ملک کو ستر فی
صد ریونیو کما کر دینے والےکراچی شہر کے مکین پتھر کے دور کی زندگی بسر کرنے پر
مجبور ،،،،میٹھے پانی کے حصول کے لیے ایک جگہ سے دوسری جگہ پیدل چل کر پانی بھرنا
ان مکینوں کی قسمت میں لکھ دیا گیا ہے 80 سالہ میر کلام خان گزشتہ پندرہ سالوں سے
پانی ڈیڑھ سے دو کلومیٹر پیدل چل کرلاتاہے
یہ کراچی کا
علاقہ لیاری ہے جہاں جدید سہولیات کے فقدان سمیت پانی نایاب ہوچکاہے۔
لاٹھی کے
سہارے چلنے والے اس شخص کی چہرے کی جھریاں
اس کی طویل عمر کی داستان رقم کرتی ہیں سفید بال، جسم کمزور خود لاٹھی کےسہارے چل کر بھی اپنے اہل خانہ کو پیاسا رہنے
نہیں دیتا ۔
یہ 80 سالہ
معمر شخص میرکلام خان ہے جو خندہ پیشانی کے ساتھ اپنے اہل خانہ کے لیے پانی کے
حصول کے لیے گزشتہ 15 سال سے لیاری نیازی
چوک سے مسان چوک کا ڈیڑھ کلومیٹر کا فاصلہ پیدل چل کرطے کرتاہے
لاٹھی کے
سہارے چلنے والے اس شخص کے پانچ بیٹے تھے جن میں سے چار فوت ہوچکے ہیں اور ایک ان
کا واحد سہارا ہے۔پانی کی بھاری بوتیلیں اپنے کاندھوں پر لاد کر لانے والے میر
کلام خان کا کہناہے پندرہ سال پہلے یہاں پانی کی لائن منظور ہوئی تھی لیکن اس میں
بے ایمانی کی گئی اس وجہ سے یہاں پانی نہیں آتا
کراچی میں
صرف لیاری نہیں بلکہ بیشتر علاقوں کو قلت آب
کاسامنا ہے جس کی وجہ سے علاقہ مکین یا تو ٹینکر مافیاکے ہاتھوں بیلک میل
ہوتے ہیں یا پھر پانی کےحصول کے لیے دردر کی ٹھوکریں کھاتے دیکھائی دیتےہیں۔ ۔