گلوبل فنڈ کی جانب سے فنڈز میں غبن ہونے اور منشیات کے عادی افراد میں ایچ آئی وی کنٹرول کرنے میں ناکامی کے لحاظ سے تحقیقات کی شروعات

چہرہ ڈیسک چہرہ ڈیسک

گلوبل فنڈ کی جانب سے فنڈز میں غبن ہونے اور منشیات کے عادی افراد میں ایچ آئی وی  کنٹرول کرنے میں ناکامی کے لحاظ سے تحقیقات کی شروعات

گزشتہ گیارہ برس سے سندھ میں سرنج کے ذریعے منشیات استعمال کرنے والے افراد میں ایڈز کے خلاف کام کرنے والی دو این جی اوز کی طرف سے اربوں روپے کرپشن سے ہڑپ کر جانے کا انکشاف ہواہے۔



تفصیلات کے مطابق گلوبل فنڈ برائے ٹی بی ، ایچ آئی وی اور ملیریا نے۔ ایچ آئی وی کے پھیلاؤ کے خلاف کام کرنے والی دو این جی اوز نئی زندگی ٹرسٹ اور برج کنسلٹنٹ فاؤنڈیشن کو 2013 سے لیکر 2021-22 تک منشیات کے عادی 27000 افراد میں ایچ آئی وی پھیلاؤ روکنے کیلئے 9 ارب 68 کروڑ 66 لاکھ روپے (

44 ملین ڈالرز) گرانٹ دی گئی لیکن صوبہ سندھ میں ان کی کارکردگی تقریبا صفر رہی ،اس عرصہ کے دوران ایچ آئی وی ایڈز میں واضح اضافہ دیکھا گیا ۔

ذرائع نے مزید بتایا کہ مذکورہ این جی اوز نے اتنی بڑی رقم ملنے کے باوجود عملی طور پر کوئی کام نہیں کیا ،کاغذوں کا پیٹ بھرا ۔ذرائع کے مطابق مین این جی او نئی زندگی ٹرسٹ کو یہ رقم سالانہ تقریباً 30 کروڑ روپے دیئے گئے اور پارٹنر این جی او برج کنسلٹنٹ فاؤنڈیشن کو سالانہ دس کروڑ روپے سے زائد رقم وصول

ہوئی ۔

ایچ آئی وی کے پھیلاؤ کو روکنے میں ناکامی اور اچھی کارکردگی نہ ہونے کی وجہ سے   محکمہ صحت سندھ کے سی ڈی سی ایچ آئی وی ایڈز نے اس حوالے سے فنڈنگ کرنے والے ادارے گلوبل فنڈ کنٹری ٹیم جنیوا کو جون 2022 میں میں ایک خط لکھ کر منشیات کے عادی افراد میں ایچ آئی وی کنٹرول نہ ہونے اور ان

میں مرض اور اموات کی شرح میں مسلسل اضافے اور فنڈز درست استعمال نہ ہونے کے متعلق خدشات سے آگاہ کردیا اور فنڈز کی آڈٹ کا بھی مطالبہ کردیا ۔

یو این گلوبل فنڈ نے محکمہ صحت سندھ سی ڈی سی ایچ آئی وی ایڈز کے خط کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے ڈچ انٹرنیشنل آڈٹ فرم کو فنڈز میں بے قاعدگیاں ہونے اور منشیات کے عادی افراد میں ایچ آئی وی کنٹرول نہ ہونے کے متعلق تفصیلی جائزہ لینے کی زمہ داریاں سونپ دی ہیں ۔دوسری جانب دونوں این جی اوز نئی زندگی ٹرسٹ کی سربراہ ملائکہ ظفر اور برج کنسلٹنٹ فاؤنڈیشن کے سربراہ سابق پروگرام مینیجر سندھ ایڈز کنٹرول پروگرام شرف علی شاہ سے مؤقف

لینے کیلئے رابطہ کرنے کی کوشش کی گئی لیکن تاحال رابطہ نہیں ہو سکا ۔

یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ  گلوبل فنڈ کی جانب سے فنڈز میں غبن ہونے اور منشیات کے عادی افراد میں ایچ آئی وی  کنٹرول کرنے میں ناکامی کے لحاظ سے تحقیقات کی شروعات کے بعد غیر ملکی فرم اور اس کی مقامی پارٹنر فرم کی ایڈیشنل ڈائریکٹر سی ڈی سی ایچ آئی ایڈز ڈاکٹر ارشاد کاظمی سے بھی میٹنگ ہوئی 

جس میں تھرڈ پارٹی سے ایوولیشن کرانے ،طریقہ کار اور ٹائیم لائین طےکرنے پر اتفاق کیا گیا ۔