سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کیس کی پیر تک ملتوی

چہرہ ڈیسک چہرہ ڈیسک

سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کیس کی پیر تک ملتوی

سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کیس کی  پیر تک ملتوی

اسلام آبادسپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ سے متعلق دائر 9 درخواستوں پر سماعت جو براہ راست نشر کی گئی

چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے عہدہ سنبھالنے کے بعد سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کو فل کورٹ کے سامنے سماعت کے لیے مقرر کیا اورعدالت عظمٰی کی تاریخ میں پہلی بار سماعت کوبراہ راست نشر کیا گیا۔

چیف جسٹس قاضی فائز عیسٰی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہاکہ ہماری  میٹنگ بار کونسل اور بار ایسوسی ایشن کے وفد  سے ہوئی۔

 بار کونسل اور بار ایسوسی ایشن کے وفد سے ملاقات میں سینئر  جج بھی تھے،

بار کونسل اور بار ایسوسی ایشن  وفد نے کہا کہ  ہماری پوری بات نہیں سنی جاتی،

بات طے  ہوئی کہ وکیل کے دلائل مکمل ہونے کے بعد ججز کےسوالات ہونگے،

ضروری ہے کہ وکیل دلیل کیس سے متعلق دیں،

بہتر طریقے سے مقدمات نمٹائے جائیں گے،

 قانون میں چیف جسٹس کے اختیارات ختم نہیں تو کم کیے جارہے ہیں ،

 اختیارات کو کم نہیں بانٹا جا رہا ہے،

 قانون کا اطلاق بعد میں  آنے ولاے ججز پر بھی ہوگا،

 فل کورٹ اس لیے  تشکیل دی تا کہ سب ججز اس کو سنیں

 کیس میں پارلیمنٹ اور سپریم کورٹ کے اختیارات کی بات ہو رہی ہے،

اکثر فریقین نے اپنے معرضات تحریری طور پر دیئے ہیں ،

ہماری کوشش ہے کہ  آج درخواست پر فیصلہ سنائیں،

ہم سب کی باتیں اچھی طرح سننا چاہتے  ہیں،

کچھ درخواست گزار  گزشتہ سماعت پر نہیں  آئے یہ ان کی سنجیدگی کا عالم ہے، سب کو علم ہے کہ مقدمات زیر التوا ہیں،

ہمارے پاس بہت سے مقدمات  ہیں،

سپریم کور ٹ ایک کیس کو  لیکر بیٹھ  جائے گی تو مقدمات  بڑھتے جائیں گے ،

اگر کوئی   مزید بات کرناچاہے تو تحریری  صورت میں  دیدیں ، وکیل   اکرام چودھری نے عدلات کو آگاہ کیاہےکہ سپریم کورٹ اپنے رولز خود بنا سکتی ہے ،

قانون کا مقصد سپریم کورٹ کے کام کو بلڈوز کرنا ہے ، چیف جسٹس نے وکیل  سے سوال کیاکہ کیا آپ  کے دلائل نیوز رپورٹس کے مطابق ہیں ؟

پارلیمنٹ ایک الگ قانون بنانے والی باڈی ہے،

 آپ  کے دلائل فوکس نہیں ہیں،

یہ میرے اکیلے کا کیس نہیں، اس عدالت کا کیس ہے،

عدالت کی نمائندگی نہیں کررہے ،آپ   درخواست گزار ہیں،

اس وقت تک کسی پر الزام نہیں لگاسکتے جب تک اس کو فریق نہ بنائیں،

اگر  آپ نے سیاسی باتیں کرنی ہے تو میڈیا  پلیٹ فارم  ہے وہاں  کریں،

 ایسے دلائل دیں جو قانونی نکات پر محیط ہوں،

ہمیں علم ہے کہ یہ ایکٹ قانون بن چکاہے ،وہ کرسکتے تھے یا نہیں  بحث نہیں کرنی چاہیے، جب یہ قانون بن رہا تھا تو اس وقت یہ دلائل موثر تھے اب نہیں،

اس وقت یہ قانون بن چکا ہے یہ  آئینی ہے یا نہیں اس پر بحث کی جائے،

وکیل اکرام چودھری کی جانب سے حسبہ بل کیس کا حوالہ

چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہاکہ راولپنڈی بار کیس میں آئینی ترامیم کو دیکھنے کا فیصلہ دیا جاچکا ہے ، جب یہ فیصلہ آچکا ہے تو پھر بات ختم ہوگئی ناں،

