ابھی سال کا اختتام نہیں ہوا،،لیکن ڈالرنےنئی تاریخی بلندی کوچھولیا

عدنان اطہر عدنان اطہر

ابھی سال کا اختتام نہیں ہوا،،لیکن ڈالرنےنئی تاریخی بلندی کوچھولیا

ابھی سال کا اختتام نہیں ہوا،،لیکن ڈالرنےنئی تاریخی بلندی کوچھولیا۔۔ ایک سال کےدوران 36روپے75 پیسوں تک مہنگا ہوکرملکی تاریخی میں پہلی بار195 روپےکی حد عبورکرگیا۔

مالی سال دوہزاراکیس کےآغازمیں ڈالرکی قیمت 159 روپےپرٹریڈ ہورہی تھی جو دسمبر2021 کےاختتام پر19 روپےمہنگا ہوکر178 روپےکی سطح تک پہنچ گیا تھا۔۔

سال دوہزار22 معاشی اعتبارسےہرگزرتےدن کےساتھ مشکل تر ہوتا جارہا ہے،، رواں سال کےآغازسے ہی ڈالرکی قیمت میں استحکام برقرارنہ رہ سکا۔۔ صرف ایک ماہ میں ڈالر5.8 فیصد جبکہ رواں سال میں 19 فیصد مہنگا ہوکر36 روپے75 پیسےتک بڑھ گیا۔ آج ڈالرکی قیمت 1روپے56 پیسےمہنگا ہوکر195 روپے75 پیسوں کی سطح پرپہنچ گیا۔۔

 یہ حکومت کو شکراداکرنا چاہئے کہ پبلک کے پاس پیسے نہیں ورنہ ڈھائی سوروپے میں بھی ڈالر آج آپ کو نہیں ملتاکوئی بھی پالیسی لانگ ٹرم نہیںہے آج حکومت ایک اعلان کرتی ہے اس کے چار دن بعد وہ پالیسی ختم ہوجاتی ہےجو سرمایہ کار ہے ان کا اعتماد حکومت سے حکومت کی دی ہوئی انسینٹیو ہیں ان پر سے اٹھ گیاہے

ماہرین کہتےہیں کہ ڈالرکی قیمت کوفوری کنٹرول کرنا ضروری ہے۔۔ بیلنس آف پیمنٹس۔۔  بڑھتا ہوا تجارتی خسارہ ۔۔ درآمدات کی بڑھتی شرح نےڈالرکومضبوط جبکہ روپےکوبےقدرکردیا ہے۔۔ رواں سال اپریل کےمہینےمیں ڈالرایک دن میں ایکساتھ 3 روپےسےزائد بھی سستا ہوچکا ہے،،

 ان کے مطالبات ہیں وہ صرف یہ مطالبہ نہیں ہیں یہ تو ہم کو بتادیا جاتا ہے کہ غریب پر بوجھ ڈال دیں ان کے مطالبات یہ بھی ہیں کہ آپ کرپشن ختم کریں اپنے خرچے اخراجات شاہی ختم کریں

جنوری 2022 میں ڈالر175 سے177 روپےکی قیمت میں فروخت ہوا۔۔ فروری میں ڈالرمعمولی سستا ہوا اورکم ہوکر 174 روپےکی سطح پرآگیا

مارچ کا اختتام پر177 روپے47 پیسےرہا،، اپریل میں ڈالر185 روپے63 پیسوں کی سطح پرموجود تھا،، جواب نئی بلند ترین سطح 195 روپے75پیسوں کی بلند ترین سطح پرپہنچ گیا ہے،،

دوسری جانب ملکی زرمبادلہ ذخائر2021 کےاختتام پر 24ارب 63کروڑڈالرکی سطح پرموجود تھے جو مئی 2022میں 16ارب 37 کروڑ ڈالرکی سطح پرآچکےہیں جسمیں مرکزی بینک کے ذخاٸر کی مالیت 10 ارب 30 کروڑ ڈالر ہےجبکہ کمرشل بینکوں کے پاس 6 ارب 6کروڑ ڈالر کے ذخاٸر ہیں۔