سپریم کور ٹ،ذوالفقارعلی بھٹوریفرنس پر سماعت
جنوری کے دوسرے ہفتے تک ملتوی
وکیل فاروق ایچ نائیک اوراٹارنی جنرل منصوراعوان
سپریم کورٹ میں پیش ہوئے
چیف جسٹس قاضی فائزعیسیٰ کی سربراہی میں 9رکنی لارجربینچ نے سماعت کی
عدالت نےریفرنس میں پیش ہونے والے وکلا ءکےنام لکھ
لیے چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہاکہ سپریم کورٹ کی کارروائی پہلے پاکستان ٹیلی
ویژن پرنشرکرتےتھے،
اب ہماری کمیٹی نے فیصلہ کیا کہ ویب سائٹ پر کارروائی لائیو ہوگی،
فاروق ایچ نائیک
کی جانب سے براہ راست کارروائی کی
درخواست منظور کرنے پر اظہارتشکر چیف جسٹس قاضی فائزعیسیٰ نے ریمارکس میں کہاکہ
آپکی درخواست سے پہلےہم نےلائیو نشریات کا فیصلہ کر
لیا تھا، اٹارنی جنرل منصوراعوان نے عدالت کو آگاہ کیاکہ
ذوالفقارعلی بھٹوریفرنس کی آخری باس2012 میں سماعت
ہوئی تھی، چیف جسٹس قاضی فائزعیسیٰ نے استفسار کیاکہ
پہلے یہ دیکھ
لیتےہیں کون کس کی نمائندگی کرتا ہے،
چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹونےفریق بنےکی درخواست
دے دی وکیل فاروق ایچ نائیک نے عدالت کو بتایاکہ
چیف جسٹس نے ریمارکس دیئےکہ میں چیئرمین
پیپلزپارٹی بلاول بھٹوکی نمائندگی کررہاہوں،
ہم آپ کو ورثا ء اوربطور سیاسی جماعت کے کارکن سن
سکتےہیں،
براہ راست کارروائی کےلیےایک کمیٹی تشکیل دی تھی،
آج براہ راست کاروائی کالنک دستیاب ہے،
صدارتی ریفرنس ابھی بھی برقرار ہےواپس نہیں کیا گیا،
اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ
چیف جسٹس نے استفسار کیاکہ مجھےکوئی
ہدایات نہیں ملی کہ یہ ریفرنس نہ سنا جائے،
یہ صدارتی ریفرنس ہےتوکیا حکومت اس کواب بھی چلانا
چاہتی ہے؟ اٹارنی جنرل جواب دیاکہ
مجھے ہدایات ہیں کہ صدارتی ریفرنس کو حکومت
چلاناچاہتی ہے، وکیل احمد رضا قصوری نےاستدعا
کی کہ
کیس میں
مجھے بھی سنا جائے، چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ
ہر قانونی وارث کا حق ہے کہ اسے سنا جائے،
اٹارنی جنرل منصور اعوان کی جانب سے دلائل جاری رہے چیف جسٹس قاضی
فائزعیسیٰ نے استفسار کیاکہ
کونسے صدرنے یہ ریفرنس بھیجا تھا؟ اٹارنی جنرل منصوراعوان نے جواب دیا
کہ
یہ ریفرنس آصف زرداری نے بھیجا تھا، جس پرچیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیاکہ
آصف زرداری
کےبعد کتنےصدر آئے ہیں؟
آصف زرداری کے بعد دو صدورآچکے ہیں،اٹارنی جنرل کا
