نادیہ نواز
تباکو نوشی اور نوجوان نسل میں اس کی
بڑھتی ہوئی عادت
تباکو نوشی ہمارے ملک میں تیزی سے پھیلنے
والی عادت ہے۔
جس میں زیادہ نوجوان نسل شامل ہے۔
نوجوان نسل میں نہ صرف لڑکے بلکہ لڑکیوں کی
تعداد بھی دن بدن اضافہ ہورہاہے کچھ تو دو
کش لگا کر اور کچھ ہکا پی کر لطف اندوز ہوتے ہیں۔
سگرٹ نوشی وقتی طور پر انسان کو تسکین بخشتی ہے
لیکن انسان کو اندر ہی اندر ختم کر دیتی ہے۔
سکندر جن کا تعلق تحصیل وزیرآباد سے ہے
ان کے گھر والوں کا کہنا ہے جب وہ کھیتی باڑی کا کام کرتے تھے تو اپنے کام کی تھکن
کو دور کرنے کے لیے اس نے پہلی بار 15 برس کی عمر میں سگریٹ پینا شروع کر دیا تھاان
کا کہنا ہے کہ جب وہ 20 سال کی عمر کو پہنچے ان کے گلے میں گلٹیاں بننا شروع ہوئی
پھر انہوں نے گلٹیوں کا آپریشن کروایا ان کے گھر والوں کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر نے
انہیں سگرٹ پینے سے منع کیا مگر انہوں نے سگریٹ نہیں چھوڑا جب وہ 45 برس کے ہوئے
تو سکندر کو گلے کا کینسر ہو گیا ۔
سگریٹ نوشی مردوں میں نہ صرف جسمانی
بلکہ جنسی کمزوری کا بھی باعث بنتی ہے سگرٹ کے دھوے میں نکوٹین ہوتی ہے جو نہ صرف
سگریٹ پینے والوں کو بلکہ سگریٹ نہ پینے والوں کو بھی نقصان پہنچا تی ہے سکندر کی
اہلیہ کا کہنا ہے ڈاکٹر انہیں سختی سے سگریٹ پینے سے منع کیا تھا کہ اب وہ مزید
سگریٹ نوشی نہ کرے مگر وہ سگریٹ کی لت میں ایسے مبتلا تھے کہ سگریٹ چھوڑنا ان کے لیے
ممکن نہیں تھا اور 55 سال کی عمر میں گلے کے کینسر کی وجہ سے دنیا سے رخصت ہو گئے ۔
سگریٹ کی عادت نے کئی جانوں کو موت کی گھاٹ اتارا سگریٹ نوشی عمر میں 10 سال کی کمی
کر سکتی ہے تقریبا آدھے سگریٹ نوش 15 سال قبل از وقت موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں
اور ایک چوتھائی تقریبا 23 سال پہلے سگریٹ سانس اور دل کی بیماریوں اور نہ صرف
پھپھڑے بلکہ دوسری قسم کے سرطان کے امکانات کو بھی بڑھا دیتی ہے
عثمان جس کا تعلق ایک مڈل کلاس فیملی سے
ہے ان کے والد کے انتقال کے بعد وہ بہت زیادہ ذہنی دباؤ کا شکار رہتے تھے ان کا
کہنا ہے کہ وہ اپنے ذہن اسٹریس کو کم کرنے کے لیے سگریٹ نوشی کرنا شروع کر دی عثمان
نے 12 سال کی عمر میں سگریٹ پینا شروع کر دیا
ان کا کہنا ہے کہ والد کی وفات کے بعد گھر کی ذمہ داریوں کا بوجھ اور مالی پس
ماندگی اور برے دوستوں کی صحبت کی وجہ سے سگریٹ کا عادی ہو گیا لیکن بعد میں سگریٹ
نے اس کا معدہ آہستہ آہستہ خراب کا کر دیا پھر گیس ہو جانا اور منہ میں چھالے بن
جاتے جانے والے اثرات شامل ہوئے عثمان نے ڈاکٹر کو یہ علامات بتائیں تو ڈاکٹر نے
مجھے سگریٹ پینے سے منع کیا ان کا کہنا ہے کہ میں سگریٹ چھوڑنے تو نہیں لیکن پینا کم کر دیا ہے آج عثمان کی عمر 25 سال ہے اور آج ان