 حسبہ بل قانون نہیں بنا تھا جب کہ یہ قانون بن چکا ہے،

حسبہ بل قانون بنا ہی نہیں تھا پریکٹس اینڈ پروسیجر قانون بن چکا ہے، وکیل اکرام چودھری نے عدالت کو آگاہ کیاکہ پریکٹس اینڈ پروسیجر قانون کے ذریعے آئین کی نفی کی گئی ہے،

اکیسویں ترمیم کیس میں عدالت کہہ چکی کہ آئینی ترمیم کا جائزہ بھی لیا جا سکتا ہے،

جب آئینی ترمیم ہوئی اس پر تب دیکھیں گے فی الحال تو یہ صرف قانون ہے کیا  عدالتی آزادی ازخود نایاب چیز ہے یا یہ لوگوں کے لیے ہوتی ہے؟ چیف جسٹس

عدالت کی آزادی صرف اس کے اپنے لیے ہے کہ اس کا ہر صورت دفاع کرنا ہے؟

عدالت کی آزادی لوگوں کے لیے نہیں ہے؟ اس بات پر روشنی ڈالیں،

اگر کل پارلیمان بیواؤں کے مقدمات کو ترجیح کا قانون بنا دے؟

اگر کوئی قانون لوگوں کو انصاف کی فراہمی کا راستہ روکے پھر تو ٹھیک ہے،

پارلیمنٹ اور عدالت الگ الگ ادارے ہیں ، جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہاکہ بتادیں کہ کونسی آئین کی شق کی خلاف ورزی ہورہی ہے؟

 قانون پر  اسپیکر کو  خط  نہیں لکھا اور کہہ رہے ہیں کہ سپریم کورٹ کا رجسٹرار خط لکھے،

آپ  کو دلائل دیتےہوئے 45 منٹ ہوچکے ہیں،چیف جسٹس کا وکیل سے مکالمہ

 جسٹس محمد علی مظہر نے جو سوال  پوچھا ہے اس کا جواب دیں، چیف جسٹس کا وکیل سے مکالمہ

جسٹس جمال مندو خیل نے ریمارکس دیتےہوئےکہاکہ اتنا بتا دیں کونسی  آئینی شق کی  یہ قانون خلاف ورزی ہے   تو بات ختم ہوجاتی ہے،

جو عدالتی نظائر دیئے گئے  لگتا ہے  بہت  تیاری کی ہے ، چیف جسٹس کی اکرام چودھری کی تعریف نے

جسٹس منیب اخترریمارکس دیتےہوئےکہاکہ عدالت کے پاس سوال قانون سازی کا ہے،

وکیل اکرام چودھر ی کا اے کے بروہی کی کتاب کا حوالہ

آپ نے جو جملہ پڑھا میں اس سے اتفاق نہیں کرتا، چیف جسٹس کا وکیل سے مکالمہ

اے کے بروہی کی کتاب میں عدلیہ کو حکومت کا ڈیپارٹمنٹ لکھا گیا، عدلیہ حکومت  کا حصہ نہیں ،

کیا یہ اے کے بروہی  نے پہلے مارشل لا کو قانونی کیے جانے پر یہ کتاب نہیں لکھی؟ جسٹس اطہر من اللہ  نے استفسار کیا جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیئے کہاکہ

یہ بروہی  کا اپنا خیال نہیں انہوں نے کسی بات کی سپورٹ میں لکھا، اے کے بروہی نے کتاب پہلی مارشل لا ء  سے پہلے لکھا تھا ،

کیا پارلیمان قانون سازی سے سپریم کورٹ کو ریگولیٹ کر سکتی ہے؟

ایکٹ کا سیکشن 7 آپ نے پڑھا نہیں، جسٹس منیب اختر  کا وکیل سے  سوال

کیا اتنی چھوٹی چھوٹی چیزیں بھی سپریم کورٹ کی پارلیمنٹ ریگولیٹ کر سکتی ہے؟

آپ سوالات کا جواب سوچ کر تحریری بھی دے سکتے ہیں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسٰی  نے استفسار کیاکہ ہم آپ کو سننا چاہتے ہیں مگر اور بھی وکیل ہیں،