جواب، چیف جسٹس قاضی فائزعیسیٰ نے استفسار کیاکہ
کسی صدرنے یہ ریفرنس واپس نہیں لیا،
چیف جسٹس کا سپریم کورٹ کی جانب سےپہلےریفرنس
مقررنہ کیےجانے پراظہارافسوس
اٹارنی جنرل
منصوراعوان نےعدالت میں ریفرنس پڑھ کرسنایا
جسٹس مسرت
ہلالی اٹارنی جنرل نےریفرنس میں اٹھائے گئے سوالات عدالت کےسامنے
رکھے
کیا لاہور ہائیکورٹ میں ٹرائل کے دوران بینچ پر
اعتراض کی کوئی درخواست دی گئی؟ اٹارنی جنرل منصوراعوان
نے کہاکہ
ریکارڈ کےمطابق کئی درخواستیں دی گئی تھیں،
اٹارنی جنرل منصور اعوان کاسابق جج نسیم حسن شاہ کے
انٹرویو کاحوالہ
یہ انٹرویوکس کو دیا گیا تھا؟چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ
کاسوال
یہ انٹرویوجیو پرپروگرام جوابدہ میں افتخاراحمد کودیا
گیاتھا،فاروق ایچ نائیک
کیا افتخاراحمد اب بھی جیو میں ہیں؟چیف جسٹس قاضی
فائز عیسیٰ کا سوال
افتخاراحمد اب جیو میں نہیں،انٹرویو موجود ہے،فاروق
نائیک
دو انٹرویو کاذکر کیا گیا ہے،چیف جسٹس قاضی فائزعیسیٰ
دوسراانٹرویو کسی انجان کو دیا گیا ،فاروق نائیک
دوسرےانٹرویومیں نسیم حسن شاہ نے کہا مارشل لاء
والوں کی بات ماننا پڑتی ہے،وکیل
احمد رضا قصوری
بھی سپریم کورٹ میں روسٹروم پرموجود
احمد رضا قصوری نےنسیم حسن شاہ کےنوائے وقت کےانٹرویو
کاحوالہ دیا
کیا آپ نسیم حسن شاہ کےانٹرویو پرانحصار کریں گے؟جسٹس
جمال مندو خیل
جسٹس نسیم حسن شاہ نے یہ بتایا کہ کس نےان پردباؤ
ڈالا تھا،جسٹس جمال مندوخیل
اس وقت مارشل لا ءتھا تو مارشل لاء کی بات کی گئی،وکیل
فاروق ایچ نائیک
ایک سینئرممبر بینچ میں شامل نہیں ہوناچاہتےتھے،چیف
جسٹس قاضی فائزعیسیٰ
دو اورججز نےذاتی وجوہات پرسماعت سےمعذرت کی،چیف
جسٹس قاضی فائزعیسیٰ
ججز کی جانب سےمعذرت کے بعد9رکنی بینچ تشکیل دیا گیا، چیف جسٹس قاضی فائزعیسیٰ
چیف جسٹس قاضی فائزعیسیٰ کی
اٹارنی جنرل کو دلائل جاری رکھنے کی ہدایت
اٹارنی جنرل منصوراعوان نے ریفرنس پر اٹھائے گئے قانونی نکات بھی
پڑھ کرسنائے
صدر پاکستان کی ریفرنس میں اُس قت نمائندگی کس نے کی
تھی؟ چیف جسٹس
صدر کی ریفرنس میں اُس قت نمائندگی بابر اعوان نے کی تھی، اٹارنی جنرل منصوراعوان
کیا بابر اعوان کمرہ عدالت میں موجود ہیں ؟ چیف
جسٹس قاضی فائزعیسیٰ
بابر اعوان
کا لائسنس اُس وقت معطل ہوگیا تھا،وکیل
فاروق نائیک
بابر
اعوان اُس وقت حکومت کی نمائندگی کررہے
تھے، فاروق نائیک