کو معدے کا السر ہو چکا ہے ان کا کہنا ہے سگریٹ کی عادت چھوڑنا انتہائی مشکل ہے
احتیاطی تدابیر
سگریٹ نوشی کو چھوڑنے کے کئی طریقے ہیں
اپنی مدد اپ کے تحت
اگر سگریٹ نوش باقاعدگی سے ورزش کریں
اپنے آپ کو خوش رکھے اور اپنے سگریٹ نوشی کے خیال کو کم کریں اور خود کو مصروف
رکھیں اور کوشش کریں کہ اپنے دھیان کو بٹائے تو سگریٹ نوش سگریٹ کی لت سے محفوظ ہو
سکتا ہے
دوسروں کا تعاون
اگر ڈاکٹر ، دوست , شعبہ صحت سے تعلق رکھنے والے لوگ اور ایسے لوگ
جو سگریٹ کے عادی ہیں اور فیملی تعاون سے اس عادت کو کم اور ختم کیا جا سکتا ہے
ادوایات
بیو پرو پیون: اس دوائی کے استعمال سے
سگرٹ نوشی کی عادت بہت کم ہو جاتی ہے لیکن اس کے استعمال سے نیند کی کمی ہو جاتی
ہے کے مریضوں کو اس دوائی سے منع کیا جاتا ہے
نکوٹین ریپلیسمنٹ تھیراپی (NRT) اس کی تین اقسام ہیں جیسے کہ چیونگم سکن پیج اور
انہیلر سکن پیج یا انہیلر کے اکٹھے استعمال سے سگریٹ نوشی کو چھوڑنا اسان ہو جاتا
ہے آغاز میں سگریٹ پینے کی شدید خواہش پیدا ہوتی ہے لیکن این ار ٹی کے استعمال سے
سگرٹ نوشی ترک کرنے کی شرح دگنی ہو جاتی ہے
ویرنی کلین:
اس کے استعمال سے نیم کی کمی بے چینی
اور طبیعت میں اداسی وغیرہ ہو جاتی ہے لیکن وینی کلین سگرٹ پینے کی خواہش کو کم
کرتی ہے ذہنی مریض کو ویرنی کلین کا استعمال نہیں کرنا چاہیے
تمباکو نوشی اور اس کی شرح:
15 سال اور
اس سے زیادہ عمر کے لوگ تمباکو نوشی
کرتے ہیں جن میں 31.8 فیصد مرد اور پانچ اشاریہ اٹھ فیصد خواتین ہیں
12.4 فیصد بالغ افراد تمباکو نوشی کرتے ہیں 7.7 فیصد
بغیر دھو کے تمباکو کا استعمال کرتے ہیں اور تین فیصد حقہ یا شیشہ پیتے ہیں
نوجوان
میں 13 سے 15 سال کی عمر کے لوگوں کہ تمباکو نوشی کی شرح:
10.7 فیصد تمباکو کی کوئی بھی مصنوعات استعمال کرتے ہیں
جن میں سے لڑکے.3 13 فیصد اور لڑکیاں چھ فیصد
ہیں و فیصد تمباکو نوشی کرتے ہیں اور پانچ چھ تین فیصد بغیر دویں والی تمباکو کا
استعمال کرتے ہیں سگریٹ نوشی کرنے والے نوجوانوں میں تقریبا 40 فیصد نے 10 سال کی
عمر سے پہلے سگریٹ پینا شروع کیا
تمباکو اور حکومت کے اقدامات:
حکومت نے عوامی استعمال کی تمام جگہوں
تمام پبلک ٹرانسپورٹ پر سگریٹ نوشی کو ممنوع کیا ہے ہوٹل کے مہمانوں کے کمروں میں
سگر نوشی کی اجازت نہیں ہے بیرونی جگہوں پر جیسے کہ بسوں اور ریل گاڑیوں کے اسٹیشن
پر بھی سگریٹ نوشین ممنوع ہے تباکو نوشی کے اشتہارات اور سپانسر شپ پہ بھی پابندی
عائد کر دی گئی ہے ٹی وی ریڈیو پریس میڈیا، بل بورڈ پوائنٹ آف سیل ایڈورٹائزنگ
مصنوعات کی نمائش افراد کو براہ راست نشانہ بناتی ہے حکومت نے ان سب جگہوں پر سگریٹ کی ا اشتہارات کو ممنوع کیا ہے وزارت صحت کے
مطابق ایک وارننگ تصویر سگریٹ نوشی کے پیک پر بھی لگائی جاتی ہے جس کو وارننگ پچر
کہتے ہیں تاکہ سگریٹ نوش سگریٹ کے نقصانات سے آگاہ ہو سکے