مصطفیٰ عامر قتل کیس میں اسپیشل پبلک پراسیکیوٹر نے پولیس گائیڈ لائنز جاری کردیں

عمران عمران

 مصطفیٰ عامر   قتل  کیس میں  اسپیشل پبلک پراسیکیوٹر نے پولیس گائیڈ لائنز جاری کردیں


مصطفیٰ عامر   قتل  کیس میں  اسپیشل پبلک پراسیکیوٹر نے پولیس گائیڈ لائنز جاری کردیں ۔ملزم ارمغان سے ملنے والی تمام اشیاء کا فورانزک کرایا جائے۔ ملزم کے والد کا  کریمنل ریکارڈ چیک کیا جائے۔  ارمغان  کے گینگ کے کالعدم تنظیموں سے تعلق،دہشت گردی،دہشت گردوں کی مالی معاونت ،منی لانڈرنگ اوردیگر غیر قانونی سرگرمیوں   سے متعلق بھی چھان بین کی جائے۔

کیس میں محکمہ پراسکیوشن نے انوسٹی گیشن کو اہم ٹاسک سونپ دیا ہے۔ گائیڈ لائنز کے مطابق مرکزی ملزم ارمغان کے قریبی افراد کی سرگرمیوں کا جائزہ لے کر مقدمات درج کیے جائیں۔ڈی ایچ اے کے سیکورٹی کے سربراہ اور مالک مکان سے بھی غیر قانونی سرگرمیوں سے متعلق تفصیلات حاصل کی جائیں۔ ملزم ارمغان کی غیر قانونی سرگرمیوں پر ڈی ایچ اے اور مالک  مکان نے اب تک کیا اقدامات  کئے،، اس کی بھی تفصیلات حاصل کی جائیں۔  گائیڈ لائنز  کے مطابق مقامی انٹیلی  جنس یونٹ ،،،گذری اور درخشاں تھانوں سے بھی معلومات  حاصل کرے  کہ ارمغان کی یہ  سرگرمیاں کب سے  جاری  تھیں۔ملزم ارمغان کے والد سے  بھی تحقیقات کی جائیں ۔ گائیڈ لائنز میں کہا گیا ہے ملزم ارمغان کے قریبی افراد  کے کالعدم تنظیموں، منشیات ڈیلرز اور ریاست کے خلاف سرگرمیوں کے حقائق جاننے کے لیے حساس اداروں سے رابط کیا جائے۔مصطفیٰ عامر کے اغواء کے سلسلے میں تاوان طلب کرنے والے ٹیلی فونز حاصل کیے جائیں۔ ملزم ارمغان  اور مقتول مصطفیٰ کے بینک اکاؤنٹس ،فون ڈیٹا اور ٹریول ہسٹری حاصل کی جائے۔