کراچی میں ایک اور نوجوان اسٹریٹ کرمنلز کی گولیوں کا
نشانہ بن گیا۔بلدیہ ٹاؤن میں لوٹ مار کے
دوران گولی لگنے سے جاں بحق انیس سالہ مہتاب
کو سپردخاک کردیا گیا۔ غم سے نڈھال باپ اوراہل خانہ کہتےہیں کہ وارداتیں عام ہوگئی ہیں لیکن حالات
میں کوئی بہتری نہیں آرہی۔
جس بیٹے کی
انگلی تھام کر اسے چلنا سکھایا ،، اسے
کاندھا دے کر لحد میں اتارنا،، کیسا
کربناک لمحہ ہوتا ہے،، لفظ اسے بیان کرنے سے قاصر ہیں۔
یہ والد ہیں
19 سالہ مہتاب کے جوہفتےکی شام اسٹریٹ
کرائم کی واردات کا نشانہ بن گیا۔۔
مہتاب کی تدفین
بلدیہ 7 نمبرقبرستان میں کردی گئی۔۔ بوڑھا باپ کہتا ہےاسکا سہاراچھن گیا۔
میرےساتھ
جوہواہےاس تلکیف کا اندازہ کوئی نہیں لگا سکتا۔۔ میرابچہ بہت لائق تھا میٹرک کرلیا
تھاآگےپڑھنا چاہتا تھا،، بہت مشکل صورتحال ہےمیرےلئے
انتہائی غریب
علاقےمیں رہنےوالامہتاب۔۔ بہن بھائیوں میں
تیسرےنمبرپرتھا۔۔ بڑا بھائی کہتا ہےمہتاب ،،،اپنے اخلاق کی وجہ سےہرایک کی آنکھ
کا تاراتھا۔۔
وہ آگےپڑھنا
چاہتا تھا۔۔ ہرایک اسےپسند کرتا تھا۔۔ وہ گلی محلےکےکام کاج میں بڑھ چڑھ کرحصہ لیتا
تھا
اہل علاقہ
کہتےہیں گزشتہ 2 ہفتے سےوارداتیں بڑھ گئی ہیں۔ملزمان کھلےعام اسلحہ لہراتےآتےہیں
اورلوٹ مارکرکےباآسانی فرار ہوجاتےہیں۔۔
علاقےمیں
بڑھتی وارداتوں اورملزمان کی گرفتاری نہ
ہونےسےمتعلق علاقہ ایس ایچ اوسےبات کرنےکی کوشش کی تو،،انھوں نےمؤقف دینےسےمعذرت کرلی۔