کراچی میں دعا منگی اغواء کیس میں قیدی کے فرار
کے الزام میں گرفتار پانچ ملزمان
کو جیل بھیج دیا۔ ملزم زوہیب قریشی نے عدالت سےواپسی پر پولیس اہلکاروں سے شاپنگ کا کہا،، اور چکمہ دے کر مال سے رفوچکر ہوگیا تھا۔ پولیس کے
چھاپوں کے باوجود مفرور ملزم اب تک ہاتھ
نہیں آسکا۔
جوڈیشل مجسٹریٹ
شرقی کی عدالت میں دعا منگی اغواء کیس میں قیدی کے فرار کے معاملے پر سماعت ہوئی۔ واقعہ میں
گرفتار پانچ پولیس اہلکاروں کو پیش کیا گیا۔پولیس
نے عدالت سے استدعا کی کہ ملزمان سے تفتیش مکمل ہوچکی ہے
،،لہذا انہیں جیل بھیج دیا جائے۔ عدالت
نے تمام ملزمان کو جیل بھیجتے ہوئے ،،، مقدمہ کی سماعت 10 فروری تک ملتوی کردی۔ مقدمہ اے ایس آئی محمد خالد کی
مدعیت میں درج کیا گیا تھا۔
متن
مقدمہ کے مطابق پولیس اہلکار ،،ملزم زوہیب قریشی کو عدالت سے
پرائیوٹ گاڑی میں جیل لے جا رہے تھے۔ملزم نے طارق روڈ سے شاپنگ کرنے کا کہا ،،تو ہیڈ
کانسٹیبل محمد نوید اور حبیب ظفر اسے طارق روڈ کے
شاپنگ مال لے گئے۔ ملزم مال میں
پولیس اہلکار کو جھانسہ دے کرفرار ہوگیا تھا۔ مقدمے میں دو منشیوں اور ٹیکسی ڈرائیور
کو بھی مزید گرفتار کیا گیا تھا۔ منشی
گرفتار اہلکاروں کو چھ ماہ سے زوہیب قریشی کی عدالت پیشی کی ڈیوٹی
پر لگا رہے تھے۔
دوسری جانب کیس پر
مامور تفتیشی حکام کا کہنا ہے کہ
ملزم زوہیب قریشی کی تلاش میں گلشن حدید سمیت شہر کے دیگر مقامات پر چھاپے مارے
گئے ،،،مگر گرفتاری عمل میں نہ آسکی۔اہم ملزم کو فرار کرانے کے الزام میں گرفتار
پولیس اہلکاروں کو نوکری سے برخاست کرانے
کا فیصلہ کرلیا گیاہے۔