چئیرمین پاک سرزمین پارٹی نےبلدیاتی قانون کیخلاف
تیس جنوری کووزیراعلیٰ ہاوس کی جانب مارچ کااعلان کردیا۔۔۔مصطفیٰ کمال نےکہاکہ اب
کوئی تقریرنہیں ہوگی اب یا ہم رہیں گے یا سندھ کےحکمران رہیں گے۔۔۔ مصطفیٰ کمال نے
مزید کہا کہ پیپلز پارٹی نے گزشتہ تیرہ سال میں اربوں خرچ کرنے کے باوجود پاکستان
کے معاشی انجن کو ایک نیا قطرہ پانی نہیں دیا بلکہ جو پہلے آتا تھا وہ بھی اب ہائیڈرنٹس
بنا کر بیچا جاتا ہے۔
پاک سرزمین پارٹی کےسربراہ مصطفی کمال کی ایک بار پھر سندھ
حکومت پر لفظی گولہ باری۔
کارکنان کے اجتماع سے خطاب میں کہا پیپلز پارٹی
کالا قانون لاگو کر کے چین کی بانسری بجا رہی ہے
بلاول زرداری کوادھر تم اور ادھر ہم کی عادت پڑ گئی ہے۔
چیئرمین پی ایس پی نے کہا اب فیصلہ وزیر اعلی ٰ سندھ کے دروازے پر جا
کر کریں گے۔۔۔
انہوں نےتیس جنوری کو تبت
سینٹر پر پورے شہر کو جمع
ہونے کی دعوت دی۔۔۔
مصطفیٰ کمال نےکہاکہ شہر میں بھائی کو بھائی سے
لڑا کر گلے کاٹنے والوں کا خاتمہ ہوگیا تو آج مصطفیٰ کمال اکیلا نہیں رہا بلکہ
لاکھوں مصطفیٰ کمال بن چکے ہیں۔
سربراہ پی ایس پی نے کارکنان کوہدایت کی کہ ایک
ایک گھر کا دروازہ کھٹکھٹائیں، قوم ایک دن گھر سے نکلے تو کئی نسلیں سکون سے رہیں
گی۔
انہوں نےکہاکہ تیس جنوری کو جو شخص بھی اپنے
گھر میں رہا وہ ظالم کا ساتھی ہے۔