کراچی میں سٹی کورٹ کےمال خانے سے کروڑوں روپے
مالیت کی غیرملکی شراب غائب کردی گئی اور کسی کوکانوں کان خبر نہ ہوئی ۔۔۔ تین برس
پہلے ہونے والے گھپلے کا بھانڈا چوکیدار کے قتل کی تفتیش کےدوران پھوٹ گیا ۔۔۔تفتیشی
حکام نے دو پولیس افسروں کو بھی قتل میں ملوث قرار دے دیا
رواں سال 8جون کو آئی آئی چندریگر روڈ کی اس
عمارت میں چوکیدار ریاض کا قتل ہوا تو کسی
نے سوچا بھی نہ ہوگا کہ قتل کے تانے بانے
کراچی سٹی کورٹ کے مال خانے سے جا ملیں گے۔۔۔
تحقیقات شروع ہوئیں تو انکشاف ہوا کہ10 نومبر 2018 کو موچکو پولیس کے
ہاتھوں پکڑی گئی کروڑوں روپے مالیت کی غیر ملکی شراب سٹی کورٹ مال خانہ کے انچارج پولیس افسران کی
مبینہ ملی بھگت سے اس عمارت سے فروخت کی
جارہی تھی۔
تفتیشی حکام کا دعویٰ ہے کہ چوکیدار مال خانہ
سے غائب ہونے والی غیر ملکی شراب فروخت کرتا تھا اور ایکسائز پولیس نے بھی مقتول چوکیدار کو کچھ عرصہ قبل گرفتار کرکے
نشاندہی پر 10 کارٹن شراب برآمد کی تھی جبکہ شراب کی خرد برد میں ملوث مال خانہ
انچارج پولیس افسر اور ساتھی کو مبینہ طور پر 7 لاکھ روپے سے زائد رشوت وصو لی کے
عوض چھوڑ دیا تھا۔
مقتول چوکیدار کے ساتھی بھی تصدیق کرتے ہیں کہ
ریاض اس ہی عمارت میں مقیم تھا اور اکثر
لوگ اسے ملاقات کے لئے آتے تھے۔۔
پولیس حکام کا دعویٰ ہے کہ چوکیدار کو شراب کی
مخبری ایکسائز پولیس کو کرنے کے شبہ میں قتل کیا گیا اور انچارج سٹی کورٹ مال خانہ اے ایس آئی فدا محمد ، اے ایس آئی عظمت اور تیسرا
ساتھی ظفر چوکیدار کے قتل میں ملوث ہیں۔
پولیس حکام کے مطابق تینوں ملزموں نے قتل کے مقدمے میں عدالت سے حفاظتی ضمانت کرالی ہے۔