سابق ایس ایس پی راو انوار کا کہنا ہے میں پہنچا تو مقابلہ ہوچکا تھا۔ نقیب الللہ قتل کیس کی ابتدائی انکوائری بری ہوا۔ تمام الزامات بے بنیاد ہیں۔
محکمانہ دشمنی کی وجہ سے کیس میں ملوث کیا گیا۔
نقیب اللہ کا اصل نام نسیم اللہ تھا۔ وہ نقیب اللہ کے نام سے وارداتیں کرتاتھا۔ راو
انوار نے اے ٹی سی میں اپنا بیان ریکارڈ کرادیا۔
کراچی کی انسداد
دہشت گردی عدالت میں نقیب اللہ قتل
کیس کی سماعت ہوئی۔
سابق ایس ایس پی راو انوار نے عدالت میں
بیان ریکار ڈ کرادیا، جس میں کہا گیا
ہے کہ جس وقت وقوعہ ہوا میں وہاں نہیں تھا۔
تیرہ جنوری دوہزار اٹھار ہ کو بطور ایس ایس پی،شاہ لطیف میں دہشت گردوں کی
موجودگی سے آگاہ کیا گیا۔ جب وہاں پہنچا تو مقابلہ ہوچکا تھا۔
بطور ایس ایس پی فراہم کی گئی معلومات سے میڈیا
کو آگاہ کیا ۔
انیس جنوری آئی جی سندھ کی تشکیل کردہ کمیٹی کے
سامنے پیش ہوا۔
ابتدائی انکوائری میں چھ پولیس اہلکاروں کو ذمہ
قرار جبکہ انہیں
بری کیا گیا۔
تیئس جنوری کو انکوائری کی رپورٹ سے پہلے ہی ان
کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا۔
اکیس
مارچ کو سپریم کورٹ میں پیش ہوا۔ اسی روز تفتیشی افسر نے انہیں
حراست میں لیا۔
راو انوار کا بیان میں کہنا ہے کہ مقابلے میں نسیم
اللہ مارا گیا اور لواحقین نے لاش بھی اسی نام وصول کی۔
نقیب اللہ فرضی نام تھا، ، اور اس نام سے
نسیم اللہ وارداتیں کرتا تھا۔نقیب اللہ کے نام پر رجسٹرڈ پانچ موبائل سموں کا سی ڈی آر پیش نہیں کیا گیا۔ عدالت نے نقیب اللہ
قتل کیس کی سماعت چوبیس نومبر تک ملتوی
کردی۔