کراچی، حیا ضُحیٰ
حوصلے جن کے جواں ہوں, منزلیں جن کی عیاں ہوں,
امید پیہم ہو, یقینِ محکم ہو, خواب کو پھر تعبیر
کر ہی لیتے ہیں, ہر زنجیر کو توڑ کر آزادی کو پھر حاصل کر ہی لیتے ہیں... یہ وہی
سپوتِ وطن ہوتے ہیں جن کے جذبوں میں صدق ہو, ہمت پہاڑ کی چٹان جیسی ہو, محنت میں
خلوص پنہاں ہو, کردار خودی کی عملی تفسیر ہو, نظریں منزل پہ ہوں, اڑان بھریں تو ہر
رکاوٹ کو عبور کر آسمان و زمیں پہ آزادی کا عَلم لہرا جائیں اور اسلام کا سر بلند
کرجائیں. آج سے چوہتر برس پہلے ایسے ہی ایک قافلے کو منزلِ راہ ملی تھی, ریاضتوں
کا انعام ملا تھا جس کے حصول کے لیے لہو, آبروئیں, زر و زمین بھی گنوانے دینے کے
باوجود جب آزاد فضا میں پہلی سانس لی تو اس سانس میں جذبہ شکر نمایاں تھا اور بہت
کچھ لٹ جانے کے بعد بھی عزم و حوصلہ ہر چیز پہ بھاری تھا.
ارضِ پاکستان ان کے تشکر کے آنسو کی مقروض ہے.
تشکیلِ پاکستان آسان نہیں تھا, نہ یہ کوئی ماضی
کی داستان ہے بلکہ یہ ہماری تاریخ کا وہ تاریک و تابناک دور تھا جب قربانی و کامیابی
کے ملے جلے جذبات نے وہ باب رقم کیا جس کے نتیجے میں ہم آج آزاد فضا میں سانس لے
رہے ہیں. مشیتِ ایزدی تھی اور ہمارے آباؤاجداد کی بے لوث جدوجہد جو ان کی نسلیں اس
غلامی کی جکڑوں سے آزاد ہیں مگر ہم... ہم کس چیز کی آبیاری کر رہے ہیں اپنی نسلوں
کے لیے؟ ہم کون سا پاکستان تعمیر کر رہے ہیں؟ چوہتر سال کم عرصہ نہیں ہوتا کسی بھی
ملک کی بہتر تعمیر اور فلاح کے لیے. مگر
اب بھی ہم کہاں کھڑے ہیں!
فقط جینا اور مرنا زندگی نہیں. اس دنیا میں ہم
نے کام کیا کیے؟ یہ جو ملک ہماری جھولی میں آیا ہے اس کی نشو نما میں ہمارا کردار
کیا ہے؟ سوچیے... احتساب کیجیے کہ سوچنے سے ذہن کھلتا ہے اور بہتری کی راہیں ملتی
ہیں.
سر سید احمد خان کی دور اندیشی اور زباں و علم کی
ترویج, اقبال کا فکر و فلسفہ, لیاقت علی خان کی شجاعت و فہم, اور قائد اعظم کا لیڈرانہ
وصف ساتھ ہی اتحاد, یقینِ محکم اور تنظیم کا درس؛ آج پاکستانیوں کو ان ہی اوصاف پہ
اپنا کردار قائم کرنے کی ضرورت ہے تاکہ اس قوم کے لیے بہترین کردار ادا کرسکیں.
آزادی کا جب سورج طلوع ہوا تھا تو پاک سر زمین
پہ لاکھوں جبینوں نے مٹی کو فرطِ جذبات سے بوسہ دیا اور تشکر کے, غم کے تمام اشک
سپردِ خاک کرکے اس قوم کو روشن کرنے کی اور عروج کی منازلیں نئی جہت شروع کی. اپنے
ماضی کو یاد رکھا, مگر اس میں اٹکے نہ رہے بلکہ اس سے سبق لے کے اس قوم کے مستقبل
کے لیے ہر میسر وسائل کو صرف کرنے کی سعی کی.
آج ہمیں بھی ان کے نقشِ قدم پہ چل کر پاکستان کو
واقعی میں لا الٰہ کا مسکن بنانا ہے. مگر کیسے؟ ہماری مستقل مزاجی سے. آپ جو بھی ہیں,
اس معاشرے میں آپ کا جو بھی کردار ہے اس میں صدق پیدا کریں, اپنی نیتوں کو خالص کریں,
اپنی سوچ کو وسعت دیں اور محنت کو اپنا شعار بنائیں.
یقین محکم, عمل پیہم, محبت فاتح عالم
جہادِ زندگانی میں ہیں یہ مردوں کی شمشیریں
پاکستان کا عَلم تو 14 اگست 1947 کو لہرا دیا
تھا اب وقت ہے دنیا پہ اپنی عظمت کے جھنڈے گاڑنے کا, تشکیلِ پاکستان کے بعد اب تکمیلِ
پاکستان کی! اور یہ سوچنے کے لیے فقط 14 اگست کا دن ہی نہیں ہے ہاں مگر آپ اس روز
احتساب ضرور کریں اور پھر اپنی جانب سے اس چمن کی بہاروں کے لیے کوشاں ہو کہ,
فرد قائم ربطِ ملت سے ہے تنہا کچھ نہیں
موج ہے دریا میں بیرونِ دریا کچھ نہیں
یاد رکھیں ایک ہوں گے
تو آگے بڑھیں گے ورنہ زوال کی داستانوں سے تو تاریخ بھری ہے!
پاکستان زندہ باد!
پاکستان پائندہ باد!