ملک موسمیاتی تبدیلیوں کی لپیٹ میں ہے۔
شہر قائد میں بارشوں کی شدت اور سیوریج نظام کی تباہی کے بعد اب سندھ حکومت نے مزید بارشوں کی تباہ کاریوں سے بچنے کےلئے نالوں کی صفائی کا کام تو شروع کیا،،
لیکن
کئی نالے تاحال کچرے کا ڈھیر بنےہوئے ہیں ۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق کراچی میں اڑتالیس بڑے جبکہ تین سو چالیس چھوٹے برساتی نالے ہیں ۔لیکن ان نالوں کے ذریعے سال کے بارہ مہینے
سیوریج کا پانی لیاری ندی اور ملیر ندی سے ہوتا ہوا سمندر میں ڈالا
جاتا ہے
ہر سال کی طرح شہر کے بیشتر چھوٹے بڑے برساتی نالے کچرے سے بھرے ہوئے
ہیں۔۔
اگست 2020 اور رواں سال 11جولائی کو ہونے والی موسلادھار بارش نے حکومت کو سوچنے پر مجبور کردیاکہ نالوں کی صفائی کا کام ہر سال جاری رکھنے کی ضرورت ہے لیکن انتظامیہ کی غفلت کہیں یا نااہلی کہ شہر کے کئی علاقوں کے نالے خاص کر چوکنگ پوائنٹس تاحال صاف نا ہوسکے۔۔
شہر کے تین بڑے برساتی نالیں محمود آباد ۔گجر نالہ اور اورنگی ٹاؤن
نالے کو بحال کرنے کا کام تاحال جاری ہے شہر میں نالوں پر تجاوزات کے خاتمے کا
خواب بھی تاحال شرمندہ تعبیر نا ہوسکا
ماہرین کا کہنا ہے کہ جب تک شہر سے یومیہ 16 ہزار ٹن سے زائد کچرے کو
اٹھانے اور ٹھکانے لگانے نظام نہیں بنایاجائے گا ۔۔اس وقت تک ہر سال برساتی نالوں
کو صاف کرنے پر کروڑوں روپے خرچ کرنے پڑیں گے.
کراچی میں وقفے وقفے سے بارش کا سلسلہ جاری اور
سیوریج کے بوسیدہ نظام کی وجہ سے شہری پریشانی سے دوچار ہیں۔
ضلع
کورنگی میں سیوریج اور گندگی کے باعث مکینوں کو معمولات زندگی کی انجام دہی میں
دشواری کا سامنا ہے۔
جگہ جگہ بہتےگٹر۔
گندگی غلاظت اورکچرا۔
یہ کراچی
ضلع کورنگی کا علاقہ شاہ فیصل ہے جہاں ناقص سیوریج سسٹم کےسبب بارش
اورگٹرکا پانی سڑکوں اورگلیوں میں جمع
ہے۔۔
بارش کےسبب
سڑک پرموجود کچراکنڈی کا کچرا صاف نہیں کیا گیا جو پانی کےساتھ بہتا ہوا
سڑک کےدرمیان پھیل گیا ہے۔
رہائشی کہتےہیں علاقےکےبلدیاتی مسائل حل نہیں
ہورہے۔
کراچی میں ایک جانب نالوں کی صفائی نہ ہوسکی،، تودوسری جانب بارش کے دوران سڑکوں پر پانی جمع ہوجاتا ہے
ایسے میں
برساتی نالوں کی دیواریں نہ ہونےسے حادثات رونما ہوتےہیں۔
کورنگی انڈسٹریل ایریا۔۔ بلال چورنگی اورڈیڑھ
نمبرکوملانےوالی سڑکوں پرموجود نالوں کی دیواریں یاتوٹوٹ گئی یا پھربوسیدہ ہوکراپنی
جگہ چھوڑچکی ہیں۔۔
بارش ہونےکی صورت میں پانی بھرنےکےبعد
گزرنےوالوں کو قطعی اندازہ نہیں ہوتا کہ سڑک ختم اورنالہ شروع ہوچکا ہے،، جس
سےحادثات رونما ہوتےہیں۔
کورنگی انڈسٹریل ایریا میں روانہ ہزاروں افراد
کام کاج کیلئےصنعتوں کا رخ کرتےہیں جگہ جگہ نالوں کی چھتیں ٹوٹی ہیں جو نقصان کا
سبب بنتی ہیں۔۔
ملک کےسب سےبڑے شہرمیں بلدیاتی مسائل کی وجہ سےشہری جان ومال کےنقصان سےدوچارہیں۔۔