کراچی میں لٹیروں کی فائرنگ سے مزید دو شہریوں کی جان چلی گئی۔

عدنان اطہر عدنان اطہر

کراچی میں لٹیروں کی فائرنگ سے مزید دو شہریوں کی جان چلی گئی۔

کراچی میں لٹیروں کی فائرنگ سے مزید دو شہریوں کی جان چلی گئی۔ لانڈھی میں کالج جانے کو نکلا نوجوان  ڈاکووں کی گولی کا نشانہ بن گیا۔ کورنگی میں    کیش وین لوٹنے کی کوشش میں   ڈاکووں کی فائرنگ سے  میڈیسن  کمپنی کا  ملازم  ہلاک۔  دو گارڈ ززخمی ہوگئے۔۔

کراچی میں  مال محفوظ نا ہی جان ۔   مصروف سڑکیں ہوں یا  گلی محلے ۔ذرا مزاحمت کی،، تو   اسٹریٹ کرمنلز شہریوں   کی جان لینے  سے نہیں چوکتے۔

لانڈھی سیکٹر چھتیس بی میں چار  ڈاکو شہری سے اٹھارہ ہزار روپے لوٹ کر فرار ہورہے تھے۔لوگوں کے پتھراو پر ملزمان نے گولی چلادی ،، جس سے انیس سالہ نوجوان کی جان لے لی۔

غمزدہ ماموں کہتے ہیں    بھانجہ فرسٹ ائیر کا طالبعلم تھا۔ وہ  کالج جانے کے لئے نکلا تھا۔ عثمان ڈاکووں کو دیکھ کر بھاگا ،،،تو ملزمان  نے  گولی ماردی۔   آخر  شہری  کب تک یوں  مرتے رہیں گے۔

مقتول کے دوست کا کہنا ہے  وہ  کالج جانے کے لئے تیار ہورہا تھا۔ فائرنگ کی آواز سنی تو دروازے پر گیا۔ باہر  جھانکا تو  گیٹ پر عثمان گرا ہوا تھا۔ ڈاکووں نے واردات دیکھنے پراسے مار ڈالا۔

ادھر   کورنگی،  گودام چورنگی  کے قریب میڈیسن کمپنی کی وین،، کیش لے کر جارہی تھی۔روکنے کی کوشش میں ناکامی پر   کار سوار ڈاکووں نے فائرنگ کردی۔وین میں  سوار رائیڈر جاں بحق اور دو گارڈ زخمی ہوگئے۔ ساتھی ملازمین نے بتایا کہ مقتول کا نام اشوک تھا۔ وین میں رقم سے بھری تجوری تاحال موجود ہے۔