کراچی میں وزیر داخلہ سندھ حارث
نواز اور وزیر اطلاعات احمد شاہ نے ووٹ کاسٹ کردیا۔
ایم کیوایم کے رہنما مصطفی کمال، فاروق ستار، پیپلز پارٹی کے رہنما سعید غنی، ڈپٹی میئر سلمان
عبداللہ مراد، رہنما جماعت اسلامی
کے حافظ نعیم نے بھی اپنا حق رائے دہی استعمال کیا۔
صوبائی وزرا نے انٹرنیٹ اور
موبائل سروس کی بندش کو مجبوری
قرار دے دیا۔
نگراں وزیر داخلہ سندھ بریگیڈیئر (ر) حارث نواز نے کلفٹن بلاک ون کے پولنگ اسٹیشن میں اپنا ووٹ کاسٹ کیا ۔ میڈیا سے گفتگو میں کہا اچھے
ماحول میں پولنگ کا عمل جاری ہے۔ شہر میں
تھریٹ تھی ہے۔
اسی لئے صرف کراچی نہیں ملک بھر
میں انٹرنیٹ اور موبائل سروس بند کرنا پڑی۔ لوگ ووٹ ڈالنے کے لئے گھروں سے نکلیں۔
نگراں وزیر اطلاعات سندھ احمد شاہ نے ضلع
جنوبی میں اپنا حق رائے دہی استعمال کیا۔ ان کا کہنا تھا سندھ حکومت نے موبائل فون
سروس معطل کرنے کی سفارش نہیں کی تھی۔ یہ فیصلہ
وفاقی حکومت کا اختیار ہے۔ کراچی میں ہم بڑے نقصان سے بچ گئے۔ صورت حال
قابو میں رہتی ہے تو سروس بحال ہو جائے گی۔
جبکہ کچھ مخصوص علاقوں میں سروس بند رکھنا پڑی،، تو بند رہے گی۔رہنما ایم کیوایم مصطفی کمال
کیماڑی حلقہ این اے دوسو بیالیس میں
اپنا ووٹ ڈالنے پہنچے۔ میڈیا سے گفتگو میں کہا لوگوں نےاپنافیصلہ دےدیاہے۔
شام کو نتیجہ آئےگا،، تواس
کےبعدہماراامتحان شروع ہوجائےگا۔رہنما ایم کیوایم فاروق ستار این اے دوسو اڑتیس پر
ووٹ ڈالنے پی آئی بی کے پولنگ اسٹیشن
پہنچے۔رہنما پیپلز پارٹی سعید غنی
نے چنیسر
گوٹھ میں اپنا ووٹ کاسٹ کیا۔
ان کا کہنا تھا پولنگ کے دن
موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بند کرنا کہاں کی عقلمندی ہے۔اس طرح الیکشن کے عمل پر سوالات اٹھیں گے۔ ڈپٹی میئر کراچی سلمان عبداللہ مراد نے این اے دوسو اکتیس
، ملیر کے پولنگ اسٹیشن میں حق رائے دہی استعمال کیا۔
امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن نے اپنے حلقہ انتخاب این اے دو
سو پچاس نارتھ ناظم آباد کے پولنگ اسٹیشن
میں اپنا حق رائے دہی استعمال کیا ۔
ان کا کہنا تھا موبائل فون کی بندش سے بدترین صورتحال ہے۔نجی کمپنیوں، چوکیداروں اور ڈرائیوروں کو پریزائنڈنگ افسر
بنا دیا گیا ہے۔ انتخابات میں دھاندلی ہوئی
کو بھرپور مزاحمت کی جائے گی۔