اسٹیٹ بینک آف پاکستان نےشرح سود میں 25 بیسزپوائنٹس
کا اضافہ کرتےہوئےاسے7 اعشاریہ 25 فیصد کردیا ہے۔مسلسل 8 ماہ 7 فیصد پرمستحکم
رکھنےکےبعد مانیٹری پالیسی کمیٹی نے25 بیسززپوائنٹس کا اضافہ کردیا۔
اسٹیٹ بینک آف پاکستان نےآئندہ 2 ماہ کیلئےشرح
سود کا فیصلہ کرلیا۔۔ گورنراسٹیٹ بینک رضا باقرکی سربراہی میں مانیٹری پالیسی کمیٹی
کا اجلاس ہوا،، جس میں فیصلہ کیا گیا کہ شرح سود 25 بیسززپوائنٹس تک بڑھادی جائے۔
شرح سود کو7 اعشاریہ 25 فیصد کردیا گیا۔
ہماری اکنومک ریکوری بہت پائیدارانداز سے آگےچل
رہی ہے اور جس رفتار سے ہماری بحالی ہو رہی
ہے وہ ایم پی سی کی جو پچھلی ایکسویکٹیشن تھی اس سے زیادہ ہے
اس سےقبل اسٹیٹ بینک کی جانب سےکورونا
وبااورلاک ڈاؤن کو دیکھتےہوئےشرح سود کو
مسلسل 4 بار7 فیصدپرمستحکم رکھا گیا تھا۔۔پالیسی کمیٹی کا کہنا ہےکہ پاکستان میں
کووڈ کی تازہ ترین لہر قابو میں ہے۔ ویکسی نیشن میں مسلسل پیش رفت ہورہی ہے۔
انفلیشن کی جو مین ریزن ہے اس کے لیےڈسٹروٹیٹ سسٹم کو صحیح کرنا ہوگا
مارکٹ فورسسز کو مکمل کرایا جائے نا کہ انہیں اڈوانٹیج ملے کھانے کا تیل ساڑھے تین
سو تک پہنچا ہوا ہے چینی ایک سو دس کی ہے
آٹے کی قیمت مسلسل بڑھ رہی ہے
پیٹرولیم مصنوعات۔ گاڑیاں۔ سیمنٹ سمیت لارج اسکیل
مینوفیکچرنگ کےشعبوں میں بہتری ریکارڈ کی گئی ہے۔ پیٹرولیم ڈولپمنٹ لیوی اور پٹرولیم
مصنوعات پر سیلز ٹیکس میں کمی کی وجہ سے انرجی سیکٹر کی سرکاری قیمتوں میں مسلسل
کمی آئی ہے۔ جاری کھاتے کا خسارہ جولائی میں بڑھ
کر صفر اعشاریہ آٹھ ڈالر اور اگست
میں ایک اعشاریہ پانچ ارب ڈالر ہوگیا۔