آرٹس کونسل کراچی میں مجسمہ
سازانجم ایاز کےمجسموں کی نمائش کا
افتتاح ہوا۔دانشورانورمقصود کا کہنا تھا
کہ انجم پرانے زمانے میں ہوتے تو فرہاد کی
طرح نہر بھی کھود دیتے۔
آرٹس کونسل کراچی میں مجسمہ
سازانجم ایاز کےمجسموں کی نمائش کا
افتتاح ہوا۔
دانشوروادیب انورمقصودانور مقصود کا کہنا تھا کہ انجم پرانے زمانے میں ہوتے تو فرہاد کی طرح نہر بھی کھود دیتے۔ انہوں نے صادقین کے وہ قرض بھی اتارے،، جو واجب نہیں تھے۔
چاہے وہ سڈنی ہو،چاہےپیرس
ہو ٹوکیو ہوہر جگہ آپ کو ایک نہ ایک اسٹریٹ پر انجم کا بنایا ہوا پیس نظر
آجائےگا۔انجم بہت محنت سے کام کرتے ہیں
مجسمہ ساز انجم ایاز نےکہا کہ لوگ کہتے تھے کہ میں ہمیشہ صادقین ہی بناتا رہوں گا،، انجم ایاز نہیں بن سکوں گا۔جو مجسمہ سمجھتا تھا نہیں بکےگا۔ سڈنی میں دس ہزار ڈالر میں فروخت ہوا۔
صادقین نے اسکلپچرکیا نہیں تھا میں نے شروع کیا۔شاہد سجاد کو میں
مانتا ہوں میرا سینیر تھااسکلپچر بہت مشکل کام ہے بہت کم لوگ ہیں راطبعہ آپا بیمار
ہیں اور کوئی کرتا نہیں ہے
ان کا کہنا تھا کہ مجسمہ سازی
بہت مشکل کام ہے۔ انور مقصود نے مجھ سے ہمیشہ میرا مجسمہ خریدا ہے۔