سندھ ہائی کورٹ نے کرپٹو کرنسی کی قانونی حیثیت کا جائزہ لینے کے لئے کمیٹی تشکیل دے دی۔ ایف
آئی اے کو ڈیجیٹل کرنسی کا کاروبار کرنے والوں کے خلاف کاروائی سے روک دیا گیا۔
سندھ ہائی کورٹ میں ڈیجیٹل کرنسی کریپٹو پر پابندی کے خلاف درخواست کی
سماعت ہوئی۔ ڈپٹی گورنر اسٹیٹ بینک،ایس ای سی پی ، درخواست گزار اور دیگر حکام
پیش ہوئے۔عدالت نے کہا کہ کمیٹی میں اسٹیٹ بینک،ایس ای سی پی،وزرات خزانہ ،
آئی ٹی اور ،پی ٹی اےکے نمائندے شامل ہیں۔کمیٹی کا پہلا اجلاس پچیس اکتوبر کو ہوگا۔ اس کے بعدہر پندرہ دن میں اجلاس ہوگا۔کمیٹی کی کارروائی خفیہ رکھی
جائے گی۔ اس کا کوئی رکن اس حوالے سے کوئی
پریس ریلیز یا سوشل میڈیا پر بات نہیں کرے گا۔ اگر کوئی کمیٹی کا رکن دستیاب نہ ہو ،،تو کام کو نہ روکا جائے۔ تمام
کمیٹی ارکان سے علیحدہ علیحدہ اور ڈائریکٹر ایف آئی اے سے
بھی آئندہ سماعت پر رپورٹ طلب کرلی۔ درخواست گزار کو ہدایت دی کہ کمیٹی کی معاونت اور اپنی سفارشات دے
۔عدالت نے ایف آئی اے کو ڈیجیٹل کرنسی کا کاروبار کرنے والوں کے خلاف کاروائی سے
روک دیا۔ جبکہ غیر قانونی کام کرنے والے ایکسچینجز کے خلاف ایس ای سی پی کو کارروائی جاری رکھنے کی ہدایت کی۔مزید
سماعت جنور ی کےدوسرے ہفتے تک ملتوی کردی۔