کراچی،عمران
اسے اپنے مٹی سے عشق تھا ،،،،
بلوچستان کے خشک پہاڑ اس کی زندگی کا بہترین
رومانس ہوا کرتے تھے۔
اس نے گیدانوں میں بیٹھ کر اپنے وطن کی خوشحالی
کے خواب دیکھے تھے،
جو سرزمین روایتوں کی امین تھیں وہاں اب لاشیں
گرنا نئی بات نہ تھی۔
شہر اقتدار کی راہیں اور اپنا احتجاج ریکارڈ
کرانے کئی بار وہ ننگے پائوں چلی تھی ،
اس کے پھول سے پیروں پر اب زندگی کی اذیتوں کے ان گنت چھالے پڑ گئےتھے لیکن اپنے پر نور چہرے پر تکلیف اور رنج
کے کبھی اس نے آثار آنے نہ دیئےتھے۔
جب بھی
اس کے چہرے کو دیکھو تو یوں لگتا تھا ابھی
عبادت کرکے آئی ہےایک پل کےلیے یوں محسوس ہوتاتھا کہ
اپنے
رب سے دعائوں میں اس نے ہر بات منوا لی ہو جیسے،،،،
اس کے پاس کچھ نہ ہوتے ہوئے بھی ایسے محسوس
ہوتا تھا جیسے سب کچھ ہے۔
عجیب تھی وہ جو اپنی تکلیفوں درد و رنج کو پس پردہ رکھ کر ایک عورت ہوکر مردوں کی
بازیابی کی جنگ لڑنے پر مجبور ہوئی تھی۔
یہ لڑائی اس کی اپنی نہیں تھی ۔
لیکن روز اپنوں کو کھونے کا غم اسے راتوں کو اب
سونے نہیں دے رہا تھا ۔
وہ خود سے باتیں کرتی تھیں لڑتی تھی چیختی تھی
چلاتی تھیں لیکن اسے سننے والا کوئی نہیں تھا
جس سرزمین پر وہ رہ رہی تھی وہ انگاروں کی سرزمین بنادی گئی تھی جہاں
پر ہر لحمہ ہر پل اس کے پیر جھلستے رہتے تھے۔
زندگی کی طرف جانے والے تمام راستے انتہائی
کٹھن اور ویران تھے ۔
وہ عام لڑکیوں سے بلکل مختلف تھی۔
وہ گھر میں رنگ برنگی دھاگوں سے کشیدہ کاری کیا
کرتی تھی
اب وہ
خوبصورت ڈیزائن پر کشیدہ کاری کرکے بہترین لباس کیسے تیار کرکے پہنے
۔اس دیکھنے والے اسے چاہنے والےاس کے اپنے تو
آئے روز غائب ہوجاتے تھے ۔
اس نے اپنی پیاروں کے کھونےپر کافی عرصے سے
احتجاج کر رکھا تھا ۔
اس کی آنکھوں میں کسی نے جھانک کر نہیں دیکھاتھاکہ
اتنی خوبصورت آنکھیں رکھنے والی کی زندگی کس قدر ویران تھی۔
اس کےاحتجاج اور شعور نے اب انکی نیند اڑانا شروع
کردی تھی او رانہوں نے اس کے لیے زمین تنگ کی تو وہ جلاوطن ہوئی۔جلاوطنی کا دکھ
اسے ہمیشہ کھائے جاتاتھا۔
اپنے پہاڑ ، سرزمین اور لوگوں سے دور رہنے کا
جو دکھ تھا اسے وہ کوئی بھی سمجھ نہیں پایاتھا ۔
وہ اکثر اپنی سہلیوں سے کہا کرتی تھی کہ میں
بھوڑی ہورہی ہوں،،،،
اس بات
کا مجھے کوئی غم نہیں ہے،،،،
لیکن
میں دیار غیر میں اس خوبصورت زندگی کا خاتمہ نہیں چاہتی ،،،،
میں اپنی سرزمین پر ہی مرنا پسند کرونگی،،،،،
۔کاش میری موت میرے گائوں میں ہو۔
جہاں میرا اسکول ہے،،،
جہاں
پر میں نے کئی سال تعلیم حاصل کی ہے ،،،،
جہاں
حق اور سچ کے درمیانجو واضح فرق ہے اسے سمجھنے
کی کوشش کی ہے،،،،،
جہاں پر میرے سارے اپنے ہیں ،،،،
۔میری آخری خواہش ہے کہ میں مرنے کے بعد اس
قبرستان میں دفن ہونے کی خواہش مند ہوں جہاں سے میرا گھر دیکھائی دیتاہے،،،،،
وہ اپنی سہلیوں سے مذاق میں کہا کرتی تھی کاش
مرنے کے بعد ہم سب ایک ہی قبرستان میں دفنائی جائیں
اور ہماری قبریں ایک دوسرے کے پاس پاس ہوں،،،
تاکہ
مرنے کے بعد بھی ہم ایک دوسرے سے دور نہ ہوں،،،،
پھر
ایک دن اچانک سوشل میڈیا پر دیار غیرسے
اسکی لاش برآمدگی کی خبر نشر ہوتےہی سب کے پیروں تلے زمین سرک جاتی ہے۔