چلاس میں بس پر فائرنگ سے شدید زخمی گلگت کی خاتون روشن بی بی کی طبعیت میں بہتری آنے لگی

عمران عمران

چلاس میں بس پر فائرنگ سے شدید زخمی  گلگت کی  خاتون روشن بی بی کی طبعیت میں بہتری آنے لگی

چلاس میں بس پر فائرنگ سے شدید زخمی  گلگت کی  خاتون روشن بی بی کی طبعیت میں بہتری آنے لگی۔ شوہر کہتے ہیں ریڑھ کی ہڈی کے قریب لگنے والی گولی اب تک نہیں نکالی جا سکی ہے۔ اس حوالےسے ڈاکٹرز مشاورت کررہے ہیں۔ ہم نیوز سے افسوسناک واقعے کا آنکھوں دیکھا حال بھی بیان کردیا۔

عزم، ہمت اور حوصلے کی جیتی جاگتی مثال۔گلگت سے تعلق رکھنے والی خاتون روشن بی بی جو سانحہ چلاس کے بعد ساری دنیا کے لئے اک روشن مثال بن گئی

روشن بی بی اور شریک حیات نے دو معصوم بچوں کے ہمراہ سنہرے مستقل کے خواب سجائے دو دسمبر کو گلگت سے کراچی کے لئے رخت سفر باندھا تھا،لیکن  کیا خبر تھی کہ راستے میں  امن دشمن حملہ آوور ہوں گے۔

روشن بی بی کے شوہر واقعے کو قیامت کا منظر قرار دیتے ہیں، ان کا کہنا ہے کہ تین جانب سے بس پرگولیاں برسائی گئیں، اس صورتحال میں اہلیہ نے دونوں بچوں کو آغوش میں لیا اور ہم تینوں پر ڈھال بن گئیں۔

ہر گولی کے آگے سیسہ پلائی دیوار بن جانے والی روشن بی بی کی کمر میں ایک یا دو نہیں چھ گولیاں آکر پیوست ہوئیں۔ اس کے باوجود چٹان جیسا حوصلہ رکھنے والی روشن بی بی نے ہمت نہ ہاری، شوہر کہتے ہیں اس صورتحال میں ڈرے،سہمے معصوم بچوں اور زخموں سے چور اہلیہ کو سنبھالنا آسان کام نہ تھا ۔

روشن بی بی نے بہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے پیاروں کو دہشتگردی کا شکار ہونے سے تو بچالیا مگر خود کراچی کے آغا خان اسپتال میں زندگی اور موت کی جنگ لڑرہی ہے۔

اسپتال میں زیر علاج روشن بی بی کے جسم سے تین گولیاں تو نکال دی گئی ہیں مگر ریڑھ کی ہڈی میں لگی گولی خود ڈاکٹرز کے لئے تشویش کا باعث بنی ہوئی ہے۔شوہر کہتے ہیں کہ پر امید ہوں کہ اہلیہ مکمل صحتیاب ہوں گی اور ہم بچوں کے ہمراہ پہلے جیسی زندگی بسر کرسکیں گے۔