کراچی میں لٹیروں کو لگام نہ ڈالی جاسکی

عرفان علی عرفان علی

 کراچی میں لٹیروں کو لگام نہ ڈالی جاسکی


کراچی میں لٹیروں کو لگام نہ ڈالی جاسکی ۔چوبیس گھنٹے کےد وران ڈاکؤوں کے ہاتھوں مزید تین شہری جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔سال نو کے پہلے مہینے میں ہی ڈکیتی مزاحمت پر  قتل افرادکی تعداد گیارہ تک جا پہنچی ۔


کراچی میں الیکشن کا ماحول ہے،لیکن سیکیورٹی انتظامات سخت ہونے کےباوجود شہر میں  لٹیرے آزاد ہیں۔  نیو کراچی سیکٹر الیون جی میں ایل پی جی فلنگ اسٹیشن پر ڈاکو واردات کے لئے آئے،، تو  مالک نے مزاحمت کی ۔ڈاکؤوں نے فائرنگ کرکے فلنگ اسٹیشن کے مالک تاج محمد کی جان لے لی۔ مقتول   چھ بچوں کا باپ اور گھر کا کفیل تھا۔ نیو کراچی یارو گوٹھ کے قریب بھی  ڈاکؤوں نے دوران لوٹ مار مزاحمت پر فائرنگ کرکے پھل فروش نوجوان گل محمد کی جان لے لی ۔مقتول کی ایک ہفتے بعد شادی ہونا تھی ۔اس سے قبل   پیر کو  گلشن اقبال گبول پارک کے قریب بھی ڈاکؤوں نے فائرنگ کر کے سترہ سالہ نوجوان کامران کو قتل کردیا تھا۔ نوجوان راجن پور  سے حصول روزگار کے سلسلے  میں کراچی آیا تھا،،  جسے موبائل فون چھیننے کے دوران چار گولیاں مار دی گئیں ۔ پولیس  نے دوران ڈکیتی قتل کے دو واقعات کا مقدمہ درج کرلیا  جبکہ گلشن اقبال میں نوجوان کو قتل کرنے والا ایک ملزم بھی گرفتار کرلیا۔ سال دوہزار چوبیس کے ابتدائی انتیس  روز میں لوٹ مار کےد وران گیارہ افراد قتل کئے جا چکے ہیں۔