سپریم کورٹ میں وکیل اکرام  چودھری  کے دلائل مکمل

جسٹس جمال مندو خیل نے استفسار کیاکہ آپ  کی درخواست کے مطابق پارلیمان قانون سازی کرسکتی ہے، جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیئے کہ

سارے معاملے میں  آئینی شق کا کیا مطلب جب قانون بن چکا ہے، پارلیمنٹ کو قانون سازی سے پہلے مکمل طریقہ کار اپنانا چاہیے تھا جو نہیں کیا گیا، جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیئے کہ انصاف تک رسائی کا حق دینا آئین کی بنیاد ہے،

کیا پارلیمنٹ  ہونے والی قانون سازی کرنے کے لیے بااختیار نہیں؟ وکیل اکرام چودھری نے عدالت کو آگاہ کیاکہ آرٹیکل 8 کہتا ہے ایمرجنسی میں آئینی شقیں معطل کی جا سکتی ہیں، جسٹس سردار طارق نے ریمارکس دیئےکہپارلیمنٹ قانون نہیں بتا سکتا پتا نہیں کیوں؟ کوئی حوالہ تو دے دیں، میرے بنیادی حقوق کا تحفظ ضروری ہے، وکیل اکرام چودھری نے عدالت کو بتایاکہ باقی دلائل تحریری طور پر جمع کرا دوں گا،

درخواست گزار نیاز اللہ نیازی کے وکیل اکرام چودھری کے دلائل مکمل

 درخواست گزار مدثر حسن کے وکیل حسن عرفان  کے  دلائل جاری

تمام عدالتی سوالات کے جواب آئین میں موجود ہیں،

اکرام چودھری کی طرح دلائل دیں ،چیف جسٹس  کی  حسن  عرفان کوہدایت

 آرٹیکل 191 سپریم کورٹ کو اختیار دیتا ہے کہ وہ معاملات چلائے،

 شق کے تحت سپریم کورٹ رولز کے مطابق تمام ججز نے اختیار چیف جسٹس کو دیئے،وکیل

یہ بات کونسے رولز میں لکھی ہے وہ بتائیں؟چیف جسٹس کا وکیل سے مکالمہ

 قانون سے جو عدلیہ کے اندر اختیارات کی تقسیم تھی اس میں مداخلت کی گئی،

اس قانون کے تحت اب وہ اختیارات پارلیمان نے لے لیے،قانون سپریم کورٹ کے اختیارات ایک کمیٹی کو دے رہا ہے، چیف جسٹس نے استفسارکیاکہ

کیا آپ کہہ رہے ہیں کہ یہ اختیار چیف جسٹس کا نہیں سپریم کورٹ کا ہے؟

پوری سپریم کورٹ کے ججز بیٹھ کر رولز بناتے ہیں، وکیل حسن عرفان

کیا سپریم کورٹ کے اختیارات کسی ایک کو دیئے جا سکتے ہیں؟جسٹس جمال مندوخیل

سپریم کورٹ کے اختیارات کس قانون کے تحت دوسرے کو دیئے جا سکتے ہیں؟ جسٹس محمد علی مظہر  نے استفسار کیا

مقدمات کو مقرر کرنا اور بینچز کی تشکیل دینا سپریم کورٹ کے انتظامی اختیارات ہیں، جسٹس اعجاز الاحسن  نے ریمارس دیئے

قانون نے بظاہر چیف جسٹس سے اختیارات لے کر دو مزید ججز کو دیئے گئے، کے رولز بنانے کے اختیارات کو کچھ تحفظ حاصل ہے،

ہم نے آپ سے کوئی سوال نہیں پوچھا ابھی اپنے طریقے سے دلائل دیں، چیف جسٹس کا وکیل  سے مکالمہ

آپ جو باتیں بول رہے ہیں وہ درخواست میں کہاں ہیں؟ چیف جسٹس  کا وکیل  سے سوال

چیف جسٹس نے عدالتی کارروائی کے دوران نئی دستاویزات پیش کرنے سے روک دیا

آپ ریکارڈ سے بات کریں ایسے کورٹ میں ہم کوئی چیز نہیں لیں گے،

یہ  دستاویزات فائل کرنے کا  کوئی طریقہ نہیں ہے ، چیف جسٹس کا وکیل سے مکالمہ

 پارلیمان اگر یہی اختیار وفاقی حکومت کو دے دیتی تو پھر کیا ہوتا؟

یہ قانون انصاف تک رسائی کا قانون ہے،

کیا پارلیمان اس قانون کو بنانے کا اختیار نہیں رکھتی؟

قانون نے بظاہر چیف جسٹس سے اختیارات لے کر دو مزید ججز کو دیئے گئے، جسٹس اعجاز الاحسن  نے استفسار کیاکہ