کیاعلی احمد کُرد کیس میں معاونت کریں گے ؟ چیف جسٹس قاضی فائزعیسیٰ
جی کیس میں
عدالت کی معاونت کروں گا،علی احمد کرُد کا چیف جسٹس کو جواب
ریفرنس میں کوئی قانونی سوال نہیں اٹھایا تھا، وکیل
احمد رضا قصوری
بابر اعوان بوکھلاہٹ کا شکار ہو گئے تھے، احمد رضا
قصوری
کیا اس میں ضمنی ریفرنس بھی آیا تھا؟ جسٹس میاں محمد
علی مظہر
متفرق درخواست
کے ساتھ چیزیں آئی تھیں، اٹارنی جنرل
سپریم کورٹ آرڈر میں متفرق درخواست
کا ذکر کیوں تھا؟چیف جسٹس
21اپریل 2011کو صدارتی
حکمنامہ جاری کیا گیا تھا، اٹارنی جنرل منصور اعوان
بھٹو ریفرنس میں
سوالات تھے ہی نہیں تو سپلیمنٹری ریفرنس داخل کیوں کیا گیا؟جسٹس طارق مسعود
صدارتی حکمنامے کے ذریعے بھٹو ریفرنس کے سوالات فریم
کیے گئے، اٹارنی جنرل
صدارتی ریفرنس کس وکیل نے دائر کیا؟چیف جسٹس قاضی
فائزعیسیٰ
صدارتی ریفرنس
2011 میں بابر اعوان کے ذریعے دائر کیا گیا ،اٹارنی جنرل منصور اعوان
بابر اعوان کا لائسنس 2 سال کیلئے منسوخ ہوا،اٹارنی
جنرل منصور اعوان
2012میں سماعت کے دوران
بابر اعوان سے سخت سوالات ہوئے، احمد رضا قصوری
بابر اعوان کے جواب نہیں تھا تو وہ مشتعل ہوئے
اور ان کا لائسنس منسوخ کیا، احمد رضا
قصوری
آپ ریفرنس کے سوالات پڑھیں، چیف جسٹس کی اٹارنی
جنرل کو ہدایت
کیس میں کئی
وکلا ء وفات پاچکے ہیں ،چیف جسٹس قاضی فائزعیسیٰ
سپریم کورٹ کا ذوالفقار علی بھٹو ریفرنس میں عدالتی
معاونین مقرر کرنے کا فیصلہ
کیس میں
عدالتی معاونین مقرر کریں گے ، ناموں کا فیصلہ بعد میں کرتے ہیں،چیف جسٹس
میں انٹرویوز کا ٹرانسکریٹ اور ویڈیوز پیش کروں گا،
وکیل فاروق نائیک
کیا اعتزاز احسن اس کیس میں آئینگے؟چیف جسٹس قاضی
فائزعیسیٰ
اعتزاز وکیل
بھی ہیں بطور معاون نہیں آئینگے، معاون وکیل
آپ تقریر نہ کریں ہاں یا نہ میں بتائیں، چیف جسٹس
قاضی فائزعیسیٰ
نہیں اعتزاز احسن
نہیں آئینگے، معاون وکیل کا عدالت کوجواب
قاضی
اشرف اس کیس میں معاون تھے، چیف جسٹس
قاضی فائزعیسیٰ
قاضی اشرف تندرست ہیں اور پریکٹس کررہے ہیں، فاروق
نائیک
کیا پولیس سے کیس کا اصل ریکارڈ ملا تھا؟چیف جسٹس
قاضی فائزعیسیٰ
پولیس سے کیس
کا اصل ریکارڈ نہیں ملا، اٹارنی
جنرل منصور اعوان
سابق صدر آصف زرداری نے روسٹرم پر آکروکیل فاروق ایچ نائیک کو ہدایات دیں
اعتزاز احسن نے ذوالفقار علی بھٹو صدارتی ریفرنس میں
معاونت سے معذرت کرلی
اعتزاز احسن بھٹو ریفرنس پر عدالت کی معاونت نہیں
کرنا چاہتے،معاون وکیل
