سندھ ہائی کورٹ نے کراچی میں چارجڈ پارکنگ کی نیلامی کا طریقہ کار،قوانین اور ایک ہفتے میں وصول فیس کی تفصیلات طلب کرلیں۔ ریمارکس دیئے بصورت دیگر توہین عدالت کی
کارروائی کی جائے گی ۔
سندھ ہائی کورٹ میں کراچی میں
چارجڈ پارکنگ کے خلاف دائر درخواست کی سماعت ہوئی۔عدالت نے دریافت کیا کس ایریا میں چارجڈ
پارکنگ کا کیس ہے ۔درخواست گزار کے وکیل نے بتایا
کہ صدر سمیت شہر بھر کی چارجڈ پارکنگ کا مقدمہ ہے۔عدالت نے دریافت کیا چارجڈ پارکنگ کے کیا رولز اینڈ ریگولیشن ہے۔ جسٹس حسن اظہر رضوی نے کہا ہائی کورٹ کے سامنے ڈبل پارکنگ ،ٹرپل پارکنگ
ہورہی ہے ۔ یہ تو ہمارے سامنے کی بات ہے ۔
باقی شہر میں کیا ہورہا ہوگا۔
ڈائریکٹر چارجڈ پارکنگ نے کہا غیر قانونی
پارکنگ کے خلاف کاروائی ٹریفک پولیس کا کام ہے۔لیکن ہم بھی کارروائی کرتے ہیں۔عدالت
نے کہا چارجڈ پارکنگ کے رولز اینڈ ریگولیشن دکھائےجائیں۔جو رسیدیں
دیتے ہیں ،،اس کا ہفتہ وار یا ماہانہ کوئی ڈیٹا ہوتا ہے۔ڈائریکٹر پارکنگ نے بتایا کہ کوئی ڈیٹا موجود نہیں۔ عدالت نے دریافت کیا گاڑیوں کی چوری
روکنے کے لئے سی سی ٹی وی کیمرے لگائے ہیں۔ پارکنگ فیس لینے والوں کا کوئی ڈریس
کوڈ ہے۔ٹول پلازہ کی طرح آٹومیٹک سسٹم کیوں نہیں استعمال کرتے۔پارکنگ سائٹس کو چیک بھی کرتے ہیں یا بس ایک
مرتبہ ٹھیکہ دے دیا،،اس کے بعد کام ختم ہوگیا۔