تعلق بوجھ بن جائے تو اس کو توڑنا اچھا وہ افسانہ جسے انجام تک لانا نہ ہو ممکن اسے اک خوبصورت موڑ دے کر چھوڑنا اچھا ساحر لدھیانوی طلاق اتنا برا عمل نہیں جتنا بتایا جاتا ہے۔ ایسے وقت میں جس کہ جب رشتہ ازدواج میں بندھے ہوئے دو لوگ یا ان میں سے کوئی ایک یہ محسوس کر لے کہ اب ساتھ رہنے میں مشکلات کا سامنا ہے اگر طلاق وقت پر نہ ہو تو دونوں میں ذہنی اذیت اور کئی بار جسمانی تشدد تک بات پہنچ جاتی ہے جس سے نہ صرف وہ جوڑا بلکہ اس کے ارد گرد کے لوگ اور بچے سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔ جب اور جہاں لگے کہ رشتے میں رہ کر ہم ایک دوسرے کے لیے مسائل پیدا کر رہے ہیں وہیں الگ ہو جانا چاہیے۔ ہماری سوسائٹی میں کوئی بھی طلاق ہو تو ایک طبقہ عورت کو بے وفا کہنے لگ جاتا ہے جبکہ دوسرا مرد کو بے ایمان اور غیر ذمہ دار ٹھہرا دیتا ہے۔ حالانکہ اگر نوبت طلاق تک پہنچ جائے تو طلاق ہو جانی چاہیے۔ آئیے اب میں آپ کو اس ضمن میں کچھ اور بتاتا ہوں بات یہ ہے کہ خوش اسلوبی سے طلاق یافتہ لوگ (Happily divorced) صرف ایلیٹ کلاس میں ہی ہو سکتے ہیں۔ ہمارے ہاں یعنی لوئر اور مڈل کلاس میں چونکہ عورت مکمل طور پر مرد کے رحم و کرم پر ہوتی ہے اس لیے دونوں کا الگ ہونا ناممکن کی حد مشکل ہوتا ہے۔ آبادی کا ایک بڑا طبقہ معاشی مسائل کی چکی میں اتنا پس چکا ہے کہ وہ یہ طے کرنے سے ہی قاصر ہے کہ وہ خوش ہے یا نا خوش، شادی سے پہلے زیادہ خوش تھا یا شادی کے بعد خوش ہے۔۔۔ ہم میں سے اکثر لوگ بچپن سے بڑھاپے تک معاشی مسائل کی یکسانیت کی وجہ سے یہ بتا ہی نہیں سکتے کہ ہم عمر کے کون سے حصے میں خوش تھے اور کون سے حصے میں ناخوش تھے۔ کس تعلق میں اذیت زیادہ تھی اور کس تعلق میں کم سکون زیادہ تھا۔ اس لیے زبردستی مسلط کیے گئے رشتوں میں (جنہیں قائم کرنا یا ختم کرنا ہمارے ہاتھ میں نہیں) الجھ کر ہم خود بھی اذیت اور بے سکونی میں رہتے اور پھر چڑچڑے اور فرسٹریٹڈ بچوں کو جنم دے رہے ہیں۔ ہمیں جلد یا بدیر ایک ایسی سوسائٹی تعمیر کرنی ہو گی جہاں رشتے بنانے اور توڑنے کا فیصلہ پیسہ نہیں بلکہ انسان کریں۔ جہاں شادی کی گاڑی سے کسی بھی فریق کو پوری عزت اور وقار کے ساتھ اترنے کی آزادی ہو۔ یہ تبھی ممکن ہے جب سب لوگوں بالخصوص خواتین کو معاشی خودمختاری حاصل ہو۔