مخدوم علی خان بھی عدالت کی معاونت کریں گے، معاون
وکیل سعد ہاشمی
صدارتی ریفرنس میں اب تک کیا احکامات دیئے گئے ہیں؟
چیف جسٹس
ریفرنس میں عدالت نے پنجاب پولیس سے ریکارڈ منگوایا تھا، اٹارنی جنرل
عدالتی حکم
میں توبہ کا تذکرہ کیا گیا کیا کوئی بتائے گا کیوں ذکر ہوا؟چیف جسٹس کا استفسار
کیا وکیل فاروق نائیک اور احمد رضا قصوری بتا سکتے
ہیں؟چیف جسٹس قاضی فائزعیسیٰ
اس معاملے کا
ماہر نہیں ہوں عدالت کسی عالم کو بلائے، احمد رضا قصوری
کیس کے ریکارڈ سے متعلق 3 بنڈلز آئے تھے،وکیل فاروق ایچ نائیک
جسٹس منصور علی شاہ نے صدارتی ریفرنس پر سوالات
اٹھا دیئے
سپریم کورٹ بھٹو کیس میں فیصلہ سنا چکی اور نظرثانی
بھی خارج ہو چکی، جسٹس منصور علی شاہ
ایک ختم ہوئے کیس کو دوبارہ کیسے دیکھ سکتے ہیں؟
جسٹس منصور علی شاہ
سپریم کورٹ دوسری نظرثانی نہیں سن سکتی، جسٹس منصور
علی شاہ
ایک معاملہ ختم ہو چکا ہے، جسٹس منصور علی شاہ
عدالت کو یہ تو بتائیں کہ کیس میں قانونی سوال کیا ہے؟جسٹس منصور علی
شاہ
فیصلہ بُرا تھا تو بھی سپریم کورٹ کا فیصلہ حتمی ہے
بدلا نہیں جا سکتا،جسٹس منصور علی شاہ
یہ آئینی سوالات ہیں جن کا جواب ضروری ہے، جسٹس
منصور علی شاہ
عدالت کو کوئی قانونی حوالہ تو دیں، جسٹس منصور علی
شاہ کا فاروق نائیک سے مکالمہ
آرٹیکل 186 کے تحت ریفرنس کے ذریعےسپریم کورٹ کےفیصلوں پر نظرثانی
نہیں ہو سکتی، جسٹس منصور
اب ہم بھٹو فیصلے کو چھو بھی نہیں سکتے، جسٹس منصور
علی شاہ کا وکیل فاروق نائیک سے مکالمہ
جو معاملہ حتمی ہو کر ختم ہو چکا اسے دوبارہ کیسے
کھولیں؟ جسٹس منصور علی شاہ کا سوال
بھٹو کیس عوامی اہمیت کا حامل کیس تھا، وکیل فاروق
ایچ نائیک
عوامی اہمیت کا حامل سوال صدر نے دیکھنا تھا، جسٹس
منصور علی شاہ
عدالت قانونی
سوال دیکھے گی، جسٹس منصور علی شاہ
جو بھی کیس ہو عدالت قانونی سوالات کے بغیر فیصلہ کیسے
کر سکتی ہے؟ جسٹس منصور علی شاہ
عدالت کس قانون کے تحت یہ ریفرنس چلائے؟جسٹس منصور
علی شاہ
کیا جب یہ
سارا کیس چلا مُلک میں آئین موجود تھا؟جسٹس منصور علی شاہ
اُس وقت ملک میں مارشل لاء تھا ، اٹارنی جنرل منصور
اعوان
کیس میں جو شکایات دائر ہوئی تھی اس کا ریکارڈ
موصول نہیں ہوا تھا، فاروق نائیک
عدالت نے حکم نامے میں رجسٹرار لاہور ہائیکورٹ کو
سارا ریکارڈ فراہم کرنے کا کہا تھا ،وکیل
جو ٹریبونل بنایا تھا اس کا کیا نام تھا ؟چیف جسٹس
