چہرہ ویب ڈیسک
نواب اکبر بگٹی محراب خان کے ہاں 12 جولائی 1927 میں پیدا
ہوئے لاہور کے ایچی سن کالج سے تعلیم حاصل کی اس کے بعد اعلی تعلیم آکسفورڈ
سے لی انیس سو اننچاس میں انہوں نے حکومت کی خصوصی اجازت سے پاکستان سول سروس
اکیڈمی سے پی اے ایس (اب سی ایس ایس) کا امتحان دیے بغیر تربیت حاصل کی بعد میں وہ
سندھ اور بلوچستان کے شاہی جرگہ کے رکن نامزد ہوئے
1986 میں اپنے قبیلے کے
19وہیں سردار بنے
1951 میں بلوچستان کے گورنر جنرل کے مشیر مقرر ہوئے
1958 میں وزیر مملکت کے
طور پر وفاقی کابنینہ میں شامل ہوئے
1960 میں نیشنل
عوامی پارٹی سے سیاست کا آغاز کرنے اور فیلڈ مارشل ایوب خان کے دور میں قید و بند
کی صوبتیں برداشت کرنے والے اور 1988 میں رکن صوبائی اسمبلی جبکہ1989 سے
اگست 1990 تک وزیر اعلی بلوچستان رہنے والے نواب اکبر بگٹی26 اگست 2006
میں 79 سال کی عمر میں کوہلو کے علاقے ترتانی دھماکے میں 37 ساتھیوں سمیت
شہید ہوئے
قتل کا مقدمہ بلوچستان ہائی کورٹ کے حکم پر 2009 میں درج کیا گیا
2012 میں نواب اکبر بگٹی قتل کیس سبی کی عدالت سے کوئٹہ کے
انسداد دہشت گردی کی عدالت میں منتقل ہوا
11جولائی 2012 کو انسداد
دہشت گردی کی عدالت نے اکبر بگٹی کیس میں سابق صدر پرویز مشرف کے وارنٹ گرفتاری
جاری کئے
13 جولائی 2013 میں مشرف
کی گرفتاری عمل میں لائی گئی مگر جلد ہی ضمانت ہو گئی جس کے بعد بھی کیس کی
سماعت جاری رہی جمیل بگٹی کی جانب سے سہیل راجپورت جبکہ مشرف کی جانب سے
اختر شاہ ، آفتاب شیر پاو کے وکیل زیشان الیاس چیمہ اور شعیب کی جانب سے فاروق
احمد ایڈووکیٹ نے کیس کی پیروی کی تاہم سرکاری وکیل تیمور احمد
تھے
ساڑھے تین
سال کے دوران کیس کی 40 سے زائد سماعتیں ہوئیں
2015 کے دوران
مشرف، آفتاب شیر پاو اور شعیب نوشیروانی کے وکلاء نے انسداد دہشت گردی کی
عدالت میں 265 کے تحت مقدمے سے بریت کی درخواستیں دیں جہنیں عدالت نے
مسترد کر دیا
جس کے خلاف تینوں
فریقین نے بلوچستان ہائی کورٹ سے رجوع کیا تاہم عدالت عالیہ
نے درخواستوں کی مختصر سماعت کے بعد انہیں نمٹاتے ہوئے دوبارہ متعلقہ کورٹ
سے رجوع کرنے کی ہدایت دی
18 جنوری 2016 کیس میں سابق صدر پرویز مشرف سمیت سابق وفاقی وزیر
آفتاب شیر پاو اور سابق صوبائی وزیر داخلہ شعیب نو شیروانی کی بریت کی
درخواست منظور کرتے ہوئے انسداد دہشت گردی عدالت کے جج جان محمد گوہر نے نامزد
تینوں ملزمان کو بری کر دیا جبکہ عدالت نے نواب اکبر بگٹی قتل کیس میں نامزد تین ملزمان سابق وزیر
اعظم شوکت عزیز، سابق گورنر بلوچستان اویس احمد غنی اورسابق ڈی سی ڈیرہ بگٹٰی عبدالصمد لاسی کے دائمی وارنٹ
جاری کرتے ہوئے ان کی گرفتاری تک مقدمے کو سردخانے میں رکھنے کاحکم دیاتھا۔