دودھ، دہی، چینی سمیت روز مرہ اشیاء کی قیمتوں
پرقابو نہ پانے کے کیس میں سندھ
ہائی کورٹ نے اٹارنی جنرل اور دیگر سے جواب طلب کرلیا۔
سندھ ہائی کورٹ میں دورا ن سماعت درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ ہورڈنگ اینڈ بلیک
مارکیٹنگ ایکٹ قائد اعظم کے دور سے موجود ہے۔ قائد اعظم نے قیمتیں کنٹرول کرنے کے
لیے یہ ایکٹ انیس سو اڑتالیس میں بنایا تھا۔ ان کی رحلت کے بعد اس قانون کو پس پشت
ڈال دیا گیا۔ ستر سال سے اس قانون پر عمل نہیں
ہورہا اور اسی وجہ سے قیمتوں میں
من مانی چل رہی ہیں۔وکیل نے کہا کہ
دو اداروں کی جنگ میں عوام پس رہیں ہیں۔ یہ
کام کمشنر کا نہیں بیورو آف سپلائی اینڈ پرائیس کنٹرول ڈپارٹمنٹ کا ہے۔سرکاری وکیل
نے عدالت کو بتایا کہ سندھ حکومت نے ڈی جی بیورو آف سپلائی اینڈ پرائیس کا تقرر
کردیا ہے۔ عدالت نے درخواست پر اٹارنی
جنرل پاکستان سمیت دیگر فریقین سے جواب طلب کرلیا۔ آئندہ سماعت نو دسمبر تک ملتوی
کردی گئی۔