کراچی کے علاقے نارتھ ناظم
آباد میں پولیس اور ڈاکوؤں کے درمیان ہونے والی فائرنگ نے راہگیر معصوم بچی کی جان
لے لی،
والدہ زخمی ہوگئی۔وزیر اعلی
سندھ نے واقعے کا نوٹس لے کر تحقیقات کا حکم دے دیا۔
ڈی ایس پی کی سربراہی میں ٹیم بناکر واقعے کی
انکوائری شروع کردی گئی۔
کراچی میں اسٹریٹ کرائم کی لہر نے ننھی بچی کو ما ں کی آغوش میں
ہی ابدی نیند سلادیا۔
نارتھ ناظم آباد کی اس سڑک
سے گزرنے والا چنگ چی رکشہ پولیس اور ڈاکوؤں کی فائرنگ کی زد میں آیا تو گولی لگنے
سے نو ماہ کی کمسن عنابیہ کی جان چلی گئی جبکہ والدہ زخمی ہوگئی
بچی اور والدہ کو اسپتال
لانے والے ایمبولینس ڈرائیور نے بتایا کہ فائرنگ کی آواز تو سنی مگر کسی کو فرار
ہوتے نہ دیکھ سکا
جاں بحق ہونے والی شیر
خوار عنابیہ تین بہن بھائیوں میں سب سے چھوٹی تھی۔
والدہ اور پھوپھی بارہ ربیع الاول کی مناسبت سے اشیاء کی خریداری کرانے اسے
لیاقت آباد لارہی تھیں۔
غمزدہ لواحقین کا کہنا تھا
کہ نہیں جانتے بچی کو گولی پولیس کی لگی یا ڈاکوؤں کی۔
شفاف تحقیقات اور فراہمی
انصاف کا مطالبہ کیا، دوسری جانب پولیس حکام نے بھی اسپتال اور جائے وقوع سےمعلومات حاصل کیں اور لواحقین کو جلد حقائق
سامنے لانے کی یقین دہانی کرائی ۔
ادھر وزیر اعلیٰ سندھ نے
بھی پولیس مقابلے کے دوران معصوم بچی کی ہلاکت پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کراچی
پولیس چیف کو فی الفور ملزمان کی گرفتاری کا حکم دے دیا ہے۔