولز سندھ چائڈ پروٹیکشن اتھارٹی میں ضم کرنے کی بھی منظوری دی گئی۔

وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ  کی زیر صدارت صوبائی کابینہ کا  اجلا س  ہوا۔کابینہ کو  بتایا گیا کہ    سندھ میں وفاقی حکومت کے گریڈ   21 کی 16 آسامیوں  میں   11 خالی ہیں۔گریڈ 20 کی 67  میں سے  48  ،گریڈ   19 کی 59   میں سے  34  اور  گریڈ  18 کی 85  میں سے  32 آسامیاں خالی ہیں۔  صوبے میں وفاقی  پی اے  ایس افسروں  کی مختلف گریڈکی 125 پوسٹس خالی ہونے سے  کام متاثر ہو رہا ہے۔کابینہ نے   گریڈ بی ایس 21 کی آسامیوں پر  گریڈ  20 کے افسروں کو لگانے کی منظوری دی۔ گریڈ بی ایس 20 کی 47 پوسٹس کو  بھرنے کی بھی  منظوری دی گئی۔اب گریڈ بی ایس 18 کے سینئر افسراں کو گریڈ بی ایس 20 کی پوسٹس پر لگایا جا سکے گا۔

اجلاس میں   سندھ میرج ریسٹرینٹ ایکٹ اور اس کے رولز سندھ چائڈ پروٹیکشن اتھارٹی میں ضم کرنے کی منظوری دی گئی۔ سندھ چائلڈ پروٹیکشن اتھارٹی سوشل ویلفیئر ڈپارٹمنٹ کا حصہ ہے۔ وزیراعلیٰ نے اندرون سندھ  ٹرانسفارمرز  جلنے  کے  معاملہ پر واپڈا اتھارٹیز سے  بات کرنے کی ہدایت دی۔ ان کا کہنا تھا کہ لوڈشیڈنگ  کا مسئلہ  متعلقہ کمپنی کے ساتھ اٹھا یا جائے۔ سندھ کابینہ نے صوبے میں زرعی پانی کی کمی پر تشویش کا اظہار  اور   لنک کینالوں کو بند کرنے کا مطالبہ کیا۔