قاضی فائزعیسیٰ
ٹریبونل نے دیکھنا تھا کہ ذوالفقار علی بھٹو کے
خلاف مقدمات درست تھے یا نہیں، فاروق نائیک
ٹریبونل نے
ذوالفقار علی بھٹو کے خلاف تمام مقدمات کو جعلی قرار دیا تھا ،فاروق نائیک
آپ چاہتے ہیں
کہ یہ ریفرنس کھبی نہ سنا جائے تو اعتراض اٹھاتے رہیں، چیف جسٹس
وہ بات کریں جو
موجود ہے ،چیف جسٹس قاضی فائزعیسیٰ کا وکیل سے مکالمہ
ایسا کرنا ہے تو ایک درخواست دے دیں کہ کس کس کو
احکامات دی جائیں ،چیف جسٹس
شفیع الرحمان ٹریبونل رپورٹ کو پبلک کیا گیاتھا، اٹارنی جنرل منصور اعوان
پھانسی کا فیصلہ سپریم کورٹ سے برقرار رہا اور
نظرثانی اپیل مسترد ہوئی ،جسٹس منصور علی شاہ
ہمیں ریفرنس کے قابل سماعت ہونے پر مطمئن کریں، جسٹس
منصور علی شاہ کااٹارنی جنرل سے سوال
آرٹیکل 186 کے تحت قانونی سوال کیا ہے؟جسٹس منصور
علی شاہ
جو فیصلہ حتمی ہوچکا ہے اس کو ٹچ نہیں کرسکتے، جسٹس
منصور علی شاہ
چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول
بھٹو روسٹرم پر آگئے
چیف جسٹس قاضی فائزعیسیٰ نے حکم نامہ لکھوانا شروع کر دیا
آرٹیکل 186
کے تحت صدارتی ریفرنس دائر کر دکیا گیا، حکم نامہ
آخری بار ریفرنس 2012 میں سنا گیا، چیف جسٹس قاضی
فائزعیسیٰ
بدقسمتی سے یہ
ریفرنس بعد میں سنا نہیں گیا اور زیر التوا رہا، عدالت
ریفرنس کی سماعتیں ہوئیں مگر حتمی شکل نہیں دی گئی ،چیف جسٹس قاضی فائزعیسیٰ
فاروق ایچ نائیک نے بلاول بھٹو کی جانب سے فریق
بننے کی درخواست دی،عدالت
فاروق ایچ نائیک نے بتایا کہ ذوالفقار بھٹو کی صرف
ایک بیٹی زندہ ہیں،عدالت
عدالت کو بتایا گیا کہ ذوالفقار بھٹو کے 8پوتے پوتیاں،نواسے
نواسیاں ہیں،عدالت
ورثا ء کی
جانب سے جو بھی وکیل کرنا چاہے کر سکتا ہے،چیف جسٹس قاضی فائزعیسیٰ
بلاول بھٹو کی جانب سے براہ راست نشریات کی بھی
درخواست دائر کی گئی،عدالت
براہ راست نشریات کی درخواست غیر موثر ہو چکی ہے ،چیف
جسٹس قاضی فائزعیسیٰ
ہم آئینی اور کریمنل معاملات پر بھی معاون مقرر کر دیتے ہیں، چیف جسٹس
سپریم کور ٹ کا جسٹس منظور ملک کو عدالتی معاون بنانے کا فیصلہ
خواجہ حارث،خالد جاوید اور سلمان صفدر کو عدالتی معاون بنالیتے ہیں، چیف
جسٹس
کیا کسی کو
معاونین پر اعتراض ہے؟چیف جسٹس قاضی فائزعیسیٰ
احمد رضا قصوری کی جانب سے رضا ربانی پر اعتراض
عدالتی معاونین نیوٹرل ہونے چاہئیں
، احمد رضا قصوری
صلاح الدین،زاہد ابراہیم ،فیصل صدیقی بھی معاون
