اپریل 2022 کےآخری ہفتےمیں ڈالرکوریور س گیئر تولگ گیا لیکن قیمت میں کوئی بڑی کمی نہ آسکی۔
اسٹاک مارکیٹ بھی گراوٹ کا شکارہوگئی۔
سال دوہزار22 معاشی اعتبارسےہرگزرتےدن کےساتھ مشکل تر ہوتا جارہا ہے
۔
ڈالرانٹربینک میں 41 پیسے اضافہ سے 185.86پربند
ہوا۔
رواں
ماہ ڈالر تاریخ میں پہلی بار188 روپے18 پیسے سےزائد مہنگا ہوا جبکہ تاریخ میں پہلی
بار ایک دن میں 3 روپےسےزائد سستا بھی ہواتھا۔
اپریل کےدوسرےہفتےمیں ڈالرکی قیمت میں اتارچڑھاؤ کاسلسلہ جاری ہے۔
رواں سال کےآغازسے ہی ڈالرکی قیمت میں استحکام برقرارنہ رہ سکا۔
ایک ماہ میں ڈالر5.8 فیصد مہنگا ہوکر 10 روپے39 پیسےتک بڑھ گیا۔۔
سال 2022 میں ڈالر27 روپے 69 پیسےتک مہنگا ہوا۔
ماہرین کہتےہیں کہ ڈالرکی قیمت کوفوری کنٹرول کرنا ضروری ہے۔
بیلنس آف پیمنٹس۔۔ بڑھتا
ہوا تجارتی خسارہ ۔
درآمدات کی بڑھتی شرح نےڈالرکومضبوط جبکہ روپےکوبےقدرکردیا ہے۔
دوسری جانب اسٹاک ایکسچینج میں اتارچڑھاؤکا سلسلہ جاری رہا۔
محمدجبران،پاکستان اسٹاک ایکسچینج۔
آج کارروباری ہفتے کاآخری
روزہے۔
اس کےبعد تقریبا لانگ ہولی ڈیزہیں۔
عیدکی چھٹیاں ہیں آج سمجھ لیں تقریبا آخری ہی دن ہے
آج مارکیٹ کاآغازمنفی زون سے ہواہے۔
اس دوران آٹھ سوپچہترپوائنٹس کی گراوٹ دیکھی گئی ہے۔
اسٹاک مارکیٹ مہینےکےآخری روزشدید مندی کےبعد پہلے 850پوائنٹس
سےزائد کم ہوئی لیکن پھراختتام 283 پوائنٹس کی کمی سے45 ہزار 249 کی سطح پر بند
ہوئی۔