کراچی ، صدر میں بم دھماکہ کرنے والے ہلاک دہشت گرد اللہ ڈنو کو تخریب کاری کے احکامات اور مالی معاونت پڑوسی ملک میں روپوش سرغنہ نے دی۔
دہشت گرد تقریبا پانچ کلو میٹر پیدل چل کر بارودی مواد سائیکل پر رکھ کر لایا تھا۔
دہشت گرد
کے موبائل فون فارنزک کے دوران اہم
شواہد سامنے آ گئے
ڈی آئی جی ،سی ٹی ڈی خرم علی نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ کراچی میں جاری دہشت گردی کی حالیہ لہر میں کالعدم تنظیم ایس آر اے ملوث ہے ،
جس نے اندورن سندھ میں کارروائیوں کے بعد ایک ماہ قبل کراچی کا رخ کیا ہے۔
صدر بم دھماکے میں ملوث مارا گیا دہشت گرد تقریبا پانچ کلو میٹر پیدل چل کر بارودی مواد سائیکل پر رکھ کر لایا تھا۔
دعویٰ کیا کہ دہشتگرد اللہ ڈنو کو تخریب کاری کے احکامات اور مالی معاونت پڑوسی ملک میں روپوش سرغنہ اصغر شاہ نے دیئے۔
دہشت گرد کے موبائل فون فارنزک کے دوران اہم شواہد مل گئے۔
ڈی آئی جی سی ٹی ڈی کا کہنا تھا کہ ہلاکدہشت گرد خود بھی بم بنانے کا ماہر تھا
جسے ریلوے ٹریک پر دھماکا کرنے کے دس سے پندرہ جبکہ بڑا دھماکا کرنے کے پچاس ہزار روپے مل رہے تھے۔
ترجمان سندھ حکومت مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ ہلاک دہشت گردگزشتہ برس ریاست مخالف مقدمے میں گرفتار ہوا تھا مگر جلد ہی عدالت سے ضمانت مل گئی تھی۔
عدالتیں سنگین جرائم میں ملوث ملزموں کو با آسانی
ضمانتیں نہ دیں۔