سپریم کورٹ کے رولز بنانے کے اختیارات کو کچھ تحفظ حاصل ہے،

ہم نے آپ سے کوئی سوال نہیں پوچھا ابھی اپنے طریقے سے دلائل دیں، چیف جسٹس کا وکیل  سے مکالمہ

آپ جو باتیں بول رہے ہیں وہ درخواست میں کہاں ہیں؟ چیف جسٹس  کا وکیل  سے سوال

چیف جسٹس نے عدالتی کارروائی کے دوران نئی دستاویزات پیش کرنے سے روک دیا

آپ ریکارڈ سے بات کریں ایسے کورٹ میں ہم کوئی چیز نہیں لیں گے،

یہ  دستاویزات فائل کرنے کا  کوئی طریقہ نہیں ہے ، چیف جسٹس کا وکیل سے مکالمہ

 پارلیمان اگر یہی اختیار وفاقی حکومت کو دے دیتی تو پھر کیا ہوتا؟

یہ قانون انصاف تک رسائی کا قانون ہے،

کیا پارلیمان اس قانون کو بنانے کا اختیار نہیں رکھتی؟

ججز کا حلف پڑھ کر سنائیں،  چیف جسٹس  کی  وکیل  کوہدایت

پارلیمان سپریم ہے لیکن  آئین کے تابع ہے ،وکیل

حلف میں آئین کے ساتھ قانون کا بھی  ذکر ہے  اس کو مدنظر رکھیں،

 پارلیمان کچھ کرے تو سب کو حلف یاد  آجاتا ہے ،چیف جسٹس قاضی فائز عیسٰی

اس عدالت نے کئی بار مارشل لا کی توثیق کی،

 لکیر کے فقیر رہیں تو پھر آئندہ مارشل  لا ء  کا راستہ کھولنا چاہتے ہیں ،

پارلیمان کہتی ہے کہ انہوں نے صحیح قانون سازی کی ہے،

ماضی میں 184/3 کے استعمال سے لوگوں کے حقوق متاثر ہوئے،

جب ملک میں مارشل لا ء لگتا ہے تو سب اپنے ہتھیار پھینک دیتے ہیں

مارشل لاء کے وقت  کیوں سارے لوگ یہاں   نہیں آجاتے،

پارلیمان نے قانون سازی کی آڑ میں دراصل  آئین میں ترمیم کر دی ، وکیل حسن عرفان

آپ اب تک درخواست قابل سماعت ہونے پر دلائل دے رہے ہیں؟ جسٹس عائشہ ملک  نے استفسارکیاکہ

صرف یہ بتا دیں کہ کون کون سی دفعات سے آپ متفق یا مخالف ہیں،

سوال پوچھا گیا تھا قانون کس بنیادی حق سے متصادم ہے، وکیل حسن عرفان

انصاف بنیادی حق ہے جس کا تعلق تمام بنیادی حقوق سے ہے،

آرٹیکل 184 تین خاموش ہے کہ کون سا خاص حق متاثر ہو گا تو نوٹس ہو سکے گا،

آپ مفاد عامہ کی بات کر رہے ہیں، آئین کے پہلے حصے میں لکھے بنیادی حقوق آتے ہیں،

کیا انصاف تک رسائی کیلئے قانون سازی نہیں ہوسکتی؟

درخواست گزار اس کیس سے کیسے متاثرہ فریق ہے

میرا موکل وکیل ہے اور نظام انصاف کی فراہمی کا ا سٹیک ہولڈر ہے،

انصاف تک رسائی کیلئے بنیادی شرط آزاد عدلیہ بھی ہے،

اگر قانون کا مقصد انصاف تک رسائی ہے تو فل کورٹ کیخلاف اپیل کا حق کیوں نہیں ہوگا؟

کیا فل کورٹ کیخلاف اپیل کا حق نہ ہونا انصاف تک رسائی کے منافی نہیں؟

اپیل کا حق برقرار رکھنے کا ایک مطلب یہ کہ فل کورٹ یا لارجر بینچ  کا راستہ بلاک ہوگیا، جسٹس عائشہ ملک

جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتےہوئےکہاکہ
آرٹیکل 184(3) میں اپیل نہیں دی گئی تو آئین کی منشا نہیں تھی، آرٹیکل 184(3) میں اپیل نہیں دی گئی تو آئین کی منشا نہیں تھی،

اب اگر یہ منشا ہے تو آئین کی ترمیم سے ہی کیا جا سکتا ہے،

 سپریم کورٹ نے پرویز مشرف کو آئین میں ترمیم کی اجازت دی تھی، چیف جسٹس قاضی فائز عیسٰی    نے استفسار کیاکہ

کیا آپ سپریم کورٹ کے فیصلے سے اتفاق کرتے ہیں؟ وکیل  حسن عرفان نے عدالت کوآگاہ کیاکہ

سپریم کورٹ کے ظفر علی شاہ کیس کے فیصلے سے متفق نہیں،

کیا پارلیمان نے اچھا قانون نہیں بنایا کہ ہم اس فیصلے کو واپس لے سکیں؟ چیف جسٹس

ججز نے حلف کی خلاف ورزی کرتے ہوئے آئین کیساتھ کھلواڑ کی اجازت دی، سپریم کورٹ بار کہتی تھی کسی ڈاکٹرائن کی وجہ سے مقدمات مقرر نہیں ہوتے،

کیا ڈاکٹرائن آئین اور قانون کے مطابق تھی؟

آپ کہتے ہیں بس فرد واحد کا اختیار کم نہ ہو، چی

فرد واحد نے ہی ہمیشہ ملک کی تباہی کی ہے، چی

مارشل لاء لگتا ہے تو ملک فرد واحد ہی چلاتا ہے،

ہم آپس میں تین لوگ فیصلہ کریں یا پانچ کریں آپکو کیا مسئلہ ہے؟

پارلیمان کو احترام دینا ہوگا، مفروضوں کی نہیں حقیقت کی زبان جانتا ہوں

مولوی تمیز الدین  یا نصرت بھٹو کیس سے شروع کریں ،

انہوں نے کہا آئین کے ساتھ جو کھلواڑ کرنا چاہو کرو،

پاکستان کے ساتھ کھلواڑ ہونے نہیں دے سکتے،

سپریم کورٹ موڈ پر نہیں چل سکتی آج تمیز الدین کیس کو ٹھیک کہے کل غلط، کیا کہیں سپریم کورٹ نے غلط کیا یا کہیں سپریم کورٹ جنگل کا بادشاہ ہے،

جب تک اعتراف نہ ہو اصلاح نہیں ہو سکتی، 

 سپریم کورٹ قانون و آئین کیمطابق ہی رولز بنا سکتی ہے،

آئین اور قانون تو پارلیمنٹ ہی بناتی ہے، 

یہ تو عدالت نے اکثریت سے فیصلہ کرنا ہے،  وکیل حسن عرفان

تو پھر ہم کر لیں گے آپ تشریف رکھیں، چیف جسٹس  کا وکیل سے مکالمہ

آرٹیکل191میں آئین کے ساتھ قانون کا لفظ لکھنے کی ضرورت کیا تھی سوال یہ ہے،چیف جسٹس

آپ یہ بتا دیں آئین و قانون سے سے رولز کو مشروط کرنے کامطلب کیا ہے؟ جسٹس عائشہ ملک

کیا اس شرط کو عائد کرنے سے پابند کیا گیا ؟

میری سمجھ کیمطابق ہم پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کے تحت بھی رولز بنا سکتے ہیں، جسٹس  محمد علی مظہر

پہلے سےموجود قانون کی بات کی گئی ہے،

 عدلیہ کے فنکشنز کو پارلیمنٹ کنٹرول نہیں کرسکتی، میں اس پر کلیئر ہوں، وکیل

کیا جس طرح سے یہ  آئینی ترمیم کی گئی ہے اس طرح سے یہ ہوسکتی ہے، جسٹس مظاہر نقوی ریمارکس دیئے کہ