ہوسکتے ہیں، چیف جسٹس
ذوالفقار علی بھٹو کے ورثا ء اگر اپنا وکیل مقرر
کرنا چاہے تو کرسکتے ہیں، چیف جسٹس
یہ کیس گیارہ سال بعد مقرر کیوں ہوا؟چیف جسٹس قاضی فائزعیسیٰ
ذوالفقار علی بھٹو کیس مقرر کیوں نہیں ہواجواب آپ نے دیناہے ،
اٹارنی جنرل کا چیف جسٹس کو جواب
احمد رضا قصوری کی سماعت الیکشن کے بعد تک ملتوی
کرنے کی استدعا
یہ کیس الیکشن کے لیے استعمال نہیں ہونا چاہیے،
احمد رضا قصوری
ریفرنس کے بعد کئی
آئیں،چیف جسٹس قاضی فائزعیسیٰ
کااحمد رضا قصوری سے مکالمہ
اُس وقت بھی الیکشن معاملات تھے مگر وہ ریفرنس سنے
گئے، چیف جسٹس قاضی فائزعیسیٰ
اب یہ ریفرنس دیر آید درست آید جیسا
ہے،چیف جسٹس قاضی فائزعیسیٰ
ذوالفقارعلی بھٹوریفرنس پر آئندہ سماعت جنوری میں
ہوگی، چیف جسٹس
کئی عدالتی معاونین کا انتقال ہوچکا ہے،علی احمد
کرد
کیا عدالت
ان کے لیے افسوس کا اظہار نہیں کرے گی؟ علی احمد کرد
یہ کیس بھی
سنجیدگی کا متقاضی ہے، اسے سنجیدگی سے دیکھنے دیں، چیف جسٹس
آپ نے کوئی بیان دینا ہے تو میڈیا پر جا کردیں ، چیف
جسٹس قاضی فائزعیسیٰ
اٹارنی جنرل سے پوچھا گیا کیا صدارتی ریفرنس کبھی واپس لیا گیا ؟چیف جسٹس قاضی فائزعیسیٰ
عدالتی حکم پر اٹارنی جنرل نے ریفرنس پڑھ کر سنایا
، چیف جسٹس قاضی فائزعیسیٰ
ریفرنس میں مقرر کیے گئے معاونین کا انتقال ہوچکا
ہے، چیف جسٹس قاضی فائزعیسیٰ
ایک معاون علی احمد کرد ہیں جنہوں نے
معاونت پر بھی رضا مند ہوئے، حکم نامہ
مخدوم علی خان کے معاون وکیل نے بتایا کہ وہ معاونت
کے لیے تیار ہیں ، عدالت
آرٹیکل 186 کے
اسکوپ کا معاملہ توجہ طلب ہے، چیف
جسٹس قاضی فائزعیسیٰ
کس نوعیت کی رائے
دی جاسکتی ہے یہ بھی اہم معاملہ ہے،چیف جسٹس قاضی فائزعیسیٰ
معاملے کے قابل سماعت ہونے پر فوجداری اور آئینی ماہرین کی رائے کیا ہوگی؟عدالت
جسٹس (ر) منظور ملک کو بھی عدالتی معاون مقرر کیا
جاتا ہے، چیف جسٹس قاضی فائزعیسیٰ
عدالتی معاون تحریری یا زبانی طور پر معاونت کرسکتے
ہیں، چیف جسٹس قاضی فائزعیسیٰ
خواجہ حارث بطور ایڈووکیٹ جنرل پنچاب کیس کا حصہ رہ چکے ہیں، چیف جسٹس قاضی فائزعیسیٰ
خواجہ حارث کو عدالتی معاون مقرر کیا جاتا ہے، چیف جسٹس
قاضی فائزعیسیٰ
سلمان صفدر ، رضا ربانی ، خالد جاوید ، ذاہد ابراہیم
اور یاسر قریشی بھی معاون مقرر کرتے ہیں ، عدالت
عدالتی
معاونین فوجداری اور آئینی معاملات پر رائے دیں ،چیف جسٹس قاضی فائزعیسیٰ
