کراچی کےتھانہ
درخشاں میں پولیس کے مبینہ تشدد سے زیر
حراست ملزم کی ہلاکت کا واقعہ،تفتیش میں اہم انکشافات ہوگئےگرفتار تھانیدار اور ہیڈ
محرر نے ملزم کا ہلاکت کا ملبہ سابق ایس پی کلفٹن پر ڈال دیا ۔
ملزم کو تھانے سے رات گئے نامعلوم مقام پر منتقل کئے
جانے کا بھی انکشاف کردیا ، سابق ایس پی کو شامل تفتیش کرنے کا فیصلہ کرلیا گیا۔
کراچی کا تھانہ یا عقوبت
خانہ۔
تفتیش درخشاں پولیس
اسٹیشن میں زیر حراست ملزم کی ہلاکت پر کی جارہی تھیں کہ تحقیقات میں اہم انکشافات ہوگئے
کراچی پولیس چیف کی
جانب سے تشکیل دی گئی انکوائری کمیٹی کو بیانات
ریکارڈ کراتے ہوئے گرفتار ایس ایچ او اور
ہیڈ محرر نے اہم حقائق سے پردہ اٹھادیا ۔
تحقیقاتی ذرائع کے
مطابق ہلاک ملزم معیز نسیم پر تھانے میں تشدد کرنے کے شواہد نہیں ملے، گرفتار تھانیدار
اورہیڈ محرر نے ملبہ سابق ایس پی کلفٹن پر ڈالتے ہوئے کہا کہ زیر حراست ملزم کو
اتوار اور پیر کی درمیانی شب سابق ایس پی کے اسکواڈ کی جانب سے رات گئے تھانے سے
لے جایا گیا تھا
گرفتار تھانیدار
کے مطابق ایس پی کی ٹیم نے پیر کی شام
آکر ملزم کی ہلاکت کی اطلاع دی اور کہا کہ اسے دل کا دورہ پڑا ہے
گرفتار تھانیدار
کے مطابق ملزم کی لاش تھانے منتقل کرنے کے دوران نصب سی سی ٹی وی کیمروں کو بھی
بند کرایا گیا
گرفتار ایس ایچ او کے مطابق ہلاک ملزم
کون تھا اور اسے کیوں گرفتار کیا گیا ، وہ نہیں جانتے، تفتیش میں سامنے آیا
کہ ملزم کے خلاف درج نئے مقدمے کا مدعی
بھی سابق ایس پی کلفٹن کا قریبی دوست ہے ،
تفتیشی حکام کا دعویٰ ہے کہ معاملے کے اصل ذمہ داروں کا تعین کرنے کے لئے سابق ایس پی کلفٹن نئیر الحق
کو بھی شامل تفتیش کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔۔۔ ہم نیوز نے معاملے پر مؤقف جاننے
کے لئے سابق ایس پی کلفٹن نئیر الحق سے کئی بار رابطے کی کوشش کی مگر رابطہ نہیں ہوسکا۔