کیا اس سے پہلے کوئی رپورٹ  منگوائی گئی تھی؟

 ججز کے سوالات کو سنجیدگی سے اس کا پھر جواب دیں،

184تین کے تحت اختیار پہلے سے سپریم کورٹ کے پاس ہے، پارلیمنٹ نےبڑھایا؟ عدالت

 یہ کہنا کہ سپریم کورٹ کے لیجسلیٹیو اینٹری کے ذریعے بڑھایا جا سکتا ہے کیسے ممکن ہے؟جسٹس اعجازالاحسن  نے استفسار کیا

اگر ایسا ہے تو مسابقتی کمیشن کے قانون میں اپیل کا حق کیسے دے دیا گیا تھا؟ جسٹس منصور علی شاہ نے استفسار کیا

وکیل حسن عرفان خان کے دلائل مکمل،وکیل  پی ٹی آئی عزیر بھنڈاری کے جاری

فیڈرل قانون سازی فہرست کے علاوہ کوئی قانون سازی نہیں ہوسکتی، وکیل عذیر بھنڈاری

قانون سازی لسٹ میں  اسپیس پروگرام اور مصنوعی ذہانت کا ذکر ہے نہ ہی سوشل میڈیا کا، چیف جسٹس

کیا پارلیمان  اسپیس پروگرام کے حوالے سے قانون سازی نہیں کر سکتی؟ چیف جسٹس

اگر قانون سازی ہوتی ہے تو پارلیمان کونسا اختیار استعمال کرے گی؟ چیف جسٹس

عذیر بھنڈاری کی جانب سے امریکی عدالت کے فیصلے کا حوالہ

امریکی عدالت کو چھوڑیں اپنے آئین کی بات کریں، چیف جسٹس  کی وکیل کو ہدایت

جناب میں  اسپیس پروگرام کے حوالے سے کیس تیار کرکے نہیں آیا، وکیل عذیر بھنڈاری

دو سماعتوں سے میں سن ہی رہا ہوں اب آپ بھی مجھے بولنے دیں، وکیل پی ٹی آئی

آپ اپنے طریقے سے دلائل دیں میں معذرت خواہ ہوں، چیف جسٹس

 آپ سے جو کہا جا رہا ہے آپ آمادگی کا اظہار کر رہے ہیں، جسٹس منصور علی شاہ

آرٹیکل 191 کا اہم آئینی سوال ہمارے سامنے ہے، جسٹس منصور علی شاہ

کیا آرٹیکل 191 پارلیمنٹ کو سپریم کورٹ سے متعلق قانون سازی  کا اہل بناتا ہے؟ جسٹس منصور علی شاہ

آرٹیکل 191 میں سبجیکٹ ٹو لاء کا کیا مطلب ہے یہ بتا دیجیے، جسٹس منصور علی شاہ

آرٹیکل 191 میں تو ابہام ہے یہ آپ نے فیصلہ کرنا ہے، وکیل حسن عرفان

 رولز آرڈر 11 کہتا ہے کہ چیف جسٹس کا اختیار ہے جو  سیکشن 2 تین ججز پر تقسیم کر رہا ہے،عدالت

ایکٹ کے سیکشن 2 اور سپریم کورٹ رولز میں تضاد آ چکا، جسٹس منیب اختر

پارلیمنٹ کی قانون سازی سے بنا تضاد کیسے حل ہو گا؟ جسٹس منیب اختر

یہ تضاد حل کرنا تو مشکل ہے، وکیل حسن عرفان

کیا 1956 کے آرٹیکل 177 اور 1973 کے آرٹیکل 191 میں فرق ہے؟ جسٹس منیب اختر

قانون سازی سے سپریم کورٹ رولز کو ختم نہیں کیا جا سکتا، جسٹس منیب اختر

باز محمد کاکڑ کیس میں سپریم کورٹ واضح کہہ چکی  ہے ، جسٹس منیب اختر

آئین کے تحت بنے رولز کو سادہ قانونی سازی سے ختم نہیں کیا جا سکتا،جسٹس اعجازالاحسن

سپریم کورٹ کے 1956 کے رولز کو 1973 کے آئین میں ختم نہیں کیا گیا تھا، جسٹس منیب اختر

