معروف مصنفہ فاطمہ ثریا بجیا کودنیاسے بچھڑے6برس بیت گئے

عمران عمران

معروف مصنفہ فاطمہ ثریا بجیا کودنیاسے بچھڑے6برس بیت گئے

معروف مصنفہ فاطمہ ثریا بجیا کودنیاسے بچھڑے6برس بیت گئے ۔انہوں نے اپنے قلم کی طاقت ٹیلی وژن کی دنیا میں بھرپور شہرت حاصل کی۔

ڈرامہ نگار اورمصنفہ بلکہ انسانی ہمدردی کا جذبہ رکھنے والی خاتون تھیں۔انہوں نے ناصرف ریڈیو اسٹیج اور ٹیلی وژن کے لیے کام کیا بلکہ فلاحی کاموں میں بھی اپنا لوہا منوایا۔

چودہ  برس کی عمر میں ان کی ڈھائی سو صفحات  پر مشتمل ناول قلم سے رشتہ شائع ہوئی۔جس کے بعدانہوں نے اپنے قلم کی طاقت ٹیلی وژن کی دنیا میں بھرپور شہرت حاصل کی۔ فاطمہ ثریا بجیا کا پہلا ڈرامہ قصہ چہار درویش تھا

 

 بجیا پاکستان جاپان کلچر ایسوسی  ایشن سے  کئی سال تک وابستہ اور صدر کے عہدے پر فائز رہیں ۔ ان خدمات کے عوض انہیں 1999میں جاپان کے شہنشاہ کی طرف سے خصوصی طور پر ایوارڈ بھی دیاگیا۔

 

گلےکے کینسر کے باعث فاطمہ ثریا بجیا جیسا ادب کی دنیا کا ایک درخشاں ستارہ اپنے تمام تر آب و تاب کے ساتھ 10فروری2016کو زو فشاں ہوگیا۔ ادب سے وابستہ ہر شخص فاطمہ ثریا بجیا کی کمی آج بھی محسوس کررہا ہے