سپریم کورٹ،عسکری فور کراچی میں کثیر منزلہ عمارت کی تعمیر روکنےسے متعلق کیس کی سماعت ہوئی ہے۔
عدالت نے آرمی ہاؤ سنگ ڈائریکٹوریٹ کی درخواست ناقابل سماعت ہونے پر مسترد کر دی
سپریم کورٹ نے آرمی ہاؤ سنگ ڈائریکٹوریٹ کی جانب سےدرخواست پرسوالات اٹھا دیئے
نے استفسار کیاکہ آرمی ہاؤ سنگ ڈائریکٹوریٹ کا قانونی وجود کیا ہے؟سپریم کورٹ
آرمی ہاؤ سنگ ڈائریکٹوریٹ کے قانونی وجود پرآئین یا کسی قانون میں ذکر ہے؟
کیا وفاقی حکومت کے ادارے اپنے کیسز میں پرائیویٹ وکیل کر سکتے ہیں؟
قانونی وجود نہ رکھنے والے کی درخواست کی اجازت دینے پر ایڈووکیٹ آن ریکارڈ پر تعجب ہوا،
قانونی وجود نہ رکھنے پر آرمی ہاوسنگ ڈائریکٹوریٹ درخواست دائر نہیں کر سکتا،
آرمی ہاؤ سنگ ڈائریکٹوریٹ متاثرہ فریق ہو تو وفاق کے ذریعے درخواست دائر کرسکتا ہے،
کیس میں آرمی ہاؤ سنگ ڈائریکٹوریٹ نے تو وفاق، صدر سمیت دیگر کو فریق بنایا ،
کیا یہ وفاقی حکومت کا اپنے ہی خلاف کیس ہے؟چیف جسٹس قاضی فائز عیسٰی نے استفسار کیاکہ
آرمی جنرل ہیڈ کوارٹرز ہاؤ سنگ ڈائریکٹوریٹ کا حق دعوی ٰہو ہی نہیں سکتا،
آرمی ہاؤ سنگ ڈائریکٹوریٹ نہ کوئی فلاحی ادارہ ہے نہ کارپوریشن،
جب آئین و قانون میں وجود رکھتا ہی نہیں تو درخواست کیسے دائر کر سکتا ہے؟
صدارتی آرڈر میں آئین و قانون کا حوالہ کہاں ہے؟
آرٹیکل 245 پڑھیں کیا کہتا ہے، جسٹس اطہر من اللہ کی عابد زبیری کو ہدایت
افواج کا آرٹیکل 245 سے باہر کوئی کام نہیں ہے، جسٹس اطہر من اللہ نے کہاکہ
آپ سینئر وکیل ہیں اور ایک قانونی وجود نہ رکھنے والے ادارے کی نمائندگی کر رہے ہیں؟
قانونی وجود نہ رکھنے والے درخواست گزار کا کیس نہیں سن سکتے۔