آپ ہاں نا کے سوا کچھ نہیں کہہ رہے، چیف جسٹس پاکستان کا وکیل حسن عرفان سے مکالمہ

دنیا میں پارلیمنٹ کے قانون سے بالا کوئی رولز ہو سکتے ہیں؟ جسٹس اطہر من اللہ

دنیا کی کوئی مثال ہو تو دے دیجیے گا، جسٹس اطہر من اللہ

سپریم کورٹ رولز آرٹیکل 191 کے تحت غیر آئینی ہو نہیں سکتے، جسٹس جمال مندوخیل

اگر پارلیمنٹ پر قانون سازی کی پابندی نہیں ہے تو اجازت بھی نہیں ہے، وکیل حسن عرفان

آپ صرف ادھر ادھر کی باتیں کر رہے ہیں بار بار بات نا دہرائیں، چیف جسٹس

یہ ایکٹ اپیل کا حق بھی دے رہا ہے اس پر اپنی رائے دیجیے، چیف جسٹس

آرٹیکل 191 میں سبجیکٹ ٹو لاء کا کیا مطلب ہے یہ بتا دیجیے، جسٹس منصور علی شاہ

آرٹیکل 191 میں تو ابہام ہے یہ آپ نے فیصلہ کرنا ہے، وکیل حسن عرفان

پارلیمنٹ کی قانون سازی سے بنا تضاد کیسے حل ہو گا؟ جسٹس منیب اختر

یہ تضاد حل کرنا تو مشکل ہے، وکیل حسن عرفان

کیا 1956 کے آرٹیکل 177 اور 1973 کے آرٹیکل 191 میں فرق ہے؟ جسٹس منیب اختر

قانون سازی سے سپریم کورٹ رولز کو ختم نہیں کیا جا سکتا، جسٹس منیب اختر

سپریم کورٹ کے 1956 کے رولز کو 1973 کے آئین میں ختم نہیں کیا گیا تھا، جسٹس منیب اختر

آپ ہاں نا کے سوا کچھ نہیں کہہ رہے، چیف جسٹس پاکستان کا وکیل حسن عرفان سے مکالمہ

دنیا میں پارلیمنٹ کے قانون سے بالا کوئی رولز ہو سکتے ہیں؟ جسٹس اطہر من اللہ

دنیا کی کوئی مثال ہو تو دے دیجیے گا، جسٹس اطہر من اللہ

سپریم کورٹ رولز آرٹیکل 191 کے تحت غیر آئینی ہو نہیں سکتے، جسٹس جمال مندوخیل

اگر پارلیمنٹ پر قانون سازی کی پابندی نہیں ہے تو اجازت بھی نہیں ہے، وکیل حسن عرفان

چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ آپ صرف ادھر ادھر کی باتیں کر رہے ہیں بار بار بات نا دہرائیں، یہ ایکٹ اپیل کا حق بھی دے رہا ہے اس پر اپنی رائے دیجئے چیف جسٹس نے استفسار کیاکہ

پیر کو  وکلا جو اس قانون کو آئین کے خلاف سمجھتے ہیں ان کو سنیں گے،

آئندہ سماعت پرن لیگ، ایم کیوایم کے وکلا  قانون کے حق میں دلائل دینگے

تمام وکلاآئندہ سماعت تک تحریری دلائل جمع کرائیں، 

وقت زیادہ ہوچکا ہے، سماعت ملتوی کریں،  

کیا جمعے کا دن بہترہوگا، وکلاء نے بتایاکہ

پیر کو سماعت رکھ لیں تو بہتر ہوگاچیف جسٹس استفسار کیاکہ

پیر کو رات دیر تک سماعت جاری رہی تو سماعت جاری رکھیں گے 

سماعت پیر تک ملتوی کرتے ہیں،

 قانون کو غیر قانونی کہنے والے 2 درخواستگزاروں کے وکیل رہتے ہیں، 

ہم آئندہ سماعت پر دونوں وکلا کو سنیں گے، 

 دونوں وکلا کو 15 منٹ کا وقت دینگے، 

پہلے وکلا دوسرے وکیل کے دلائل ایڈیٹ کرتے تھے، 

لیکن اب ٹی وی کی وجہ سے سب بولنا چاہتے ہیں، 

زمان خان وردگ نے تحریری دلائل جمع کرائے ہیں ان کو ریکارڈ لا حصہ بناتے ہیں،آرڈر

پیر کو انشاء اللہ سماعت کا  آخری دن ہوگا،