خواجہ سراکی دہائیاں

چہرہ ڈیسک چہرہ ڈیسک

خواجہ سراکی دہائیاں

حیدرآٓباد میں خواجہ سرائوں نے پریس کانفرنس کی چھوٹی نامی خواجہ سرا نے بتایا کہ  حیدرآباد میں رہائش پذیر تھی مجھے حیدر آباد والوں نے شہداد پور والوں کو بیچا ۔

 مجھے 25ہزار میں بیچاگیا ہم سے زبردستی جسم فروشی کا کاروبار کرواتے تھے۔

یہ کام قبول نہیں تھا میں کہتی تھی کہ میں بھیک مانگ کر کھانا کھالونگی لیکن یہ غلط کاکام ہر گز نہیں کرونگی ۔

 تو وہ کہتے تھے ہم نے تیرے اوپر خرچہ کیا ہوا ہے اور یہ پیسے تو اسی کام سے ہی تم سے پورے کروائیگے۔

جب ہم بیمار ہوتے تھے ہمیں زبردستی اس جگہ اور مقام پر لایا جاتا تھا جہاں پر جسم فروشی کا کاروبار ہوتا تھا ۔

میرے بھائی اور والد بھی اس گندے کام میں ملوث ہیں کیونکہ انہیں صرف پیسے چاہیے اور کچھ نہیں۔

مجھے دھمکیاں دی گئی ہے کہ اگر یہ کام نہیں کروگی تو  اس شہر میں تمہیں رہنے نہیں دینگے اور نہ ہی مانگنے دینگے۔

شہداد پور کی نوشی اور سویرا نے مجھے خریدا تھا ۔

 حیدر آباد کے پٹھانی گروپ نے مجھے بیچا تھا ، میں وہاں سے بھاگ کر نکلی ہوں۔