ڈالرنےبھی تاریخی بلندی کوچھولیا ،، جس میں اب معمولی گراوٹ ریکارڈ کی جارہی ہے۔۔دوہزار بائیس میں ایک ہی دن میں ڈالر میں پانچ روپےسےزائد اضافہ اورکمی کا،،،اتارچڑھاؤ بھی دیکھا گیا۔ میں۔۔
رواں سال ڈالر 108 روپےسےزائد مہنگا ہوچکا ہے۔جنوری 2022 میں ڈالر175 سے177 روپے میں فروخت ہوا۔فروری میں ڈالرکی قیمت معمولی کم ہوکر 174 روپےکی سطح پرآئی۔لیکن پھرمارچ کے اختتام پر ڈالر 177 روپے47 پیسے پر پہنچ گیا۔ تحریک انصاف کے ساڑھے 3 سالہ دور میں ڈالر 56 روپے تک مہنگا ہوا تھا۔نئی حکومت کا قیام سولہ اپریل 2022 کوہوا۔اس کےبعد سےاب تک ڈالر53 روپے94 پیسوں تک مہنگا ہوچکا ہے۔ اپریل میں ڈالر185روپے63 پیسے کی سطح پربند ہوا۔مئی میں ڈالر نے ڈبل سنچری کےقریب پہنچ کر199 روپے6 پیسوں کی سطح کوچھولیا تھا۔
دیکھیں جناب بات یہ ہےکہ ڈالر200سےنیچےنہیں آسکا،،لیکن میراخیال تھا کہ آجائیگا، ایک وقت آیا کہ تاریخی بلندی تک پہنچ گی ہمارےریزروودن بدن گررہےہیں،ہماری پولیٹیکل انسرٹینٹی بہت ہے، ہماری انٹرنیشنل ریٹنگ بہت گرگئی ہے،،اسکےساتھ ساتھ انٹربینک، اوپن مارکیٹ اورگرےمارکیٹ میں ریٹوں میں بہت فرق ہے
جون میں پہلی بار7 جون کو202 سےتجاوزکرتا ڈالر 21 جون کو نئی تاریخی بلندی 212روپے پرپہنچ گیا تھا۔2 جولائی کوڈالرنئی تاریخی بلندی 239 روپے 94 پیسے پر آگیاتھا۔18 جولائی کوڈالر215 روپے20 پیسے جبکہ 19 جولائی کو ڈالر221 روپے99 پیسے سےبڑھتا ہوا،،28 جولائی کو پھرڈالر239 روپے94 پیسے کی سطح پربند ہوا۔سال دوہزار بائیس کے دوران جولائی میں ڈالر سب سےزیادہ 27 روپے 20 پیسےتک مہنگا ہواتھا۔ ایک ہی روز میں ڈالر 5 روپے90 پیسے سےزائدمہنگا ،، اور پھرسستا ہونےکا ریکارڈ بھی اسی سال بنا۔۔اگست کےمہینےمیں ڈالرکی قیمت میں گراوٹ ریکارڈ کی گئی۔پہلے ہفتےمیں ڈالر 13 روپےتک سستا ہوا۔۔ جبکہ دوسرےہفتےمیں ڈالرکی قیمت میں 8 روپے54 پیسوں تک گراوٹ ہوئی۔ ستمبرمیں ڈالرکی قیمت میں پھراتارچڑھاؤرہا اورمہینےکےاختتام پرڈالر 239 روپے71 پیسےتک مہنگاہوکربندہواتھا۔ستمبرمیں آئی ایم ایف کی قسط بھی ملی لیکن ڈالرکی اونچی اڑان کا سلسلہ نہ تھم سکا۔ستمبرمیں اسحاق ڈارنےوزارت خارجہ کا منصب سنبھالا لیکن پھربھی ڈالرکوکنٹرول نہ کیا جاسکا۔
آنےوالےدنوں میں گورنمنٹ کےایکسپورٹ کےنمبربہترآنےہے،مسئلہ کیا ہےافواہیں ڈالرمیں بہت زیادہ ہورہی ہیں،اب ان افواہوں کوروکنا ہے، دنیا کےجس ملک میں بھی ایسی صورتحال ہوتی ہے،، توسینٹرل بینک کی ذمہ داری بنتی ہےاسکوہینڈل کرنااورمیں یہ سمجھتا ہوں اس وقت ضرورت ہےکہ رئیل ریٹ جواسٹیٹ بینک ہمیشہ نکالتا ہےاسکےاوپرڈالرکوفریزکردیا جائےدوہفتوں کیلئےاکتوبرمیں ڈالر کمی کے بعد انٹر بینک میں 220 روپے 89 پیسے پر آگیا تھا۔11 نومبرکووزیرخزانہ اسحاق ڈارنےگورنراسٹیٹ بینک کےہمراہ ایکسچینج کمپنیوں سےملاقات میں دعوی کیا تھا کہ ڈالر200 روپےکی سطح سےنیچےآجائیگا لیکن تاحال ایسا نہ ہوسکا۔نومبرکےاختتام پرڈالر 223 روپے 95 پیسےکی سطح پربند ہوا۔دسمبرمیں ڈالر225 روپے64 پیسوں کی سطح پرپہنچ چکا ہے۔