کراچی میں رینٹ اے کار چلا کر روزگار کمانےوالے نوجوان کو بلوچستان لے جا کر قتل کردیا گیا۔

عرفان علی عرفان علی

کراچی میں رینٹ اے کار چلا کر روزگار کمانےوالے نوجوان کو بلوچستان لے جا کر قتل کردیا گیا۔

کراچی میں رینٹ اے کار چلا کر روزگار کمانےوالے نوجوان کو بلوچستان لے جا کر قتل کردیا گیا۔

لاش  کچلاک شہر میں ویران مقام سے مل گئی۔

ملزم  قتل کے بعد نوجوان کی نئی گاڑی بھی ہمراہ لے گئے۔،لواحقین نے مقدمہ درج کرادیا،۔

30 جون کی شام کراچی کورنگی سے  اپنی اس بیش قیمت گاڑی میں  خاتون سمیت چار افرادکو بکنگ پر   کوئٹہ لے جانے والا نوجوان   زندہ واپس نہ لوٹ سکا۔

26سالہ باسط علی کی میت  کورنگی زمان ٹاؤن میں واقع رہائش گاہ پہنچی تو کہرام مچ گیا

میت گھر آتے ہوئے،خواتین کی آہ و بکا

کم عمری میں ہی انتھک محنت کرکے اپنے رینٹ اے کار کے بزنس کو مستحکم کرنے والے نوجوان   باسط کے قتل پر لواحقین ہی نہیں ،دوست احباب  بھی  شدت غم سے نڈھال ہیں۔

سوچا بھی نہیں تھا کبھی ایسا حادثہ ہوگا ساتھ اٹھتا بیٹھتارات میں گھر پر آکر بیٹھ جاتا کارروائی ہونی چاہئےجو یہاں سے لےکر گئے تھے اسے اس نے یہ بتایا تھا کہ گزری اوع پھر قائدآباد سے لوگوں کو اٹھاکر جانا ہے

ٹریکر لگانے کا فائدہ پیسے بھی آدمی خرچ کررہاہے اور اسے نتائج بھی نہیں دے رہے کیوں اس کے ساتھ مذاق کررہے ہو

باسط سے پرسوں میری بات ہوئی تھی اس کو سالگرہ مبارک بار دی تھی اس کے بعد کوئی بات نہیں ہوئی

غمزدہ لواحقین کہتے ہیں کہ باسط علی سے دو جولائی تک رابطہ رہا جس کے بعد اس کے نمبر بند ہوگئے۔

اگلے روز  رابطہ ہونے پر بلوچستان پولیس کے افسر نے بتایا کہ اس کی  گولی لگی لاش کچلاک کے قریب سے ملی۔

اس کی لاش انسپیکٹر صاحب کے بقول کچلاک میں ہےوہاں سے لاش اٹھائی اور ہمیں فون کیا

باسط علی  کو سر میں  گولی مار کر قتل کیا گیا اور گاڑی لے کر ملزم فرار ہوگئے۔

لواحقین   کہتے ہیں کہ  مقتول کےہمراہ بلوچستان جانے والے افراد نے بھی اپنے موبائل فون نمبرز بند کردئیے ہیں۔

قتل میں ملوث ملزموں کو جلد گرفتار کرکے انصاف فراہم کیا جائے۔