ملکی تاریخ میں ایک بارپھرڈالرکی اونچی اڑان

نزاہت خان نزاہت خان

ملکی تاریخ میں ایک بارپھرڈالرکی اونچی اڑان

ملکی تاریخ میں ایک بارپھرڈالرکی اونچی اڑان۔۔ ستمبرکےمہینےمیں ڈالرنےایک بارپھرنیاریکارڈ قائم کرلیا۔۔ ڈالرانٹربینک میں 170 روپے66 پیسوں تک ٹریڈ ہونےکےبعد دوبارہ گراوٹ کا شکارہے۔

بیرونی قرضوں کی ادائیگیاں۔۔ بیلنس آف پیمنٹس ۔۔ اورڈالرکی خریدوفروخت میں اضافہ۔۔ روپےکوبےقدرکرگیا۔۔

ماہرین کہتےہیں کہ ستمبرکےمہینےمیں ڈالرنےایک بارپھرتاریخی بلندی کوچھولیا۔۔ 30 ستمبرکوڈالرنےنیاریکارڈ بناتےہوئے170 روپے66 پیسوں کی سطح کوچھولیا۔۔

ظفرپراچہ جنرل سیکریٹری آل پاکستان کرنسی ڈیلرزایسوسی ایشن کہتے ہیں کہ حکومت پاکستان سےگزارش ہے کہ اس وقت ان حالات کودیکھیں بہت خراب حالات ہیں۔۔۔ڈالرکاریٹ بڑھنےسےملک میں افرتفری شرو ع ہورہی ہے۔۔۔مہنگائی بڑھ گئی ہے۔۔۔اس وجہ اسے اسمگلرفعال ہوگئےہیں۔۔۔

ستمبرکےآخری ہفتےکےپہلےسےقبل 20 ستمبرکواسٹیٹ بینک کی جانب سے مانیٹری پالیسی کا اعلان کیا گیا جسمیں شرح سود کوآئندہ دوماہ کیلئے25 بیسززپوائںٹس بڑھاکر7 اعشاریہ 25 فیصد کردیا گیا۔۔

اسکا براہ راست اثرمقامی مارکیٹ اوراسٹاک ایکسچینج میں بھی دیکھا گیا۔

ڈالرپرپریشرآیا اورڈالرانٹربینک میں آخری ہفتےکےپہلےروز۔۔ ڈالر52 پیسے مہنگاہوگیا جو169 روپے60  پیسوں پربند ہوا۔۔

محمد ادریس میمن۔۔ صدرکراچی چیمبر کہتےہیں کہ  تمام چیزیں ہم امپورٹ کرتےہیں۔۔۔ہماری ایکسپورٹ اتنی زیادہ نہیں ہے۔۔۔تو اس کےبہت ہی منفی اثرات ہونگےآنےوالےدنوں میں ۔۔۔مہنگائی بہت بڑھ جائےگی۔۔۔حکومت کےہاتھ سے چیزیں نکل جائینگی۔۔۔

28 ستمبرکوڈالر37 پیسے مہنگا ہوا۔۔ کاروبار کے دوران انٹربینک میں ڈالر 170 روپےتک ٹریڈ ہوا،29 ستمبرکو ڈالرکی قیمت نےپھراڑان بھری اورڈالر51 پیسےمہنگا ہوکر170 روپے48 پیسوں پربند ہوا۔۔

30 ستمبرکوڈالرنے18 پیسےمہنگا ہوکرنئی بلندترین سطح 170 روپے66 پیسوں پرپہنچ گیا۔۔ یکم اکتوبرکوڈالرکی قیمت نےریورس گیرماراب اسکی قیمت میں پھرگراوٹ دیکھی جارہی ہے۔۔ کاروباری ہفتےکےآخری روزڈالر کی قیمت 170 روپے 48 پیسےہوگئی ہے۔