کوئٹہ۔ نیشنل پارٹی کے مرکزی کمیٹی کا اجلاس نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ کی صدارت میں میر کبیر محمد شہی ھاوس کوئٹہ میں منعقد ہوا اجلاس سے مرکزی صدر ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ اور سکریٹری جنرل جان محمد بلیدی اور دیگر رہنماؤں نے خطاب کیا انھوں نے کھاکہ مشکل حالات کے باوجود نیشنل پارٹی کے ساتھیوں نے انتخابی عمل میں جو کردار ادا کیا وہ قابل تعریف ہیں نیشنل پارٹی جمہوری و سیاسی عمل و جدوجہد کا حصہ ہے اور اپنا سیاسی و قومی کردار انتہائی خوش اسلوبی سے ادا کرتا رہے گابلوچستان کے عوام کے معاشی و سیاسی اور قومی حقوق پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گئے نیشنل پارٹی کے قومی مینڈیٹ پر جس طرح ڈاکہ ڈال کر مافیا کو نوازا گیا اس کی ہرگز اجازت نیشل پارٹی نہیں دے گئی پاکستان کے مقتدرہ کی پالیسی بلوچستان کے عوام کے لیے قابل قبول نہیں حکمرانوں نے حالیہ انتخابات میں قوم پرست قیادت کو دیوار سے لگا کر وفاق اور قومی وحدتوں کے درمیان موجود خلیج میں اضافہ کردیا گیا ہے بلوچستان کے عوام کی محرومی اور موجود خلیج وفاق پاکستان کے لیے نیگ شگون نہیں لیکن اس کے باوجود قومی و صوبائی اسمبلی کے لیے طاقتور حلقوں نے بولیاں لگائی ہیں موجودہ ریاستی پالیسیوں نے ملک کو مشکلات میں دھکیل دیا ہے پاکستان کی بڑی سیاسی جماعتیں مسائل کو سیاسی بنیادوں پر حل کرنے کے بجائے طاقتور اداروں کی بی ٹیم کا کردار ادا کرنے پر راضی ہو گئے ہیں بلوچستان کی سیاست کو عملا فاٹا کی طرح ڈھیل کیا جارہا ہے جو انتہائی منفی حکمت عملی ہے بلوچستان کے حالات روز بہ روز خراب ہوتے جارہے ہیں حالیہ انتخابات اور بننے والی حکومتوں میں بلوچستان کی مفاہمتی سیاسی عمل کو فروغ دینے کی صلاحیت موجود نہیں ہے مرکزی کمیٹی کے اجلاس سے سینٹر میر کبیر محمد شہی، رجب علی رند، میر منظور احمد گچکی، جسٹس ر شکیل احمد، سینٹر میر محمد اکرم، سینٹر طاہر بزنجو،رحمت صالح بلوچ، ملک ایوب ، سرفراز خان،اسلم بلوچ، رفیق کھوسہ، میران بلوچ، محراب بلوچ، اور دیگر ساتھیوں نے بھی خطاب کیا۔ اجلاس آج دوسرے روز بھی ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ کی صدارت میں جاری رہے گا۔