کراچی،عرفان علی
کراچی چڑیا گھر اور سفاری پارک میں ہاتھی رکھنا، نہ تو ظلم ہے نہ غیر قانونی۔ چار ہاتھی صحت مند اور بالکل ٹھیک ہیں۔ کے ایم
سی کے ڈپٹی ڈائریکٹر نے عدالت میں جواب
جمع کرادیا۔ درخواست گزار کی مہم کو
ملک مخالف سرگرمی قرار دے دیا۔
سندھ ہائی کورٹ میں کراچی چڑیا گھر اور سفاری
پارک میں موجود چار ہاتھیوں کی حالت سے متعلق درخواست کی سماعت ہوئی۔ڈپٹی ڈائریکٹر کے ایم سی خالد صدیقی نے اپنا جواب میں بتایا ہے کہ کراچی چڑیا گھر اور سفاری پارک سات دہائیوں
سے عوام کو تفریح فراہم کررہے ہیں۔ہاتھیوں کے معائنے کے لئے ماہرین باقاعدہ وزٹ
کرتے رہتے ہیں۔ ہتھنی ملکہ کی ایڑیوں میں رواں سال جنوری ،فروری میں دراڑیں پڑ گئیں تھیں،، جو،،، اب بالکل ٹھیک
ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ درخواست
گزار نے بغیر کسی ثبوت کے الزاماے عائد
کئے ہیں۔انہیں ہاتھیوں کے معائنے کی
اجازت دی گئی تھی۔ وہ عدالت کو دھوکہ دے کر اپنی مرضی کے نتائج حاصل اور کے ایم سی
کو بدنام کرنا چاہتے ہیں۔درخواست گزار
ہاتھیوں کے حوالے سے مہم چلا کر اپنی ویب سائٹ پر فنڈز جمع کررہے ہیں۔ ان کی مہم
ملک مخالف سرگرمیوں میں شمار ہوتی ہے۔ عدالت اگر چاہے تو آزدانہ انکوائری کراسکتی
ہے یا ویٹرنری ڈپارٹمنٹ،زرعی یونیورسٹی ٹندو جام یا کسی بھی ماہر سے رپورٹ منگوائی
جاسکتی ہے۔اگر ہاتھیوں کو کسی غیر ملکی ماہرین سے معائنے کی ضرورت ہوئی ،،تو کے ایم
سی اپنے خرچ پر معائنے کرائے گی۔