ریفرنس میں ایک انٹرویو کو بھی حوالہ بنایا گیا ہے،
چیف جسٹس قاضی فائزعیسیٰ
احمد رضا
قصوری نے بھی نسیم حسن شاہ کی کتاب کا حوالہ دیا،
چیف جسٹس قاضی فائزعیسیٰ
احمد رضا
قصوری نے بھی نسیم حسن شاہ کی کتاب کا دیا، حکم نامہ
فاروق نائیک
نے جسٹس دراب پٹیل کے انٹرویو کا بھی حوالہ دیا
فاروق نائیک اسی انٹرویو کا ٹرانسکرپٹ بھی فراہم کرینگے،
حکم نامہ
نسیم حسن
شاہ کا انٹرویو فراہم کرنے کے لیے نجی ٹی وی چینل کو بھی نوٹس جاری
آخری سماعت پر سپریم کورٹ بار اور عاصمہ جہانگیر کو
بھی نوٹس جاری کیا گیا تھا، حکم نامہ
سپریم کورٹ
بار بھی وکیل مقرر کرنا چاہتے ہیں تو کرلیں، حکم نامہ
سابق جج منظور ملک کو عدالتی معاون مقرر کر دیا گیا
جسٹس ر
منظور ملک کو عدالتی معاون مقرر کیا جاتا ہے،سپریم کورٹ
جسٹس ر
منظور ملک کی معاونت ان کی رضامندی سے مشروط ہوگی، سپریم کورٹ
جسٹس ر منظور ملک کرمنل معاملات پر عدالت کی معاونت
کیلئے تحریری جواب یا ذاتی حیثیت میں پیش ہو سکتے ہیں،سپریم کورٹ
فوجداری
معاملات پر عدالت کی معاونت کیلئے خواجہ حارث کو بھی عدالتی معاون مقرر کیا جاتا
ہے، سپریم کورٹ
بیرسٹر
سلمان صفدر بھی عدالتی معاون مقرر کیے جاتے ہیں، سپریم کورٹ
رضا ربانی، خالد جاوید خان، صلاح الدین احمد کو
عدالتی معاون مقرر کیا جاتا ہے، سپریم کورٹ
وکیل فیصل صدیقی، زاہد ابراہیم اور یاسر قریشی کو
بھی عدالتی معاون مقرر کیا جاتا ہے، سپریم کورٹ
مخدوم علی خان اور احمد علی کرد پہلے سے ہی عدالتی
معاون مقرر ہیں، سپریم کورٹ
سپریم
کورٹ کی جانب سے 9 افراد
عدالتی معاون مقرر
معاونت کی
جائے کہ ریفرنس میں عدالت سے کس قسم کی
رائے درکار ہے؟ سپریم کورٹ
عدلت کی معاونت کی جائے کہ صدارتی ریفرنس قابل
سماعت کیسے ہے؟ سپریم کورٹ
ریفرنس کے
قابل سماعت ہونے پر فوجداری اور آئینی معاملات پر معاونین درکار ہوں گے،عدالت
عدالت کے
پہلے سے 10مقرر کردہ عدالتی معاونین میں سے6 کا انتقال ہو چکا،سپریم کورٹ
جیو نیوز
ذوالفقار بھٹو کیس سے متعلق انٹرویوز اور کلپس کا ریکارڈ فراہم کرے ،سپریم
کورٹ
سپریم کورٹ نے جسٹس دراب پٹیل کے انٹرویو کا ریکارڈ بھی طلب کر لیا
سابق صدر آصف علی زرداری سپریم کورٹ سے روانہ
ججز کی دستیابی پر آئندہ سماعت کی تاریخ دی جائے گی،سپریم
کورٹ
جنوری سے صدارتی ریفرنس کی سماعت روزانہ کی بنیاد
پر ہوگی، سپریم کورٹ
جنوری میں سماعت شروع ہونے پر کوئی التوا نہیں دیا
جائے گا، سپریم کورٹ