آرٹس کونسل کراچی میں جاری
تین روزہ سندھ لٹریچر فیسٹیول تمام
تر رعنائیاں سمیٹ کر اختتام پذیرہوا۔آخری
روز سیاست ، سینما، میڈیا اور ملک کی
خارجہ پالیسی پر سیشنز رکھے گئے۔مختلف کتابوں کی رونمائی بھی کی گئی۔فیسٹول کا
اختتام میوزیکل پرفارمنس پر ہوا۔
آرٹس کونسل کراچی میں پانچویں لٹریچر فیسٹول کے آخری روز مختلف سیشنز میں مقررین نے مختلف موضوعات پر
رکھے گئے ۔
وزیر اطلاعات سندھ سعید غنی کا کہنا تھا کہ سندھی میڈیا کی اپنی تاریخ
رہی ہے۔سوشل میڈیا نے اخبارات اور ٹی وی چینلز کو متاثر کیا ہے
چینلز کے آنے سے
اخبارات کی اہمیت کم ہوئی اور سوشل میڈیا نے اخبارات اور ٹی وی چینلز دونوں کو
متاثر کیا
بہت ضرورت ہے کہ اس زمانے میں اخبارات کی گروتھ کیسے ہوئی ۔ وزیر اعلیٰ
نے بات کو مانا بجٹ بھی سینشن ہوگیا میوزیم کا کام شروع ہوا تو طلبہ وطالبات کو اس
سے فائدہ ہوگا
صدر ہم نیٹ ورک سلطانہ صدیقی نے مائنڈسیٹ کو تبدیل کرنے پر زور دیا
آپ سب عورتیں اور مرد
مائنڈ سیٹ کو تبدیل کریں ۔ عورتوں کو آگے نہیں لائیں گے تو آپ آگے نہیں بڑھ
سکتے نہ ہمارا گھر آگے نہیں بڑہ سکتا ہے۔
خواتین پر ٹرسٹ کریں
صدر آرٹس کونسل احمد شاہ کاکہنا تھا کہ گزشتہ سال کے مقابلے میں
سندھ لٹریچر فیسٹول میں اس سال بہتری آئی ہے لیکن اس فیسٹول کو مزید ترقی کرنی ہے
اس کو بہت آگے جانا
ہے نئے نئے موضوعات لانے ہیں
فیسٹول کی اختتام پر میوزیکل پروگرام بھی رکھا گیا جس میں گلوکاروں کی
پرفارمنس نے حاضرین کو جھومنے پر مجبور کردیا